Inquilab Logo Happiest Places to Work

تصوّرِ تعلیم کی تقسیم زوالِ اُمّت کی تمہید

Updated: May 08, 2026, 3:26 PM IST | Mohammed Kafeel Qasmi | Mumbai

جامع تعلیم وہی ہے جو بندے کو اپنے رب کی معرفت بھی عطا کرے اور اسرارِ کائنات تک رسائی بھی بخشے۔

The path to progress cannot be determined by limiting knowledge, but by diving into this ocean of uncertainty. Photo: INN
ترقی کا راستہ علم کو محدود کرکے نہیں، بلکہ اس بحربیکراں میں اتر کر طے کیا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

انسانی تہذیب کے ارتقائی سفر میں تعلیم کبھی محض ذخیرۂ معلومات نہیں رہی، بلکہ ذہن و شعور کی تشکیل کا وہ لطیف عمل رہی ہے جس نے ایک طرف معنویت، حکمت اور مقاصد کی ضیاپاش کرنوں سے افراد کی باطنی تاریکیوں کو روشن کیا، تو دوسری طرف فرد کی بصیرت کو اجتماعی شعور میں ڈھال کر اقوام کو زمانے کی قیادت کے قابل بنایا۔

یہی وجہ ہے کہ قوموں کی معاشی اور تہذیبی ترقی کا مدار صرف اُن کے معدنی وسائل اور عسکری قوت پر نہیں بلکہ اُن کی علمی میراث، فکری سرمایہ اور تحقیقی شعور پر ہوتا ہے۔ اُمّت مسلمہ کا موجودہ فکری زوال، تہذیبی تنزل اور معاشی پسماندگی کے بے شمار اسباب سہی، مگر اس فکری سا نحے سے بڑا کوئی سبب نہیں کہ تعلیم کو دین و دُنیا، مذہب و سائنس اور مدرسہ و یونیورسٹی کے خانوں میں تقسیم کر کے ایسا بیانیہ تشکیل دیا گیا جیسے دونوں ایک دوسرے کی ضد ہوں یا دونوں کا حصول دو مختلف طبقاتِ فکر کے لئے مخصوص ہو۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: ٹول کا حکم، قربانی کے جانور کی عمر، مطلوبہ مال نہ ملنے پر واپس کرنا

 ایک طرف وہ تصورِ تعلیم جو انسان کو ذہنی مشین سمجھ کر عقل ِ محض کے حوالے کر دیتا ہے؛ دوسری طرف وہ زاویہ،جو شعور کو روح، اخلاق اور وجدان کے سرچشموں سے جوڑ کر سائینٹفک ایجادات اورتحقیق ِ جدید کو اکثر ’’غیر اسلامی ‘‘کی عینک سے شک کے دائرہ میں دیکھتا ہے۔  ایک طرف وہ مذہبی جماعت جو بعض عصری سوالوں کو گمرہی سے تعبیر کرتی ہے، اور دوسری طرف وہ طبقہ جو ’’جدیدیت ‘‘کے نام پر مذہب کو دقیانوسی قرار دیتا ہے۔ نتیجتاً دونوں کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے، دینی ادارے عصری تقاضوں سے غافل ہوئے، اور عصری ادارے روحانی اقدار سے محروم۔ ایک طرف ایسے علماء پیدا ہوئے جو سائنٹیفک ٹیمپرامنٹ سے تہی دامن، اور دوسری طرف ایسے ریسرچ اسکالر جووحی اِلٰہی کے شعور سے بیگانہ۔

 جب تعلیم کے اس وحدانی تصوّر میں دراڑ پڑی، تو دراصل اُمت کے فکر و شعور پر وہ کاری ضرب لگی جو آگے چل کر اجتماعی زوال کی تمہید ثابت ہوئی اور یوں اُمّت کا فکری محور بکھرتا چلا گیا۔

