Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی فوجی سربراہ کی ’’برطرفی‘‘

Updated: April 04, 2026, 1:35 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں اپنی قوم کے نام خطاب میں وہی سب کہا جو اُن کی پہچان بن چکا ہے۔ تضادات سے پُر اس تقریر میں ٹرمپ ایک ہارے ہوئے حکمراں کے طور پر دیکھے جاسکتے ہیں جسے پیروں تلے سے زمین کھسکنے کا احساس ہے بھی اور نہیں بھی۔ جسے ہار جانے کا احساس ہے بھی اور نہیں بھی۔

INN
آئی این این
  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں  اپنی قوم کے نام خطاب میں  وہی سب کہا جو اُن کی پہچان بن چکا ہے۔ تضادات سے پُر اس تقریر میں  ٹرمپ ایک ہارے ہوئے حکمراں  کے طور پر دیکھے جاسکتے ہیں  جسے پیروں  تلے سے زمین کھسکنے کا احساس ہے بھی اور نہیں  بھی۔ جسے ہار جانے کا احساس ہے بھی اور نہیں  بھی۔
ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے دماغ سے نہیں  سوچ رہے ہیں  بلکہ اُن کے آس پاس دو تین دماغ ہیں ۔ کبھی کسی ایک کاکہا دوہرانے لگتے ہیں  اور کبھی دوسرے کا کہا۔ اسی لئے کبھی کچھ کہتے ہیں  کبھی کچھ۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ ایران کو شکست دے چکے اور اب اُس ملک میں  کرنے کیلئے کچھ نہیں  رہ گیا ہے تو اتنی بوکھلاہٹ اور پریشانی کس بات کی ہے؟ اسی لئے اُن سے دوٹوک سوالات کئے جانے چاہئیں  اور یہ سوالات دیگر ملکوں  کے لوگوں  اور صحافیوں  سے زیادہ خود امریکہ کے لوگوں  اور صحافیوں  کو کرنے چاہئیں  کہ جب آپ جیت چکے تو جنگ کیوں  جاری ہے؟ یہ کون سا نیا جنگی رجحان ہے کہ جیت جانے کے بعد بھی جنگ جاری رہے؟ اُن سے یہ بھی پوچھا جانا چاہئے کہ جب آپ جیت چکے ہیں  تو اپنے فوجیوں  اور اُن کے کمانڈروں  اور سربراہ کو مبارکباد دینے کے بجائے عہدوں  سے برخاست کیوں  کررہے ہیں ؟ 
ابھی کل ہی کی بات ہے، ٹرمپ کے معتمد ِ خاص اور امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگس بیتھ نے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج سے کہہ دیا کہ وہ سبکدوش ہوجائیں ۔ رینڈی جارج کو استعفےٰ دینا پڑا حالانکہ ابھی اُن کی میعادِ ملازمت میں  کم از کم ایک سال باقی تھا۔ محکمۂ دفاع کے ایک سینئر افسر نے اس ضمن میں  بی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’’ہم اُن کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں  مگر اب وقت ہے کہ فوج میں  قیادت تبدیل ہو۔‘‘ ہمیں  یقین ہے کہ ایک آدھ روز میں  یہ خبر بھی آئے گی کہ اس موضوع پر امریکی صحافیوں  نے ٹرمپ سے براہ راست سوالات کئے مگر ٹرمپ نے اُن کے سوالوں  کو ہوا میں  اُڑا دیا۔ اُن کی ایک خاص بات، جو کسی بھی زاویئے سے اچھی نہیں  ہے، یہ ہے کہ سوالات کا سامنا کرنے سے نہیں  ڈرتے مگر اسی سوال کا جواب دیتے ہیں  جس کا جواب دے سکتے ہیں ۔ تقریروں  میں  بھی اکثر اوقات وہ کسی بات کو موڑ دیتے ہیں ، ہنسی مذاق کرنے لگتے ہیں  تاکہ بات آئی گئی ہوجائے، ممکری پر اُتر آتے ہیں  یا سوال کرنے والے پر برس پڑتے ہیں ۔ 
کیا امریکہ سے ہار برداشت نہیں  ہورہی ہے؟ کیا وہ اب بھی عقل کے ناخن لینے کو تیار نہیں  ہے؟ کیا ٹرمپ اب بھی اسی فراق میں  ہیں  کہ کسی طرح جیت جائیں  جس کا کوئی امکان اب باقی نہیں  رہ گیا ہے؟ کیا ٹرمپ بہر قیمت جیتنا اس لئے چاہتے ہیں  کہ وسط مدتی انتخابات میں  اُن کی لٹیا ڈوبنے کے امکانات روشن ہیں ؟ بات کچھ ایسی ہی ہے۔ وسط مدتی انتخاب میں  اگر اُن کی پارٹی ہار گئی تو اُن کے مواخذہ کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ وہ اسی سے ڈر رہے ہیں ۔ ایران جنگ اُن کیلئے بھیانک خواب ثابت ہورہی ہے وہ بھی اتنی جلدی۔ امریکہ ویتنام اتنی جلدی نہیں  ہارا تھا۔ عراق اور افغانستان میں  بھی اتنی جلدی فیصلہ نہیں  ہوا تھا۔ ایران نے ابتدائی چند دنوں  ہی میں  ٹریلر دکھا دیا تھا۔ اور اب جو فلم آگے بڑھ رہی ہے وہ تو ہوش گم کرنے والی ہے۔سنتے ہیں  کہ تلسی گبارڈ کا نمبر بھی آئیگا اور کاش پٹیل کا بھی۔ ایسا نہ ہو کہ سب کو برطرف کرتے کرتے ٹرمپ اور ہیگس بیتھ تنہا رہ جائیں !  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK