Inquilab Logo Happiest Places to Work

الیکشن ہوگیا اب ’کریکشن‘ ہوگا!

Updated: May 12, 2026, 11:35 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

وزیر اعظم مودی کی عوام سے کفایت شعاری کی اپیل شدید تنقیدوں کی زد پر ہے اور سچ پوچھئے تو وزیر اعظم نے یا تو اس اپیل میں جلد بازی کی یا بہت تاخیر کردی۔

Narendra Modi.Photo:INN
نریندر مودی۔ تصویر:آئی این این
وزیر اعظم مودی کی عوام سے کفایت شعاری کی اپیل شدید تنقیدوں کی زد پر ہے اور سچ پوچھئے تو وزیر اعظم نے یا تو اس اپیل میں جلد بازی کی یا بہت تاخیر کردی۔ اگر یہ ایران جنگ سے پیدا شدہ حالات کے سبب ہے تو ایران جنگ ۲۸؍ فروری کو شروع ہوئی تھی تب سے اب تک کم و بیش ۷۰؍ دن گزر چکے ہیں۔ یہ اپیل اِن ۷۰؍ دنوں میں کبھی بھی ہوسکتی تھی۔ موزوں ترین وقت وہ تھا جب آبنائے ہرمز بند کی گئی اور ہندوستان آنے والے جہاز بھی رُکے ہوئے تھے۔ تبھی صاف محسوس ہورہا تھا کہ ملک میں توانائی کی قلت سے کئی ناگفتہ بہ مسائل پیدا ہوں گے مگر اُس وقت حکومت نے بار بار اور بہ اصرار کہا کہ ہمیں قلت کا سامنا نہیں ہوگا، ہمارے پاس ذخیرہ ہے، پٹرول ڈیزل ہے، سی این جی ہے، ایل پی جی ہے وغیرہ۔ کیا اُس وقت عوام کی یقین دہانی اس لئے کرائی گئی تھی کہ پانچ ریاستوں کے انتخابات قریب تھے اور بی جے پی کو خاص طور پر آسام اور بنگال کی فکر تھی۔ آسام میں اسے اقتدار بحال رکھنا تھا اور بنگال میں اقتدار پر قابض ہونا تھا؟ اس طرح، وہ اپیل جو ایک ڈیڑھ ماہ پہلے کی جاسکتی تھی نہیں کی گئی اور اس میں تاخیر ہوئی۔ 
 
 
اس میں تعجیل (جلدی) اس لئے ہوگئی کہ حکومت کا کام ہے عوام کو ہر ممکن طریقے سے تحفظ فراہم کرنا۔ اگر تحفظ کی فکر کی گئی ہوتی تو عوام کو مخاطب کرنے سے پہلے یہ دیکھا گیا ہوتا کہ کیا ہم ایران جنگ رُکوا سکتے ہیں؟ کیا ہم آبنائے ہرمز کیلئے کوئی میکانزم بنوا سکتے ہیں؟ کیا امریکہ بہادر کے دباؤ سے نکل کر روس اور ایران سے تیل کی دوبارہ درآمد کا راستہ ہموار کرسکتے ہیں؟ کیا امریکہ سے ہونے والے معاہدہ کو ٹال سکتے ہیں جس کے سبب ہمیں اب بھی ۱۸؍ فیصد ٹیرف دینا ہے جبکہ ٹرمپ کی ٹیرف وار سے پہلے ہم صفر فیصد ٹیرف ادا کرتے تھے؟ ابھی تو امریکہ سے کیا گیا معاہدہ نافذ نہیں ہوا ہے۔ اگر جاری مذاکرات ناکام ہوئے اور اس کا نفاذ شروع ہوا تو  ہمیں ہر سال ۱۰۰؍ بلین ڈالر سامان امریکہ سے درآمد کرنا ہوگا جس سے لین دین کا میزان ہی نہیں لڑکھڑائے گا، دیسی مصنوعات کے لئے بھی بڑی اڑچنیں پیدا ہوجائینگی۔ہم یہ نہیں کہتے کہ مذاکرات ناکام ہوگئے مگر کامیاب ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں چنانچہ عوام سے وزیر اعظم کی مذکورہ اپیل سے قبل مندرجہ بالا اور ان جیسی دوسری اُلجھنوں کو سلجھانے کی ضرورت تھی جن کے پیش نظر روپے پر دباؤ بڑھ رہا ہے، سونے کی درآمد میں تخفیف کی بابت سوچنا پڑ رہا ہے، تجارتی خسارہ کو روکنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے اور ایسی اپیل کرنی پڑ رہی ہے جو صاف صاف اشارہ دے رہی ہے کہ یہ معیشت کی ناکامی کا بہ اندازِ دِگر اعترف ہے۔ 
 
 
عوام سوچتے ہوں گے کہ ابھی تو ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہم دُنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بن گئے، ابھی تو اعلان ہوا تھا کہ عنقریب ہم ۵؍ کھرب ڈالر کی اکنامی بن جائینگے، ابھی تو خوش خبری دی گئی تھی کہ ہم وشو گرو ہیں اور ابھی تو ہم وِکست بھارت کی خوش خبری پر جھوم رہے تھے۔ اتنی جلدی ایسا کیا ہوگیا کہ ہم سے وہ اپیل کی گئی جو عموماً معاشی بحران کے اندیشے کے پیش نظر کی جاتی ہے۔ عوام کا اس طرح سوچنا غلط نہیں کیونکہ ہم حقائق سے منہ موڑ کر بلند بانگ دعوے کرنے، بغلیں بجانے، خوش ہونے، خوش کرنے اور اپنی پالیسیوں کی ناکامی پر خوشنما غلاف ڈالنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم غیر جانبدار ماہرین کی بھی نہیں سنتے جو خطرات سے آگاہ کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK