ٹی ایم سی کے باغی گروپ نے اتوار کو لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کی۔ اتوار ہی کو اس وقت کی تصویر منظر عام پر آچکی تھی۔
ٹی ایم سی کے باغی اوراسپیکر اوم برلا۔ تصویر:آئی این این
ٹی ایم سی کے باغی گروپ نے اتوار کو لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کی۔ اتوار ہی کو اس وقت کی تصویر منظر عام پر آچکی تھی۔ تب سے اب تک اس تصویر کا راز نہیں کھلا کہ اگر ۲۰؍ اراکین پارلیمان نے، جو ٹی ایم سی کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑے اور جیت کر رکن پارلیمان بنے، اپنی مرضی سے ہنسی خوشی ممتا بنرجی کا ساتھ چھوڑا ہے تو ان کے چہروں پر اتنا اضمحلال اور مایوسی یا اُداسی کیوں تھی؟ ان میں کوئی ایک چہرا ایسا نہیں تھا جو اپنے فیصلے سے خوش دکھائی دے رہا ہو۔ کیا یہ اس لئے ہے کہ کئی دنوں سے بڑی رسہ کشی جاری تھی اور یہ لوگ بہت تھک گئے تھے؟ یہ بات ذہن میں آتی ہے مگر پھر یہ خیال بھی آتا ہے کہ سیاستدانوں کی زندگی میں مصروفیت اور رسہ کشی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ تو اس کے عادی ہوتے ہیں۔ پھر کیا بات ہے؟
بڑے اعتماد اور توانائی کے ساتھ پارٹی کا موقف عوام کے سامنے رکھنے میں ممتا کے جن سپہ سالاروں کا نام آتا ہے اُن میں سے ایک سایونی گھوش ہیں۔ سب سے زیادہ حیرت اسی نام پر ہے کہ کیا سایونی گھوش بھی، جو ممتا کی طرح سفید ساڑی اور پیروں میں سلیپر پہن کر منظر عام پر آتی تھیں، باغی ہوگئیں؟ وہ سایونی جن پر ممتا نے بھروسہ کیا اور جنہیں فلم انڈسٹری سے سیاست میں لائیں! ہرچند کہ اور بھی لوگ ہیں جن پر ممتا بنرجی کا احسان ہے مگر سب سے زیادہ تذکرہ سایونی گھوش کا ہورہا ہے۔ اُن کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ممتا نے انہیں آسنسول سے لوک سبھا الیکشن لڑنے کا موقع دیا، ہار جانے کے باوجود اُن پر بھروسہ برقرار رکھا، ٹی ایم سی میں نوجوانوں کے شعبے کا سربراہ بنایا، پھر جادو پور سے ٹکٹ دے کر کامیاب کیا اور ایوانِ پارلیمان تک پہنچایا۔ کیا سایونی نے ان تمام احسانا ت کو آنِ واحد میں فراموش کردیا؟
گمان غالب ہے کہ چند ایک کو چھوڑ کر سایونی گھوش جیسے باقیماندہ لوگوں کے پاس کہنے کیلئے کچھ ہے جو وہ کہہ نہیں رہے ہیں۔ اس کا اشارہ اس بات سے ملتا ہے کہ سایونی سے جب صحافیوں نے ایک آدھ سوال کیا تو اُن کے جواب کا مفہوم یہ تھا کہ جو بھی کہنا ہے وہ وقت آنے پر کہیں گی۔ اس کے باوجود ہمارا کہنا ہے کہ سایونی اور اُن جیسے ممتا کے احسانمندوں کو کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اتنا تو کرنا ہی چاہئے تھا کہ ترازو کے ایک پلڑے میں اپنی مجبوری کو رکھتے اور دوسرے میں دیدی کے احسانات کو، اور پھر دیکھتے کہ کون سا پلڑا بھاری ہے۔ احسان فراموشی کرنی ہی تھی تب بھی لازم تھا کہ ممتا کو فون کرکے اپنی بے وفائی پر اظہارِ ندامت اور اظہارِ معذرت کرتے۔ حیرت ہے کہ انہوں نے یہ بھی نہیں کیا۔ ممتا نے اُس ماں کی طرح جو اپنے بچوں کی غلط روش سے نالاں ہونے کے باوجود معاف کرنے کے بہانے تلاش کرتی ہے اور ان کی واپسی کی منتظر رہتی ہے، اپنے کئی اراکین پارلیمان کے لوَٹ آنے کا انتظار کیا مگر جب مایوس ہوگئیں تو کارروائی کی اور سایونی نیز مالا رائے کو علی الترتیب یوتھ وِنگ اور ویمنس وِنگ کی سربراہی سے ہٹا دیا۔
اس وقت ہمیں ممتا سے ویسی ہی ہمدردی ہے جیسی ۲۰۲۲ء میں ادھو ٹھاکرے اور ۲۰۲۳ء میں شرد پوار سے تھی جب اُن کی پارٹیوں کو توڑا گیا تھا۔ بلاشبہ سیاست میں بہت کچھ ہوتا ہے مگر موجودہ دور میں جو ہورہا ہے اور جس رفتار اور تواتر سے ہورہا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ حکمراںبی جے پی اور اس کا اتحاد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کیلئے یہ اُٹھا پٹخ کر رہے ہیں جس کی سزا متعلقہ پارٹیوں کو تو مل ہی رہی ہے، جمہوریت اور پارلیمانی نظام کی بیخ کنی بھی ہورہی ہے۔