گڑیا کا جنازہ نکالنے والی غزہ کی بچیوں کے نام کھلا خط: ان بچیوں کی خبر قارئین نے یکم اپریل کے انقلاب میں پڑھی ہے۔ مضمون نگار انہی بچیوں سے مخاطب ہے۔
پیاری بچیو! یہ کھلا خط ہے۔ کھلا اس لئے تاکہ اسے اور بھی لوگ پڑھ سکیں ۔ ’’اور لوگ‘‘ کیوں ؟ اس لئے کہ دُنیا کے کروڑوں افراد آپ کے درد کو محسوس کرتے ہیں ، خواہ وہ مسئلۂ فلسطین کے تاریخی پس منظر سے واقف ہوں یا نہ ہوں اور آپ پر مسلط کی گئی جنگ کے ظالمانہ اغراض و مقاصد کا علم رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں ۔
دُنیا کو بے درد کہنا آسان ہے مگر بے درد دُنیا میں کتنے دردمند ہیں جو غزہ سے بہت دور اور قطعی ناواقف ہونے کے باوجود آپ کا، آپ کے ساتھیوں کا، آپ کے بڑوں کا اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کا درد اپنے دلوں میں بسائے ہوئے ہیں ۔ آپ چاروں بچیاں اسی درد کے حوالے سے توجہ کا مرکز بنی ہیں ۔ یاد ہے، اُس روز آپ گڑیا سے کھیل رہی تھیں ۔ مگر کیسا کھیل؟ بچیوں کا گڑیا سے کھیلنا کوئی نئی بات نہیں ، بچیاں گڑیوں سے کھیلتی ہی ہیں ، اُنہیں سلاتی ہیں ، اُن کا لباس تبدیل کرواتی ہیں ، اُن کا سنگھار کرتی ہیں ، اُن کی شادی کرتی ہیں ، کبھی کبھی نئی گڑیا کی فرمائش کرتی ہیں ، اُس کیلئے ضد کرتی ہیں ، زار و قطار روتی ہیں اور جب نئی گڑیا آجاتی ہے تو اپنی سہیلیوں کو، اُن کے والدین کو، پڑوسیوں کو اور گھر آئے مہمانوں کو بڑے فخرکے ساتھ دکھاتی ہیں ، گو یا اپنے ثروت مند ہونے کا اعلان کرتی ہیں ۔ وہ جب اپنی گڑیا دوسری بچیوں کو دکھاتی ہیں تو اُن کی نگاہ میں قابل رشک بن جاتی ہیں ۔ کبھی کبھی وہ گڑیا کیلئے لڑتی ہیں اور کبھی کبھی تو خوب لڑائی مچتی ہے ان کے درمیان۔ پھر گھر کی کوئی بڑی خاتون اُنہیں ڈانٹتی یا سمجھاتی ہیں ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ وہ مان جاتی ہیں ، پھر جس گڑیا کی وجہ سے لڑائی ہوئی تھی اُس کی شادی کے کاموں میں سب ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتی ہیں اور خود بھی بن سنور کر شادی میں شریک ہوتی ہیں ، مگر یہ کیا؟
آپ نے گڑیا کو آس پاس کی کوئی ایسی بچی تصور کرلیا جو اسرائیلی حملے میں فوت ہوئی ہے اور اب آپ اُس کا جنازہ لے کر نکلی ہیں ؟ ہم نے دیکھا تو دل بھر آیا، آپ کے چھوٹے چھوٹے سے نرم و نازک دلوں میں اتنا درد کیسے سما گیا کہ آپ نے گڑیا سے کھیلنے کے بجائے اُسے جنازہ پر رکھ کر شہر خموشاں لے جانے کی تیاری کی؟ کوئی سنگ دل ہی ہوگا جو شدید غم کے اس علامتی اظہار پر رویا نہ ہوگا۔ دُنیا میں جہاں جہاں یہ ویڈیو دیکھا گیا ہوگا، وہاں وہاں کے لوگوں کی آنکھیں بھر آئی ہوں گی۔ مگر کیا اس سے کوئی فرق پڑے گا؟ کیا اس سے کسی کی آنکھیں کھلیں گی؟ کیا بچوں کی زندگی چھین لینے یا اُن کا مستقبل غارت کرنے کا جنون ختم ہوگا؟
نہیں ، ہمیں اُمید نہیں ہے اے بیٹیو۔ اس لئے کہ دشمن کی نگاہ میں یہ استعماری نہیں ، مذہبی جنگ ہے جس میں بچوں کے قتل سے بھی حذر نہیں کیا گیا بالکل ایسے ہی جیسے بزرگوں اور عورتوں کے قتل سے دریغ نہیں کیا گیا۔ دشمن اسرائیل کا منصوبہ وسیع تر اسرائیل کے قیام کا ہے۔ اس کیلئے وہ ہر قیمت چکانے کو تیار ہے، یہ قدیم منصوبہ ہے جس پر قسطوں میں عمل ہوا اور اب اس کو نتیجہ خیز بنانے کی تیاری ہے، ورنہ سوچئے پھول جیسے بچوں پر کوئی بم گراتا ہے؟ سفاک سے سفاک انسان بھی کہیں تو رحم کھا ہی لیتا ہے۔ بلاشبہ انسانیت کی تاریخ میں ایسا بھی ہوا ہے جیسا اب ہورہا ہے مگر اتنا منظم اور اتنا سوچا سمجھا منصوبہ کہ موجودہ نسل تو فوت ہو ہی جائے، اُن بچوں کو بھی حق ِ زندگی سے محروم کردیا جائے جنہوں نے اس دُنیا کو ابھی نگاہ بھر کے دیکھا بھی نہیں ہے، شاید نہیں ہوا۔ پیاری بچیو، آپ ابھی کم عمر ہیں ، جب بڑی ہوں گی تب اس حقیقت سے واقف ہوجائیں گی کہ عموماً ظالم تین طرح کے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو مارتے نہیں ہیں ذلیل و خوار کرتے ہیں (مثلاً اُن ملکوں کے حکمراں جہاں غلامی رائج تھی اور کسی نہ کسی شکل میں اب بھی موجود ہے)، دوسرے وہ جو بتدریج موت کے منہ میں دھکیلتے ہیں (مثلاً وہ ممالک جہاں تغذیہ کی کمی ہے) اور تیسرے وہ جو نسلی تطہیر اور صفائے (جینوسائڈ) کے درپے ہوتے ہیں (مثلاً آپ کا ملک فلسطین جہاں اسرائیل جو کچھ بھی کررہا ہے وہ جینوسائڈ ہے)۔ آپ ظلم کی جو شکل دیکھ رہی ہیں وہ اس کی انتہائی شکل ہے۔
عزیز بیٹیو، آپ جہاں ہیں وہاں کے آسمان پر اکثر اوقات بمبار طیاروں کی اُڑان جاری رہتی ہوگی، آپ اُن کو دیکھتی ہوں گی مگر جب کوئی بمبار طیارہ دکھائی نہ دیتا ہوگا تو کھلے آسمان پر نگاہیں ٹک جاتی ہوں گی، ہوسکتا ہے آپ کے معصوم ذہنوں میں سوال آتا ہو کہ کیا آسمان آپ کو گڑیا کا جنازہ لے جاتے ہوئے دیکھ نہیں رہا ہے؟ کیا اُسے یہ منظر دیکھ کر غصہ نہیں آیا؟ کیا آپ کے غم میں اُس کے آنسو نہیں بہتے؟آخر وہ خاموش کیوں رہتا ہے؟
اے اپنے والدین کے جگر گوشو، یقیناً آسمان بھی غمزدہ ہوتا ہوگا کیونکہ جب بے حسی کے اِس دور میں دُنیا پوری طرح بے حس نہیں ہے تو آسمان کیسے ہوسکتا ہے؟ ہوسکتا ہے آپ دریافت کریں کہ کیا واقعی دُنیا پوری طرح بے حس نہیں ہوئی ہے؟ اس کا جواب ہے کہ ابھی بے شمار لوگ ہیں جن کی دردمندی محتاج تعارف نہیں ۔ آپ نے فلمساز کوثر بن ہانیہ کا نام سنا ہوگا۔ اُنہیں جب غزہ کی ۵؍ سالہ ہند رجب کی دردناک موت کی خبر ملی تھی تب وہ اپنی آئندہ فلم کے تانے بانے بُن رہی تھیں مگر ہند رجب کی موت سے وہ سر تا پا دہل گئیں ۔ تب ہی اُنہوں نے اُس پر ہوئے ظلم کو دُنیا کے گوشے گوشے میں پھیلانے کا عزم کیا۔ اپنی آئندہ فلم کو چھوڑ کر وہ ان چیخوں کو کہانی میں یا کہانی کو چیخوں میں پرونے لگیں اور پھر جلد ہی اُن کی نئی فلم ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ منظر عام پر تھی۔
اے دختران غزہ، یاد کیجئے بروکلین (نیویارک) میں فلپ بوہلر نامی ایک فنکار نے ۵۰؍ فٹ طویل اور ۲۰؍ فٹ اونچا میورل ‘‘دی وال آف ٹیئرس‘‘ (آنسوؤں کی دیوار) نصب کیا جس پر غزہ کے پونے دو ہزار سے زائد متوفی بچوں کے نام تحریر تھے۔ میورل پیش کرتے وقت فلپ نے دل میں اُتر جانے والی بات کہی تھی: ’’یہ کام بہت مشکل تھا کیونکہ ہر نام کے پیچھے ایک کہانی چھپی ہوئی تھی جو خاصی دردناک ہے۔‘‘ اے بیٹیو، تمہارا غم بانٹنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے مگر یاد رکھو، جو بمباری کرنے والے ہیں ، وہ دُنیا نہیں چلا رہے ہیں ۔ دُنیا کا خالق و مالک کوئی اور ہے، وہی دُنیا کو چلاتا ہے، اس کی مشیت سےکوئی واقف نہیں مگر یہ طے ہے کہ وہ رسی کو ڈھیل دیتا ہے، بعض اوقات کافی ڈھیل دیتا ہے مگر جب رسی کھینچتا ہے تب؟ اس سوال کا جواب عالمی تاریخ میں محفوظ ہے۔ غزہ کو تباہ کرنے کے درپے طاقتیں ابھی ڈھیل کے دورانیہ میں ہیں ،رسی جلد کھینچی جائیگی۔