Inquilab Logo Happiest Places to Work

بڑوں پر نئی نسل کا حق

Updated: April 26, 2026, 4:34 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

اب سے پچاس برس پہلے کا قصہ ہے۔ بچوں اور نوعمروں کو جاسوسی ناول تو کیا ناول ہی پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ فلم دیکھنے کی ممانعت تھی۔ کوئی لڑکا چوری چھپے فلم دیکھنے نکل جاتا اور والدین کو خبر ہوجاتی تو اس کی شامت آجاتی۔

INN
آئی این این
اب سے پچاس برس پہلے کا قصہ ہے۔ بچوں  اور نوعمروں  کو جاسوسی ناول تو کیا ناول ہی پڑھنے کی اجازت نہیں  تھی۔ فلم دیکھنے کی ممانعت تھی۔ کوئی لڑکا چوری چھپے فلم دیکھنے نکل جاتا اور والدین کو خبر ہوجاتی تو اس کی شامت آجاتی۔ فلمی نغمے سننے کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ کرکٹ کا ’’کریز‘‘ تو بالکل نہیں  تھا مگر لڑکے گلی ڈنڈا، کبڈی وغیرہ کھیلتے تھے۔ جن لڑکوں  کو اس کا شوق ہوتا اُنہیں  اچھی نظر سے نہیں  دیکھا جاتا تھا۔ عام خیال تھا کہ ایسے بچے پڑھنے لکھنے میں  بودے ہوتے ہیں ۔
اب کوئی بچہ یا نوعمر ناول تو کیا، درسی کتب کے ماسوا کچھ بھی پڑھنے کو تیار نہیں  ہے۔ کسی کو اچھی اور سنجیدہ فلم دیکھنے سے دلچسپی نہیں  ہے۔ کسی کو فلمی نغمے سننے کا شوق نہیں  ہے جن سے زبان سیکھنے میں  مدد ملتی تھی اور کسی کو کھیل کود سے شغف نہیں  ہے۔ اس میں  شک نہیں  کہ ہر دور کے اپنے حالات ہوتے ہیں  مگر ہر دور کے حالات ماقبل کے حالات کا تسلسل بھی تو ہوتے ہیں ، ہر چیز ایک دم سے تھوڑے ہی فنا ہوتی ہے، مگر یہ دور عجیب ہے جسے ’’مافوق الفطرت‘‘ کہنے سے بھی کچھ عار نہیں  ہوسکتا مگر دور کو بُرا بھلا کہنے سے کہیں  زیادہ بہتر ہے کہ اس دور کی قباحتوں  اور کثافتوں  کے درمیان سے بہتری کی راہ نکالی جائے اور ہر وہ چیز، مشورہ، نصیحت جو بچوں  اور نوعمروں  کیلئے خیر کا باعث ہوسکتی ہے، اُن تک پہنچانی چاہئے اس احتیاط کے ساتھ کہ جوکچھ اُنہیں  سمجھایا جائے، جو اُمید اور توقع اُن سے کی جائے، اُس پر پہلے ہم خود عمل کریں ۔
مشکل یہ ہے کہ گھر کے بڑے، بچوں  اور نو عمروں  کے رجحانات سے نالاں  ہیں  مگر وہ، اُنہیں  بہتر رجحان پیدا کرنے والا ماحول فراہم نہیں  کرتے۔ وہ چاہتے ہیں  کہ موبائل سے اُن کی رغبت کم ہوجائے مگر موبائل سے بہتر کوئی شے یا ذہن دینے میں  ناکام ہیں ۔بچوں  اور نوعمروں  کی ممکنہ ناکامی دراصل گھر کے بڑوں  کی ناکامی ہے جس کا سبب بہت سی چیزوں  سے اُن کی لاعلمی، نئے دور کے تقاضوں  سے بے خبری اور غورو فکر سے دوری ہے۔ انٹرنیٹ کی دُنیا نے بچوں  اور نوعمروں  کو معلومات کے خزانے تک پہنچا دیا ہے۔ انٹرنیٹ تک رسائی بڑوں  کی بھی ہے مگر وہ اُس کے ذریعہ اپنی دلچسپی کا مواد تلاش کرتے ہیں  اور اسی میں  خوش رہتے ہیں ۔ انٹرنیٹ وسیلہ تو ایک ہی ہے مگر دو الگ طریقوں  سے استعمال ہوتا ہے۔ بچوں  اور نوعمروں  کے پڑھنے، دیکھنے اور حظ اُٹھانے کا مواد الگ ہے اور بڑوں  کا الگ۔ اسی سے اندازہ کرلیجئے کہ ان میں  تفاوت رہے گا یا ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ جب تک ہم آہنگی پیدا نہیں  ہوتی تب تک دونوں  کے موضوع مشترک نہیں  ہوسکتے۔ موضوع مشترک ہوجائیں  تب بھی بات نہیں  بنے گی کیونکہ کیا دیکھنا چاہئے اور کیا دیکھا جارہا ہے میں  اصلاح کی ضرورت بڑوں  کو بھی اُتنی ہی ہے جتنی بچوں  اور نوعمروں  کو ہے۔
اگر یہ کہا جائے تو کیا غلط ہوگا کہ آج کے بڑے، آج کے بچوں  کی رہبری اور  رہنمائی کے اُتنے اہل نہیں  ہیں  جتنے کہ ماضی کے بڑے ہوتے تھے۔ اس کا نتیجہ دیکھ لیجئے کہ بچے، بڑوں  کا ادب تو کرتے ہیں  مگر اُن کی سنتے نہیں  ہیں ۔ وہ کسی اور کی سنتے ہیں ۔ اُنہیں  وہاں  سے ہٹا کر اپنے قریب کرنے کے جتنے بھی گُر ہوسکتے ہیں  سب آزمانے پڑیں  گے تب کہیں  برف پگھلے گی۔ کیا بڑوں  کو اس ضرورت کا احساس ہے؟ ہمارے خیال میں  تو نہیں  ہے مگر یہ احساس پیدا کئے بغیر اور اس ضرورت کو پورا کئے بغیر کام نہیں  چلے گا۔ ہر نئی نسل کا اپنے بڑوں  پر حق ہوتاہے۔ وہ حق تو ادا کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK