Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ریئل اسٹیٹ مارکیٹ ۸ء۵؍ لاکھ کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے‘‘

Updated: May 08, 2026, 3:40 PM IST | New Delhi

فکی-کے پی ایم جی کی رپورٹ میں دعویٰ جس کے مطابق ریئل اسٹیٹ سیکٹر ایک بڑی تبدیلی کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔

The real estate market in Mumbai is also growing rapidly. Photo: INN
ممبئی میں بھی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ تیزی سے ترقی کررہاہے۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ۲۰۲۵ء کے۶۵۰؍ ارب ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر۲۰۴۷ءتک۵ء۸؍ لاکھ کروڑ ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ اندازہ صنعتی تنظیم فکی اور مارکیٹ ریسرچ و مشاورتی فرم کے پی ایم جی کی ایک رپورٹ میں لگایا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ۲۰۳۴ء تک۹۰۶؍ ارب ڈالر کے نئے گھروں کی تعمیر کئے جانے کا امکان ہے اور۲۰۲۸ءتک ۴۱۰؍لاکھ مربع فٹ ریٹیل کاروبار کی نئی جگہ تیار ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریئل اسٹیٹ سیکٹر تیزی سے جدید بن رہا ہے اور مصنوعی ذہانت کو اپنانے کی سطح۲۰۲۳ء کے۵؍ فیصد سے بڑھ کر۲۰۲۵ء میں۹۱؍فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ یہ رپورٹ۱۹؍یں فکی ریئل اسٹیٹ سمٹ میں جمعرات کو جاری کی گئی ہے۔ اس کا عنوان ’فکی-کے پی ایم جی رپورٹ - ہندوستان کے ریئل اسٹیٹ منظر نامے کا نیا تصور‘ تھا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

اس میں کہا گیا ہے کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر ایک بڑی تبدیلی کے دور میں داخل ہو رہا ہے جس میں ٹیکنالوجی تیزی سے یہ طے کر رہی ہے کہ جائیدادوں کی ترقی، مارکیٹنگ اور لین دین کیسے کیا جائے؟ ریئل اسٹیٹ روزگار کی فراہمی، سرمائے کی تشکیل اور شہری ترقی میں سب سے بڑے شراکت داروں میں سے ایک ثابت ہورہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں اس مارکیٹ کے وسیع امکانات ہیں اور یہ۲۰۴۷ء تک بڑھ کر۵ء۸؍ ٹریلین (۵ء۸؍ لاکھ کروڑ ڈالر) سے بھی اوپر پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں ہندوستانی کمپنیوں کی غیر معمولی سرمایہ کاری

سمٹ میں دہلی ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھاریٹی (ریرا) کے چیئرمین  آنند کمار نے تمام متعلقہ فریقین سے ہندوستانی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو مزید مضبوط بنانے، اس کی ترقی میں تیزی لانے اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری لانے کے لئے مل کر کام کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے خریداروں اور فروخت کنندگان دونوں کے درمیان ریرا ایکٹ کے بارے میں مزید بیداری کی ضرورت پر زور دیا۔ ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھاریٹی، اتر پردیش کے چیئرمین سنجے آر بھوس ریڈی نے ریاست کی ریئل اسٹیٹ ترقی کے بارے میں تفصیل سے بتایا کہ حکومت نے اتر پردیش کو۲۰۳۰ء تک ایک لاکھ کروڑ ڈالر کی معیشت بنانے کا تصور کیا ہے جس میں اس ہدف کو حاصل کرنے میں ریئل اسٹیٹ کا اہم کردار ہوگا۔ ریاستی حکومت اس شعبے کو مزید مضبوط کرنے کے لئے سرمایہ کار دوست پالیسیاں نافذ کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK