Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُمہات المومنینؓ میں مثالی باہمی محبت اور ایک دوسرے کا از حد احترام تھا!

Updated: May 08, 2026, 3:52 PM IST | Muhiuddin Ghazi | Mumbai

اُمہات المومنینؓ نے جس قدر باہمی محبت واُلفت کے ساتھ مل جل کر زندگی گزاری، اللہ کے رسولؐ کی رفاقت میں بھی اور دور رفاقت کے بعد بھی، وہ بے مثال ہے۔ نہ اس کی مثال پیش کی جاسکتی ہے، اور نہ اس سے بہتر کا تصور کیا جاسکتا ہے۔

The character of the wives of the Messenger of Allah (PBUH) became a masterpiece due to the grace of his training. Muslim women need to adopt these same pure characters in their lives. Photo: INN
اللہ کے رسولؐ کی تربیت کے فیض سے امہات المومنینؓ کی سیرت شاہکار بن گئی تھی ، مسلم خواتین کو انہی پاکیزہ سیرتوں کو اپنی زندگیوں میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ تصویر: آئی این این

جب ہم خیر امت کی تاریخ کے روشن صفحات پر نظر ڈالتے ہیں تو اُمہات المومنینؓ کے حوالے سے بہت دل کش منظر سامنے آتا ہے۔ یہ منظر بتاتا ہے کہ اُمہات المومنینؓ میں آپس میں جس قدر الفت و محبت تھی، اس کی نظیر سگی بہنوں میں بھی کہاں ملتی ہوگی؟ اُمہات المومنینؓ کی باہمی اخوت کو ایمانی اخوت کی بہترین مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ اُمہات المومنینؓ کے گھروں میں کتاب وحکمت کا خوب خوب چرچا رہتا تھا، اور اس کی برکت سے ان کی زندگی روشن سے روشن تر ہوتی جاتی تھی۔ اللہ کے رسولؐ کی تربیت کے فیض سے ان کی سیرت شاہکار بن گئی تھی، ان کے دل کدورتوں سے پاک اور ان کی زبانیں بے اعتدالی سے دُور تھیں۔ ایسی پاک بیبیوںؓ کے بے مثال باہمی تعلقات کی مکمل عکاسی راویوں سے ممکن تھی اور نہ وہ کرسکے، بس کچھ جھلکیاں روایتوں کی شکل میں  محفوظ ہوگئیں۔ انہی سے بہت کچھ اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تصوّرِ تعلیم کی تقسیم زوالِ اُمّت کی تمہید

واقعہ یہ ہے کہ اُمہات المومنینؓ کی باہمی قربت نے ایک مثالی انجمن [یہاں لفظ ’انجمن‘ سے مراد کوئی پارٹی نہیں بلکہ ’ ہم نشینی‘ اور ’مشارکت‘ ہے] کی صورت اختیار کرلی تھی، اور اس انجمن کے اندر ہر وقت بے لوث محبت،سچّی دوستی اور حقیقی خیر خواہی کا دور دورہ رہتا تھا۔ وہ ایک دوسرے کی بہت قریبی سہیلیاں تھیں۔ ان کا آپس میں جتنا گہرا تعلق تھا، اتنا گہرا تعلق اپنی دوسری رشتے دار خواتین سے بھی نہیں تھا۔وہ ایک دوجے کی دم ساز اور ہم راز تھیں۔وہ جب اپنی ’سوتن‘ (ضَرَّۃٌ، ہم سر) کا ذکر کرتیں، تو صَوَاحِبْی کا لفظ استعمال کرتیں، یعنی سہیلیاں اور ہم جولیاں۔ اس انجمن کی مستقل ملاقاتیں اور نشستیں ہوا کرتی تھیں۔ کبھی اللہ کے رسولؐ کے ساتھ سب کی نشست ہوتی تھی، تو کبھی آپؐ کی   عدم موجودگی میں بھی۔ انہیں اللہ کے رسولؐ کے سامنے اپنا کوئی مشترکہ مسئلہ رکھنا ہوتا تھا، تو پہلے وہ آپس میں مشورہ بھی کر لیا کرتی تھیں، اور پھر آپس ہی میں اپنا ایک نمایندہ طے کرکے اسے اللہ کے رسولؐ کے پاس بھیجتی تھیں کہ وہ سب کی طرف سے عرض داشت پیش کرے۔ ایک بار انہوں نے حضرت اُم سلمہؓ کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا۔ ان کے الفاظ میں: کَلَّمَنِیْ صَوَاحِبِیْ اَنْ اُکَلِّمَ رَسُوْلَ اللہِ (مسند احمد)، میری سہیلیوں نے مجھ سے کہا کہ میں اللہ کے رسولؐ  سے (ایک مسئلے میں) بات کروں۔ اس بے مثال انجمن کی نشستیں اللہ کے رسول کے ساتھ روزانہ شام کو باری باری سب کے گھر میں ہوا کرتی تھیں۔(مسلم، باب القسم بین الزوجات، حدیث: ۲۷۳۴)۔ وہ بادل ناخواستہ محض اللہ کے رسولؐ کے حکم کی تعمیل میں اپنی سوتن کے گھر جمع نہیں ہوتی تھیں۔ امام نووی کہتے ہیں کہ وہ سب خوشی اور رضامندی سے اپنی کسی ایک ہم سر کے گھر جمع ہوجایا کرتی تھیں۔ (شرح نووی)۔ جب اُمہات المومنینؓ کی اس انجمن میں کسی نئی رکن کا اضافہ ہوتا تو سب اس کا گرم جوشی سے خیر مقدم کرتیں، اور اپنے اچھے جذبات اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتیں۔ اُم المومنین حضرت زینبؓ بنت جحش آپؐ کے نکاح میں آتی ہیں، نان گوشت کا ولیمہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد راوی کے بقول: اللہ کے رسولؐ  ایک ایک کرکے تمام بیویوں کے حجروں میں تشریف لے جاتے ہیں، اور سب بارک اللہ لک کہہ کر خیر وبرکت کی دعائیں دیتی ہیں  (بخاری،  مسلم)۔

یہ بھی پڑھئے: اللہ کے مہمانو! ذرا سوچو اور غور کرو

  امام قرطبی اس منظر سے متاثر ہوکر لکھتے ہیں: سوتن کی آمد پر ان کا یہ انداز بیان بتاتا ہے کہ ان کی سوچ کتنی بلند تھی، ان کا ظرف کتنا عالی تھا، ان کا ساتھ رہ کر جینے کا سلیقہ کتنا عمدہ تھا، ورنہ یہ تو سوتنوں کیلئے آپے سے باہر ہوجانے اور پاس و لحاظ بھول جانے کا موقع ہوتا ہے مگر وہ تو بہترین انسان کی بہترین بیویاں تھیں۔ (المفھم، کتاب النکاح، باب تزویج النبیؐ زینب)۔  انؓ  کی کشادہ ظرفی کا عالم یہ تھا کہ اپنے کسی بھی حق سے خوشی خوشی دستبردار ہوجایا کرتی تھیں۔ اللہ کے رسولؐ   جب بیمار ہوئے تو آپؐ کیلئے مشکل ہوگیا کہ ایک ایک دن سب کے ہاں گزاریں۔ آپؐ نے سب سے اجازت لی کہ آپؐ کی تیمار داری حضرت عائشہؓ کے یہاں رہ کر ہو۔ اس پر سب خوشدلی سے راضی ہوگئیں۔ (بخاری، کتاب الطب،  حدیث: ۵۳۹۲)
اس موقع سے حضرت عائشہؓ کے حجرہ کو شرفِ تیمار داری حاصل ہوا، لیکن کوئی ناراض ہوکر اپنے گھر نہیں بیٹھیں، تمام ازواج فراخ دلی کے ساتھ آپؐ  کے پاس حاضر رہیں اور مل جل کر آپ کی خدمت اور عیادت میں لگی رہیں۔ حضرت عائشہؓ کے الفاظ ہیں: ہم اللہ کے رسولؐ کی بیویاں سب کی سب آپؐ کے پاس تھیں، ہم میں سے کوئی ایک بھی وہاں سے ہٹی نہیں تھی: (بخاری، کتاب استئذان، حدیث: ۵۹۳۷)
 اس انجمن میں ایک دوسرے کو تحفے بھیجنے کا بھی خاص اہتمام رہتا تھا۔ کسی کے یہاں کوئی مزے دار چیز تیار ہوتی تو وہ بڑے اہتمام کے ساتھ دوسری ازواج کے گھر بھیجا کرتیں۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب الصّید، باب صید الحیتان، حدیث: ۳۲۱۸)
رسول پاکؐ  کی پاک بیویوں میں آپس میں اس قدر محبت، دلداری اور غمخواری تھی، کہ اگر آپؐ کسی ایک سے ناراض ہوجاتے تو دوسری اس پر خوش ہونے کے بجاے آپؐ کی ناراضی دُور کرنے کی کوشش کرتی۔ ایک بار آپؐ کو حضرت صفیہؓ سے کچھ ناراضی ہوگئی۔ اس دن حضرت صفیہؓ کے یہاں آپؐ کے رہنے کی باری تھی۔ حضرت صفیہؓ حضرت عائشہؓ کے پاس آئیں، اور کہا کہ میری آج کی باری تم لے لو اور میرے سلسلے میں اللہ کے رسو ل کی ناراضی دُور کرنے کی کوشش کرو۔ حضرت عائشہؓ تیار ہوگئیں، حضرت صفیہؓ کی اوڑھنی اوڑھی، اور آپؐ کے پاس جا کر بیٹھ گئیں۔ آپؐ نے دیکھ کر فرمایا: ’تم یہاں سے جاؤ آج تمہارا دن نہیں ہے۔‘ حضرت عائشہؓ نے کہا: یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اس کے بعد پوری بات بتائی تو اللہ کے رسولؐ کی ناراضی دور ہوگئی اور آپ حضرت صفیہؓ سے راضی ہوگئے۔ (سنن ابن ماجہ ، کتاب النکاح، باب المرأۃ، تَھَبُ یومھا لصاحبتھا، حدیث: ۱۹۶۹)

