تمل ناڈو میں ریاستی گورنر کا اس بات پر اصرار کہ فلم وں سے سیاست کا رُخ کرنے والے تھلا پتی وجے ۱۱۸؍ اراکین کے دستخطوں کے ساتھ حتمی فہرست پیش کریں تب اُنہیں حکومت سازی کا موقع دیا جائیگا اس لئے بےجا ہے کہ کئی بار انتخابی نتائج میں سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے والی (سنگل لارجیسٹ) پارٹی کو مدعو کیا جاتا ہے جو حکومت بن جانے کے بعد ایوان میں اکثریت ثابت کرتی ہے
تمل ناڈو میں ریاستی گورنر کا اس بات پر اصرار کہ فلم وں سے سیاست کا رُخ کرنے والے تھلا پتی وجے ۱۱۸؍ اراکین کے دستخطوں کے ساتھ حتمی فہرست پیش کریں تب اُنہیں حکومت سازی کا موقع دیا جائیگا اس لئے بےجا ہے کہ کئی بار انتخابی نتائج میں سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے والی (سنگل لارجیسٹ) پارٹی کو مدعو کیا جاتا ہے جو حکومت بن جانے کے بعد ایوان میں اکثریت ثابت کرتی ہے مگر گورنر راجندر اَرلیکر ایوان کے باہر اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دے کر اب تک کی روایت سے انحراف کررہے ہیں ۔ اگر سب سے بڑی پارٹی کے پاس اراکین کی تعداد مطلوبہ تعداد سے کم ہے تب بھی گورنر حضرات نے اُس پارٹی کے لیڈر کو حکومت سازی کی دعوت دی ہے۔ اس کی کئی مثالیں موجود ہیں ۔ ۲۰۱۸ء میں کرناٹک میں کانگریس اور جے ڈی ایس نے ۱۱۷؍ اراکین کی فہرست گورنر کی خدمت میں پیش کی تھی مگر اُس وقت کے گورنر وجو بھائی والا نے اس فہرست کو نظر انداز کرکے سب سے بڑی پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر بی ایس یدی یورپا کو مدعو کیا تھا جبکہ اُن کے اراکین تعداد ۱۰۴ (درکار اکثریت سے ۹؍ سیٹیں کم) تھی۔ یدی یورپا نے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا مگر اکثریت ثابت نہ کرپانے کے ڈر سے تین دن بعد ہی استعفےٰ دے دیا۔ یدی یورپا کے پاس ۹؍ سیٹیں کم تھیں ، وجے کے پاس صرف ۵؍ سیٹیں کم ہیں ۔
سیٹیں کم ہونے کے باوجود حکومت سازی کی دعوت کی مزید کئی مثالوں میں سے ایک مثال گوا کی بھی ہے۔ ۲۰۱۷ء میں اس مختصر ریاست کی ۴۰؍ رُکنی اسمبلی میں کانگریس کی ۱۷؍ اور بی جے پی کی ۱۳؍ سیٹیں تھیں ۔ اس وقت کی گورنر مردولا سنہا کو سب سے بڑی پارٹی کانگریس کو مدعو کرنا چاہئے تھا مگر اُنہوں نے کم سیٹوں والی بی جے پی کو مدعو کیا۔ یاد کیجئے تب منوہر پاریکر نے بحیثیت وزیر اعلیٰ حلف لیا تھا۔
ایسا نہیں کہ حکومت سازی کیلئے اراکین کی مطلوبہ تعداد ہوگی تب ہی کسی پارٹی کو یا سب سے بڑی پارٹی کو دعوت دی جائیگی۔ تمل ناڈو کے گورنر راجندر اَرلیکر کو جمہوریت کی روح کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہئے۔ آئین کی دفعہ ۱۶۴ (۱) کے مطابق گورنر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وزیر اعلیٰ کے لئے مناسب اُمیدوار کا انتخاب کریں ۔ تھلاپتی وجے اس لئے مناسب اُمیدوار اور دعویدار ہیں کہ ان کی پارٹی ’’ٹی وی کے‘‘ گھاگ سیاسی جماعتوں جیسی نہیں ہے۔ اس نے اپنے پہلے ہی الیکشن میں عوامی مقبولیت کا نیا ریکارڈ قائم کرکے سب سے بڑی پارٹی بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اسی پارٹی کو اقتدار میں لانا چاہتے ہیں اور اس کے لیڈر کو وزیر اعلیٰ بنتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ’’ٹی وی کے‘‘ نے ۱۰۸؍ سیٹیں جیتی ہیں جبکہ حکومت سازی کیلئے ۱۱۸؍ سیٹیں درکار ہیں ۔ کانگریس کی حمایت کے بعد اس کے حامی اراکین کی تعداد ۱۱۳؍ تک پہنچتی ہے۔ چونکہ ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کے جیسی تمل ناڈو کی پرانی پارٹیاں جو ایک دوسرے کی حریف رہی ہیں ، اتحاد نہیں کرسکتیں اور اگر کرلیں (جس کا امکان نظر نہیں آتا کیونکہ ایم کے اسٹالن نے منع کردیا ہے) تب بھی وہ زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکتا اس لئے ریاست کے بہترین مفاد میں یہی ہے کہ اس پارٹی کو بلایا جائے جو عوام کے احساسات کی ترجمان اور اُن کی اُمیدوں کا مرکز ہے۔ بالآخر گورنر کو یہی تیقن چاہئے ہوتا ہے کہ پارٹی مستحکم حکومت قائم کرسکے اور ہم نہیں سمجھتے کہ جس کو غیر معمولی عوامی حمایت ملی ہو اس کی حکومت مضبوط نہ ہو۔