سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے خود پرہوئے حملے کا الزام آر ایس ایس سے وابستہ افراد پر لگایا، اور دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ اختلاف رائے کو کچلنے اور طلباء کے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا گیا تھا۔
EPAPER
Updated: June 16, 2026, 4:03 PM IST | Jaipur
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے خود پرہوئے حملے کا الزام آر ایس ایس سے وابستہ افراد پر لگایا، اور دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ اختلاف رائے کو کچلنے اور طلباء کے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا گیا تھا۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے منگل کو الزام لگایا کہ جے پور میں ایک احتجاج کے دوران ان پر حملے کے پیچھے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے منسلک افراد تھے، اور دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ اختلاف رائے کو کچلنے اور طلباء کے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا گیا تھا۔سمویدھان اسکوائر پر سی جے پی کی قیادت میں ہونے والے مظاہرے سے قبل ناگپور ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے، ڈپکے نے کہا کہ وہ اس احتجاج سے باز نہیں آئیں گے اور نیٹ (یو جی) پیپر لیک کے مبینہ تنازعے پر مہم جاری رکھیں گے۔ واضح رہے کہ دپکے کو پیر کو جے پور میں ایک احتجاج کے دوران حامیوں کے کندھوں پر اٹھائے جانے کے دوران مبینہ طور پر دو افراد نے متعدد بار تھپڑ مارے تھے۔ پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں دو نوجوانوں کو حراست میں لیا ہے۔راجیش گرجر، جسےدپکے کو تھپڑ مارنے والے شخص کے طور پر شناخت کیا گیا، نے بعد میں اپنے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے سی جے پی کے کارکنوں کو ’’جہادی ذہنیت کے مچھر لوگ‘‘ قرار دیا اوردپکے پر احتجاجکے پردے میں ’’ہندوستان کو توڑنے‘‘ کی کوشش کا الزام لگایا۔اس نے مزید کہا کہ یہ ابھیجیت جو یہاں آیا ہے وہ ملک کی خدمت کے بہانے آیا ہے، لیکن دراصل ہندوستان کو توڑنے کے لیے۔ میں جے پور سے ہوں۔ میں ایک قوم پرست ہوں۔ میرا کسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں... میں ایک قوم پرست ہوں۔
जनता ने CJP वाले के साथ `थप्पड़` कांड कर दिया।
— Panchjanya (@epanchjanya) June 15, 2026
जयपुर में अभिजीत दीपके समर्थकों के साथ प्रदर्शन करने पहुँचे थे लेकिन स्वागत में कुछ युवकों ने उनको थप्पड़ ही थप्पड़ जड़ दिए।
इन आरोपी युवकों को पुलिस ने हिरासत में ले लिया है। pic.twitter.com/4XfeDk7wVM
بعد ازاں جب دپکے سے پوچھا گیا کہ اس کے خیال میں اس کا ذمہ دار کون ہے تواس نے دعویٰ کیا، ’’کچھ لوگ آر ایس ایس سے تعلق رکھتے تھے، اور اس میں کوئی نیا نہیں ہے۔ جب بھی کوئی حکومت یا ان کے نظریے کے خلاف بولتا ہے، تو وہ یہ کرتے ہیں۔‘‘انہوں نے الزام لگایا کہ یہ حملہ امتحانی بے ضابطگیوں سے متاثرہ طلباء کے خدشات سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا، "ہم اپنے مسائل سے منحرف نہیں ہوں گے؛ آپ ہم پر جتنا چاہیں حملہ کریں۔ ہم اپنا احتجاج پرامن اور جمہوری طریقے سے کریں گے۔ ہم گاندھی جی اور امبیڈکر کے راستے پر چلتے ہیں، اور یہ ہماری ستیہ گرہ ہے۔ ہم پرامن طریقے سے چلتے رہیں گے، اور اپنے کلیدیمسئلے سے منحرف نہیں ہوں گے، جس کا تعلق ایک کروڑ سے زیادہ طلباء سے ہے جو ناانصافی کا شکار ہیں، اور یونین ایجوکیشن منسٹر دھرمیندر پردھان کو اس کی ذمہ داری لینی ہوگی۔‘‘
سی جے پی کے ترجمان سورو داس نے الزام لگایا کہ حملے کے پیچھے افراد کا بی جے پی اور آر ایس ایس سے تعلق ہے، اور اس واقعے کو ’’بزدلانہ حملہ‘‘ قرار دیا۔داس نے کہا ابھیجیت دپکے پر بزدلانہ حملے کے ذمہ دار غنڈوں کا بی جے پی-آر ایس ایس سے سیاسی تعلق ہے۔ہم امن پسند شہری ہیں جو اپنے آئینی حق اختلاف اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تشدد اور دھمکیاں جائز مطالبات کو خاموش نہیں کر سکتیں۔‘‘
"Rastrawadi hun mai"
— Piyush Rai (@Benarasiyaa) June 15, 2026
The man who attacked CJP founder Abhijeet Dipke in Jaipur. https://t.co/soYd5rHpAL pic.twitter.com/tou1gFc6mJ
اس تعلق سے دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا، ’’میں سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ اگر آپ دپکے سے متفق نہیں ہیں تو بھی یہ آپ کو ان پر حملہ کرنے کا جواز فراہم نہیں کرتا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ حملہ آوروں کا تعلق کس پارٹی سے ہے، اور اسی لیے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔‘‘ اس کے علاوہ سینئر وکیل آشیش گہلوت نے بھی اس حملے پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’جب آپ کے پاس احتجاج میں شامل کرنے کے لیے کوئی نتیجہ خیز بات نہیں ہوتی، تو تشدد ہی وہ سب کچھ ہے جو آپ شامل کر سکتے ہیں۔ ابھیجیت دپکے پر جسمانی حملہ مکمل طور پر شرمناک ، جو پورے ہندوستان میں مسلسل پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔ فاشسٹ اور ان کے خوش کن لوگ پرامن احتجاج سے کیوں ڈرتے ہیں؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: کاکروچ پارٹی کے بانی پر حملہ، جہادی ذہنیت کاالزام لگایا
تاہم سی جے پی لیڈرنے ناگپور کے طلباء اور نوجوانوں سے بھی منگل کو شام۴؍ بجے سمویدھان اسکوائر پر طے شدہ احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ واضح رہے کہ سی جے پی نیٹ (یو جی) پیپر لیک کے مبینہ معاملے پر یونین ایجوکیشن منسٹر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے۔حکام نے کہا کہ مظاہرے کے لیے وسیع سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس کو ۲۰۰۰؍ سے زیادہ شرکاء کی توقع ہے۔ اس اجتماع سے قبل ناگپور بھر کے کلیدی مقامات پر بھی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