Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ میں شہیدوں کی تعداد ۶۳؍ ہزار سے تجاوز کرگئی

Updated: August 30, 2025, 12:56 PM IST | Agency | Gaza

غذا کی قلت نے ۳۲۲؍ افراد کی جان لی، ۲۴؍ گھنٹوں میں  مزید ۵؍ افراد نے بھوک سے دم توڑ دیا،۲؍ بچے شامل، ۶۱؍ افراد حملوں میں  جاں بحق ہوئے۔

Israel is also using hunger as a weapon in Gaza. It is being condemned around the world. Photo: INN
غزہ میں بھوک کو بھی اسرائیل بطور ہتھیار استعمال کررہاہے۔ دنیا بھر میں اس کی مذمت ہورہی ہے۔ تصویر: آئی این این

فلسطین اور بطور خاص غزہ کے  تعلق سے عالمی برادری کی بے حسی اور امریکہ کے حمایت یافتہ اسرائیل کے سامنے اقوام عالم کی بے بسی  نے جمعہ کو نیا سنگ میل پار کرلیا۔  ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے شروع ہونےوالے اسرائیلی حملوں  میں جاں  بحق ہونے والے فلسطینی شہریوں کی تعداد  جمعہ کو  ۶۳؍ ہزار سے تجاوز کرگئی۔  اس کی اطلاع غزہ کی وزارت صحت نے دی ہے۔  وزارت نے  بتایا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان۲۲؍ماہ سے جاری جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد۶۳؍ ہزار ۲۵؍ تک پہنچ گئی ہے۔
 یہ پیشرفت ایسے موقع پر سامنے آئی ہے، جب اسرائیل نے غزہ شہر میں اپنی کارروائیوں کو مزید توسیع دی ہے، جہاں شہری بڑے پیمانے پر بے گھر ہو رہے ہیں اور تباہی کے ساتھ ساتھ قحط کی صورتحال بھی سنگین ہو چکی ہے۔
۳۲۲؍  نے بھوک سے دم توڑ دیا
 وزارت صحت  نے بتایا کہ گزشتہ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں ۶۱؍ افراد نے جام شہادت نوش کیاجبکہ غذائی قلت نے مزید ۵؍افراد کی جان لے لی۔ان میں  ۲؍ بچے شامل ہیں۔  اس طرح یکطرفہ جنگ کے آغاز سے اب تک غذائی قلت کے باعث جاں بحق ہونے   والوں کی مجموعی تعداد۳۲۲؍ہو گئی ہے، جن میں ۱۲۱؍  بچے شامل ہیں۔  اہم بات یہ ہے کہ غذائی اجناس کے ٹرک چند کلومیٹر کے فیصلے پر غزہ کی سرحد پر کھڑے ہیں اور لوگ بھوک سے دم توڑ رہے ہیں۔ فطری طور پر ان میں بچوں اور بوڑھوں  کی بڑی تعداد ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:برطانیہ نے لندن میں اہم دفاعی نمائش میں اسرائیلی اہلکاروں کو شرکت سے روک دیا

غزہ شہر پر حملے تیز، ’’خطرناک جنگی علاقہ‘‘
اس بیچ اسرائیلی فوج نے غزہ کے سب سے بڑے شہر غزہ سٹی کو ’’خطرناک جنگی زون‘‘ قرار دیتے ہوئے یہاں اپنی جنگی  کارروائیاں  تیز کردی ہیں۔ اسرائیل کی زمینی فوج یہاں داخل ہوچکی ہے۔ تل ابیب  نے  غزہ شہر پرقبضے  کا اعلان کیا ہے۔ یہ حماس کا گڑھ سمجھا جاتاہے اور امکان ہے کہ زیادہ تر یرغمالی غزہ شہر میں ہی رکھے گئے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ پر زمینی حملے اور قبضہ  کے تعلق سے نیتن یاہو کو متنبہ کیا ہے کہ  اس سے یرغمالوں کی جان خطرے میں بڑ سکتی ہے۔
۱۰؍ لاکھ افراد کی جان کو خطرہ
 اقوام متحدہ کا اندازے میں کہا گیا ہے کہ غزہ گورنریٹ، جس میں غزہ سٹی اور قریبی علاقے شامل ہیں، تقریباً۱۰؍لاکھ افراد  پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ گاڑیوں  پر سامان لاد کر جنوبی علاقوں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔ تاہم ہر کسی کی جان کو خطرہ ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو غطریس نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ غزہ سٹی پر قبضہ  کرنے کے ارادے سے باز آجائےکیونکہ اس اقدام سے ایک بڑی انسانی تباہی کا خدشہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK