امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد یہ کمی ہوئی، بر طانوی خام تیل میں ۷؍ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
EPAPER
Updated: May 08, 2026, 3:33 PM IST | London
امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد یہ کمی ہوئی، بر طانوی خام تیل میں ۷؍ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی جبکہ سرمایہ کاروں میں بھی مثبت رجحان پیدا ہوگیا۔ عالمی مارکیٹ میں برطانوی خام تیل کی قیمت میں تقریباً ۷؍فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد اس کی قیمت ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل تک آگئی۔
دوسری جانب امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں بھی۸؍ فیصد کمی دیکھی گئی اور یہ ۹۲؍ ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ کمی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد سامنے آئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لئے ایک اہم معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔رپورٹس کے مطابق آئندہ۴۸؍گھنٹوں میں ایران کی جانب سے کئی اہم نکات پر باضابطہ ردعمل متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے میں ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی محدود کرنے پر آمادگی جبکہ امریکہ کی جانب سے بعض پابندیاں نرم کرنے اور منجمد ایرانی فنڈز جاری کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسپین: پیڈرو سانچیز نے فرانسسکا البانیز کو’’آرڈر آف سول میرٹ‘‘ سے نوازا
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے جس سے عالمی تیل سپلائی معمول پر آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد بھی تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی۔ معاشی تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو نہ صرف عالمی تیل منڈی میں استحکام آئے گا بلکہ خطے میں کشیدگی کم ہونے سے عالمی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