تاریخِ اسلامی کے وہ زرّیں ادوارجب تعلیم اس تقسیم سے بے نیاز تھی اور قرآنی صدا ’’اقراء ‘‘  علم ِ نافع کی حرمت اور جستجو کا استعارہ سمجھی جاتی تھی، تب علمی مراکز محض دینی یا صرف سائنسی علوم کی درسگاہیں نہیں تھے بلکہ قرآن و حدیث، فقہ و فلسفہ، ریاضی و طب، فلکیات و نفسیات اور علمِ کیمیاء و طبعیات کی مشق گاہیں بھی تھے۔ بغداد کا بیت الحکمۃ، قرطبہ کی جا معہ، سمرقند کا دا رالحکمہ، امام غزالی کی نظامیہ، نیشاپور کی درس گاہیں اور غرناطہ کی لائبریریاں، تصورِ تعلیم کی اسی فکری وحدت کے شاہکار تھے، جس کی وجہ سے اسلامی تہذیب ایک نئے عالمگیر عروج کی طرف بڑھ رہی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: معاشرہ میں خواتین بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنے کہ مرد

اسی غیر منقسم تصورِ تعلیم نے مسلم تاریخ کے وہ عظیم چہرے پیدا کئے جنہوں نے دونوں علوم میں ایسی خدمات انجام دیں جن کی نظیر شاید ہی کسی تہذیب میں ہو۔ امام ابو نصر فارابی، جو منطق (Logic)، فلسفہ (Philosophy)  اور نجوم  (Astronomy) کے ماہرین میں سے تھے؛ ان کی کتاب المدینۃ الفاضلہ نے فلسفہ ٔ سیاست اور عمرانیات کے بنیادی اصول وضع کیے۔ پھر ابو علی سینا، طبیب، فلسفی، منطقی اور ماہرِ ریاضیات، جن کی ’’ القانون فی الطب ‘‘ ایک طویل عرصہ تک یورپ کی میڈیکل جامعات کا مرکزی نصاب رہی۔ ریاضی کے ارتقا میں محمد بن موسیٰ الخوارزمی کے نمایاں کردار کو کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے۔ الجبرا ء کی ایجاد، الجبراء کی کتاب ’’ الکتاب المختصر فی حساب الجبر و المقابلہ ‘‘ میں فلکیاتی جداول، اور حساب کے وہ اصول جن سے یورپ کی ریاضی نے آگے بڑھ کر جدید سائنس کا ڈھانچہ تیار کیا، یہ اِن کا ہی کارنامہ ہے۔ یہی الخوارزمی ہیں جن کے نام کے لا طینی تلفظ سے بنا لفظ Algorithm دنیا کی ٹیکنالوجی کا بنیادی ستون بن چکا ہے۔ابنِ الہیثم کے Optics میں کارہائے نمایاں تاریخ میں درخشاں ہیں۔ ان کی کتاب ’’ المناظر ‘‘ نے روشنی، بصارت، انعکاس و انکسار کی سائنس کو تجرباتی بنیادوں پر قائم کیا۔ امام رازی جو فلسفہ ، طب ، کیمیا، فقہ اور علم نفسیات  کے امام تھے، ان کی کتاب ’’ الحاوی ‘‘دنیا کی پہلی بین الضابطہ میڈیکل انسائیکلوپیڈیا تھی۔پھر امام غزالی، جن کی إحیاء العلوم نے روحانیات کو زندہ کیا اور مقاصد الفلاسفہ و تہافُت الفلاسفہ نے فلسفے پر تنقیدی شعور کی بنیاد رکھی۔ وہ نہ صرف شریعت و طریقت کے ستون تھے بلکہ منطق ، فلسفہ، نفسیات اور اخلاقیات کے بھی امام تھے۔ امام غزالی کی شخصیت اسی وحدتِ علمی کی جیتی جاگتی مثال ہے جس میں دین اور عقل، روحانیت اور فکر ایک ہی نظامِ علم میں اکٹھے چلتے ہیں۔ اندلس کی سرزمین نے ایسے نادر علماء پیدا کئے جن کی تحقیقات نے یورپ کے علمی احیاء (Renaissance) کو جنم دیا۔ ’’ بدایۃ المجتہد و نہایۃ المقتصد ‘‘ کے مصنف ابن رشد، جو ایک عظیم فلسفی، فقیہ، طبیب اور قاضی تھے، ان کی کتابیں اور ارسطو کی شروحات نے یورپ کو وہ فکری بنیادیں دیں جن پر جدید سائنس کا شعور پروان چڑھا۔ وہ نہ صرف قاضی القضاۃ تھے، بلکہ طب، فلکیات، فقہ، فلسفہ، منطق اور قانون میں اعلیٰ علمی مقام رکھتے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ریاکاری سے بچیں، یہ اعمال کو ضائع کرنے کا سبب ہے

جابر بن حیان کی کیمیا، الزہراوی کی الجراحۃ، ابو ریحان البیرونی کی القانون المسعودی، الآثار الباقیہ، اور ریاضی و جغرافیہ پر بے شمار تحقیقات، یہ سب علم کی اس وسیع دنیا کا حصہ تھیں جس میں دین کی روشنی بھی تھی اور سائنس کی توانائی بھی۔ البیرونی وہ شخص تھا جو نماز کے اوقات اور سورج کے زاویوں کو ناپتے ناپتے زمین کے رداس  (جیومیٹری کی زبان میں رداس اس فاصلے کو کہتے ہیں جو کسی دائرے یا گولے کے مرکز سے اس کی بیرونی سطح تک ہو۔ اِسے نصف قُطر بھی کہاجاتا ہے) کا صحیح ترین اندازہ لگا بیٹھا۔ اسلامی تاریخ میں ان تمام شخصیات کی مرکزی خصوصیت ایک ہی تھی: ’’علمِ نافع کا حصول۔‘‘ 

تصورِ تعلیم کی یہی وحدت تھی جس نے اندلس سے بخارا تک اور بغداد سے قرطبہ تک مسلمان تہذیب کو ادوارِ عروج عطا کئے لیکن جب مدارس کو صرف مذہبی علوم تک محدود کر دیا گیا، اور جدید سائنسی و تجرباتی علوم کو الگ نظامِ تعلیم میں رکھا گیا تو ایک طبقہ دین کا پاسبان تو رہا مگر دنیاوی شعور سے محروم ہوا، اور دوسرا جدید دنیا کا ماہر تو بنا مگر روحانی ورثے سے بیگانہ ہوگیا۔ یہ تقسیم ذہنوں میں  ایک ایسی دراڑ ڈال گئی جس نے  آگے چل کر تہذیبی وحدت کو شکستہ کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے: محنت اور محنت کش کی اہمیت تعلیماتِ اسلامی میں جانئے

یہی وہ سانحہ ہے جو آج تک اُمت کے زوال کا سب سے اندوہناک سبب ہے۔علمِ نافع ایک نور ہے، ایک شعور ہے اور ایک امانت ہے۔ جس کی تقسیم انسان کو دو حصوں میں منقسم کردیتی ہے جبکہ اسلام میں پسندیدہ شخص وہ ہے جو نافع ہو اور کامل نفع بخش یقیناً و ہی شخص ہوگا جس کے اندر عقل بھی ہو اور نور بھی؛ علم بھی ہو اور کردار بھی؛ سائنس کی تحقیق بھی ہو اور دین کی حکمت بھی۔

مسلم معاشروں کا مستقبل اسی وقت بدلے گا جب ہم اپنے ماضی کی اس تعلیمی وحدت کو دوبارہ زندہ کرینگے۔ جب یونیورسٹیوں اور مدارس کے درمیان فکری ہم آہنگی پیدا ہو گی، جب ہمارے نوجوانوں کو وہی راستہ ملے گا جو رازی، ابنِ رشد اور الغزالی نے اپنایا تھا۔ ہمیں پھر سے وہی فکری فضا قائم کرنی ہوگی جس میں مسجد اور لیبارٹری، مدرسہ اور یونیورسٹی، دین وکائنات،سب ایک ہی تعلیمی نظام کا حصہ ہوں۔ آج اُمت کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ علم کو اس کی مکمل وحدت، جامعیت اور تقدیس کے ساتھ دوبارہ اپنائے، تاکہ ایک نئی صبحِ روشن جنم لے سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK