Inquilab Logo Happiest Places to Work

صحافیوں کی شہادت اور اسرائیلی جارحیت

Updated: August 13, 2025, 1:51 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں الجزیرہ کے پانچ اور ایک فلسطینی صحافی کی شہادت کی تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل نے ان صحافیوں کو دیدہ و دانستہ ہدف بنایا جو کسی بھی زاویئے سے قابل معافی نہیں ہے۔

Photo: INN
تصویر:آئی این این

 غزہ میں  اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں  الجزیرہ کے پانچ اور ایک فلسطینی صحافی کی شہادت کی تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل نے ان صحافیوں  کو دیدہ و دانستہ ہدف بنایا جو کسی بھی زاویئے سے قابل معافی نہیں  ہے۔ مگر اسرائیل کو تو معافی پر معافی ہی مل رہی ہے، ہمیشہ ملتی رہی ہے، اس کی جارحیت کی طویل داستان اس بات کا ثبوت ہے۔ کب کس نے اس کی نکیل کسنے کی کوشش کی؟ صحافیوں  کی شہادت کی خبر مشتہر ہونے کے بعد ہر جانب سے مذمت کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں  مگر مذمت کرنا اور پھر خاموش ہوجانا ہی تو ساری خرابی کی جڑ ہے۔ مختلف موقعوں  پر مختلف ممالک اسرائیل کی مذمت کر چکے ہیں ، تاریخ اس کی گواہ ہے مگر اکا دکا ملکوں  کو چھوڑ کر باقی سب نے اس کے ساتھ مفادات وابستہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں  کیا۔ جو قربت پہلے نہیں  تھی وہ اب ہوگئی۔ اصولی سیاست رہ ہی کہاں  گئی ہے۔ اور یہ پہلا موقع نہیں  ہے جب اسرائیلی فوج نے صحافیوں  کو دیدہ و دانستہ ہدف بنایا ہے۔ اس جنگ میں ، جو اکتوبر ۲۰۲۳ء  سے شروع ہوئی ہے، ۲۰۰؍ سے زائد صحافیوں  کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہے۔ فلسطین کے معاملے میں  ’’صحافیوں  کو بین الااقوامی قوانین کے مطابق تحفظ‘‘ حاصل ہونے کی حقیقت گھناؤنا مذاق لگتی ہے۔ یہ بات اس لئے کہی جارہی ہے کہ ادھر جو مذمتی بیانات کا سلسلہ شروع ہوا ہے ان میں  مذکورہ قوانین کا حوالہ دیا جارہا ہے۔ اسرائیل سے یہ امید ہی فضول ہے کہ وہ کسی بین الاقوامی قانون کا احترام کرے گا۔ اس نے آبادیوں  کو ٹارگیٹ کیا، عبادت گاہوں ، اسکولوں ، کالجوں ، اسپتالوں  اور راحت کاری کے اداروں  تک کو نہیں  بخشا تو کس بنیاد پر اس سے صحافیوں  کے تحفظ کی امید کی جائے؟ جس نے غذا کو ہتھیار بنا کر جنگی جرائم کی انسانیت سوز داستان رقم کی اور اب بھی اپنے اس منصوبے پر عمل پیرا ہے تو کون ہے جو اس کو روک رہا ہے؟ اس بحث میں  اقوام متحدہ کا ذکر اس لئے بے جا اور تضیع اوقات معلوم ہوتا ہے کہ اس کی افادیت تو کجا معنویت بھی باقی نہیں  رہ گئی ہے۔ اس کا کام مذمتی قرار داد منظور کرنے اور وقتاً فوقتاً انسانی حقوق کی حفاظت پر بیانات دینے کے علاوہ بھی کچھ ہو تو کوئی ہماری معلومات میں  اضافہ کرے۔ ایسا بھی تو نہیں  کہ اس کے پاس کوئی چارۂ کار نہیں  ہے۔ ماضی میں  متعدد ملکوں  پر پابندیاں  اسی نے لگائی تھیں  نا، اب کیوں  اس نے اپنے اس اختیار کو بھی بالائے طاق رکھ دیا؟ 
 اِدھر چند مغربی ملکوں  نے بیانات جاری کئے ہیں  کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں ۔ اول تو ہمیں  ’’آمادگی‘‘ ہی پر اعتراض ہے۔ اتنے برسوں  کے بعد صرف آمادگی ہے تو اس آمادگی  پر ہمارا دل آمادہ نہیں  ہے کیونکہ حالات کا تقاضا کچھ اور ہے۔  ریاست ِ فلسطین کو فی الفور تسلیم کرنا چاہئے اور تسلیم کرکے چھوڑ دینے کے بجائے انصاف کی بات کرنی چاہئے۔ انصاف کی بات ہوگی تو اسرائیل کے جنگی جرائم پر سوال اٹھے گا اور جب یہ سوال اٹھے گا تو تل ابیب کو سزا دینے پر توجہ مرکوز ہوگی۔ محض تسلیم کرلینا خوش گمانی کی بنیاد تو بنتا ہے مگر اس سے انصاف کا راستہ ہموار ہوتاد کھائی نہیں  دیتا۔  جن ملکوں  نے تسلیم کرنے کی بات کہی ہے اُن میں  سے ایک برطانیہ ہےلیکن کمالِ ہوشیاری ملاحظہ کیجئے کہ اُس نے اِس شرط کے ساتھ آمادگی ظاہر کی کہ اہلِ فلسطین مزاحمت چھوڑ دیں ۔ ایک ایسی قوم جس کی سب سے بڑی طاقت ہی مزاحمت ہے اُس سے یہ توقع کتنی حق بجانب ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK