Updated: August 30, 2025, 9:05 PM IST
| Hague
ایران کے اقوام متحدہ کے ایلچی نے ای تھری کی جانب سے سنیپ بیک نوٹیفکیشن کو `غیر قانونی، سیاست زدہ کہہ کر مسترد کر دیا، امیر سعید ایروانی کا کہنا ہے کہ `دباؤ کی حکمت عملی مسائل کو حل کرنے کے لیے نہیں بلکہ مسائل مسلط کرنے اور حکم دینے کے لیے بنائی گئی ہے، اور ایران ان کے آگے کبھی نہیں جھکے گا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی۔ تصویر: ایکس
ایران کے اقوام متحدہ کے ایلچی نے جمعے کو فرانس، جرمنی اور برطانیہ (ای تھری) کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سنیپ بیک عمل کو شروع کرنے کی کوشش کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے دباؤ ڈالنے کی ایک "غیر قانونی" کوشش قرار دیا۔نیویارک میں سلامتی کونسل کی ایک بند اجلاس کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا کہ ’’ایران فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی غیر قانونی نوٹیفکیشن کو قطعی طور پر مسترد اور مذمت کرتا ہے۔ یہ کارروائی جے سی پی او اے (جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن) کے تنازعہ حل کرنے کے طریقہ کار سے انحراف ہے۔ یہ ایک ختم ہونے والی قرارداد کو واپس لانے کی غیر قانونی کوشش ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ترکی: غزہ میں نسل کشی کےخلاف اسرائیل کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعلقات ختم
انہوں نے دلیل دی کہ ای تھری نے پہلے امریکہ کے ساتھ مل کر جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی، انہوں نے کہا: ’’وہ اب ایمانداری سے کام کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’ایران نے مسلسل سلامتی کونسل، اقوام متحدہ کے سربراہ اور ای یو کوآرڈینیٹر کو مغربی جماعتوں کی بار بار ناکامیوں اور نمایاں عدم تعمیل کے تعلق سے معلومات فراہم کی ہیں۔‘‘ایروانی نے کہا کہ ’’کل، تین یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے سلامتی کونسل کو ایک خط بھیجا جس میں نام نہاد سنیپ بیک نوٹیفکیشن عمل کا حوالہ دیا گیا تھا، جس کا واحد مقصد ایران کو بلیک میل کرنا اور سیاسی دباؤ ڈالنا تھا۔‘‘انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’ایران ڈپلومیسی کا پابند ہے، لیکن وہ دباؤ یا زبردستی کے تحت بات چیت نہیں کرے گا۔ دباؤ کی حکمت عملی مسائل کو حل کرنے کے لیے نہیں بلکہ مسائل مسلط کرنے اور حکم دینے کے لیے بنائی گئی ہے، اور ایران ان کے آگے کبھی نہیں جھکے گا۔‘‘انہوں نے خبردار کیا کہ’’ اگر روکا نہ گیا تو ای تھری کا راستہ سلامتی کونسل اور سالمیت کو شدید نقصان پہنچائے گا اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو سنگین خطرے میں ڈالے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج غزہ میں جنگ بندی نہیں کرے گی
کونسل کے بند اجلاس سے پہلے، برطانیہ نے ای تھری کی طرف سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنیپ بیک اقدامات پر ایران کو ان کی توسیعی پیشکش ابھی بھی موجود ہے، جبکہ تہران پر زور دیا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں بین الاقوامی خدشات کو دور کرے۔ای تھری ممالک کے گروپ نے جمعرات کو ایران کے ساتھ اپنے تنازعے میں اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال کرنے کا طریقہ کار شروع کیا۔یورپی ممالک نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرے اور بین الاقوامی نگراں کار کو اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کے مقامات اور اسٹاک پائلز کی نگرانی کی اجازت دے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے۲۰۱۸ء میں جوہری معاہدہ چھوڑ دیا تھا اور ایران پر اپنی پابندیاں دوبارہ عائد کر دی تھیں۔اس سال کے اوائل میں، امریکہ ایران کے ساتھ بالواسطہ جوہری مذاکرات میں داخل ہوا، لیکن اسرائیل نے جون میں ایران پر حملہ کیا،جس کے بعد عمان میں جاری چھٹے دور کی بات چیت منسوخ کر دی گئی۔۱۲؍ روزہ جنگ میں امریکہ نے ایران کے تین جوہری مقامات پر بمباری کی۔ امریکہ نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ ایران کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنا ہوگا، لیکن تہران کا کہنا ہے کہ اس کا پروگرام صرف پرامن شہری مقاصد کے لیے ہے۔