یہ بھی پڑھئے: حج: یہ سفر جتنا مبارک ہے اسکے تقاضے بھی اتنے ہی زیادہ ہیں

رسولؐ پاک کی رحلت کے بعد بھی اُمہات المومنینؓ کی یہ انجمن اپنی وحدت واُلفت کے ساتھ برقرار رہی، ان کی باہمی نشستیں اور مشاورتیں جاری رہیں۔ وہ گاہے گاہے کسی ایک کے گھر جمع ہوجایا کرتی تھیں (مستدرک حاکم)۔اُمہات المومنینؓ کی یہ بے مثال انجمن بہت سی دینی اور سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا انتقال ہوا تو  تمام ازواج مطہراتؓ نے مل کر پیغام بھیجا کہ جنازہ کو مسجد کے اندر سے گزاریں، وہ ان کی نماز جنازہ پڑھیں گی۔ ایسا ہی کیا گیا۔ ان کے حجروں کے سامنے جنازہ رکھ دیا گیا۔ انہوں نے نماز جنازہ ادا کی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ کچھ لوگ نکتہ چینی کررہے ہیں، کہ مسجد میں جنازہ کیوں لایا گیا۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے ان کا جواب دیا اور کہا کہ: ’’لوگ جانے بغیر تنقید کرنے میں جلد بازی کیوں کرتے ہیں؟ یہ ، مسجد سے جنازہ گزارنے پر تنقید کررہے ہیں، حالانکہ آپؐ نے سہیل ابن بیضاءؓ کی نماز جنازہ مسجد کے اندر ہی ادا فرمائی تھی‘‘۔ (مؤطا امام مالک ، کتاب الجنائز، باب الصلاۃ، علی الجنائز فی المسجد، حدیث: ۵۴۰)

ایسی تھی آپسی محبت !

اُمہات المومنینؓ کی آپس میں کس قدر محبت اور بے تکلفی ہوا کرتی تھی، اس کا ایک واقعہ حضرت عائشہؓ کی زبانی سنئے: 

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف رکھتے تھے۔ آپؐ کے ایک طرف سودہؓ تھیں۔ میں آپؐ کے لئے خزیرہ (ایک سالن) بنا کر لائی۔ میں نے سودہؓ سے کہا، تم بھی کھاؤ۔ سودہؓ نے کہا: مجھے خواہش نہیں ہے۔ میں نے کہا: کھاؤ ، ورنہ ابھی یہ تمہارے منہ پر مل دوں گی۔ سودہ نے نہیں کھایا تو میں نے اپنے ہاتھ میں سالن لگایا اور ان کے چہرے پر مَل دیا۔ آپؐ دیکھ کر مسکرا دیئے، پھر آپؐ نے سودہؓ کے ہاتھ میں سالن لگایا اور کہا تم عائشہؓ کے چہرے پر  مَل دو۔ اس کے بعد پھر آپؐ کے چہرۂ انور کے تبسم میں اضافہ ہوگیا۔ اتنے میں باہر سے حضرت عمرؓ کی آواز سنائی دی۔ آپؐ کو خیال ہوا شاید وہ ملاقات کرنے آئے ہیں۔ آپؐ نے دونوں سے کہا: اٹھو جلدی سے اپنا منہ دھو لو۔ (مسند ابی یعلی) 

اس واقعے سے اُمہات ؓ کے درمیان جو محبت، اپنائیت ، بے تکلفی اور صاف دلی جھلک رہی ہے، وہ نہایت دل کش اور بے نظیر ہے۔خاص بات یہ کہ وہ ایک دوسرے کو سمجھتی تھیں، احترام کرتی تھیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK