Inquilab Logo Happiest Places to Work

کے ایل سہگل نے گلوکاری کے ساتھ ہی اداکاری میں بھی اپنی اچھی پہچان بنائی ہے

Updated: April 26, 2026, 3:06 PM IST | Anees Amrohi | Mumbai

بنگالی زبان میں بنی فلم ’دیوداس‘ کے ہیرو اُس کے ہدایتکار پی سی بروا خود تھے، مگر جب یہ فلم ہندی میں بنائی گئی تو بروا نے خود ہی مرکزی کردار کیلئے کے ایل سہگل کا انتخاب کیا اور پھر ۱۹۳۵ء میں جب فلم نمائش کیلئے پیش ہوئی تو سہگل کی اداکاری اور گلوکاری دونوں کی ہی ملک گیر تعریف ہوئی، اس کے علاوہ سہگل نے بھکت سور داس، عمر خیام، شاہجہاں اور تان سین جیسی کئی تاریخی فلموں میں کام کیا۔

K.L. Saigal. Photo: INN
کے ایل سہگل۔ تصویر: آئی این این

کندن لال سہگل کی شناخت فلم انڈسٹری کی آواز کے طور پر رہی ہے۔۱۱؍ اپریل۱۹۰۴ء کو جموں میں جالندھر کے ایک بڑے خاندان میں  ان کا جنم ہوا۔ان کے والد کا نام امر چند سہگل تھا جو، جموں کشمیر کے مہاراجہ کے یہاں تحصیل دار تھے۔ سہگل کُل پانچ بہن بھائی تھے۔ بچپن میں جب سہگل کو گانے کاشوق ہوا تو ان کے والد نے ان کے اس شوق کی سخت مخالفت کی، مگر ان کی والدہ کیسر دیوی ان کی ہمت افزائی کرتی رہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کیلئے وہ خود بھی کندن لال کے ساتھ بھجن گایا کرتی تھیں۔اس سے انہیں کافی حوصلہ ملا۔ کے ایل سہگل کی عمر بمشکل ۱۰؍ برس کی رہی ہوگی جب وہ دسہرہ کے موقع پر رام لیلا میں حصہ لینے لگے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ سیتا کا کردار ادا کرتے تھے اور اس کردار میں وہ گیت بھی خود ہی گایا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: کانن دیوی بنگال کی پہلی اداکارہ تھیں جنہیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ ملا

وقت کے ساتھ ساتھ سہگل کے دل میں گانے کا شوق بڑھتا گیا۔ انہوں نے گھر والوں سے چھپ چھپ کر موسیقی اور نغموں میں دلچسپی لینے والے صوفی سنتوں کے درمیان اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا۔ سہگل نے کبھی کسی کو اپنا باقاعدہ استاد نہیں بنایا، لیکن کم عمری میں ہی وہ جموں کے ایک صوفی سلامت اللہ کے ساتھ ریاض کرنے لگے تھے.... اور سہگل کشمیری کے نام سے گھر والوں سے چھپ کر گانا گانے لگے تھے۔

۱۹۲۸ء میں جب کے ایل سہگل کی عمر صرف ۲۴؍برس تھی وہ ملازمت کی تلاش میں دہلی گئے جہاںان کا قیام ان کے دو مسلم پنجابی ساتھیوں محمد سلام اور عبدالرزاق کے یہاں رہا۔ انہوں نے دہلی الیکٹرک ڈپارٹمنٹ میں الیکٹریشین کی حیثیت سے دو برس کام کیا۔اُس وقت اپنے بھائی رام لال سہگل کے ساتھ شاہد رہ میں رہ رہے تھے۔ ان کے بھائی ریلوے میں ملازم تھے۔ کچھ دنوں کے بعد سہگل پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک کمرہ کرایہ پر لے لیا اور پھر اکیلے رہنے لگے۔ کچھ روز تک انہوں نے ٹائپ رائٹر فروخت کرنے والے سیلس مین کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ اس درمیان دوستوں کی محفلوں میں گانا گاکر وہ اپنا شوق پورا کرتے رہے۔ یہ شوق زیادہ بڑھا تو۱۹۳۰ء میں کلکتہ چلے گئے اور وہاں نیو تھیٹر کے مالک بی این سرکار سے ملاقات کی۔ یہ دور ماسٹر نثار، کجن بائی اور مس گوہر بائی کا زمانہ تھا۔ مگر بی این سرکار، سہگل کی آواز سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے تین سو روپے ماہوار پر انہیں بطور گلوکار اور اداکار اپنے نیو تھیٹر سے وابستہ کر لیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’میں ویب شوز اور فلموں کے ذریعہ دوبارہ اپنے کریئر کا آغاز کرنا چاہتا ہوں‘‘

اس طرح ۱۹۳۲ء میں سہگل کی پہلی فلم ’محبت کے آنسو‘ نمائش کیلئے پیش کی گئی۔ اس کے بعد ’صبح کا تارا‘ اور ’زندہ لاش‘ پردۂ سیمیں کی زینت بنیں مگر ان فلموں سے سہگل کی شہرت میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہو سکا۔ ۱۹۳۳ء میں پیش کی گئی ان کی فلم ’پُران بھگت‘ کے بھجنوں نے سہگل کو مقبولِ عام بنا دیا۔ اس کے بعد ۱۹۳۵ء میں جب فلم ’چنڈی داس‘ نتن بوس کی ہدایت میں بنی اور کے ایل سہگل کو اس فلم کا ہیرو بنایا گیا تو یہ فلم اتنی کامیاب ہوئی کہ نہ صرف نتن بوس ہدایتکار کے طور پر مقبول ہوئے بلکہ کے ایل سہگل بھی فلم انڈسٹری میں ایک مقبول گلوکار اور اداکار کے طور پر کامیاب قرار دیئے گئے۔

اُسی زمانہ میںسہگل کی دوسری اہم فلم ’دیوداس‘ ریلیز ہوئی۔ حالانکہ فلم ’چنڈی داس‘کی طرح فلم ’دیوداس‘ بھی پہلے بنگلہ زبان میں بن چکی تھی اور اس کے ہدایتکار پی سی بروا تھے۔ بنگالی میں بنی فلم ’دیوداس‘ کے ہیرو خود پی سی بروا تھے، مگر جب یہ فلم ہندی میں بنائی گئی تو خود بروا نے ’دیوداس‘ کے کردار کیلئے کے ایل سہگل کا انتخاب کیا۔ کیوںکہ انہیں مکمل اعتماد تھا کہ سہگل دیوداس کے کردار کے ساتھ پورا پورا انصاف کر سکیںگے۔

۱۹۳۵ء میں جب فلم ’دیوداس‘ کی نمائش ہوئی تو کے ایل سہگل کی اداکاری اور گلوکاری دونوں کی ہی ملک گیر تعریف ہوئی۔ اس فلم کا ایک گیت ’’بالم آن بسو مورے من میں‘‘ اور دوسرا گیت ’’دکھ کے دن اب بیتت ناہی‘‘ ہر نوجوان کے ہونٹوں پر تھے۔ فلم ’دیوداس‘ کی بے پناہ مقبولیت کے ساتھ ایک بات جو  غلط  ہوئی، وہ یہ کہ اس فلم کی کامیابی کے بعد سہگل بُری طرح شراب کے عادی ہو گئے اور بنا ایک پیگ لئے کوئی بھی گانا ریکارڈ کرانا ان کے لئے مشکل ہو گیا۔

یہ بھی پڑھئے: موشمی چٹرجی نے ہر کردار کو پوری شدت کے ساتھ نبھایا

۱۹۳۷ء میں جب کندن لال سہگل میوزک کانفرنس الہ آباد میں شرکت کے لئے گئے تو وہاں پنڈت اوم کار ناتھ ٹھاکر، استاد فیاض خاں، نرائن رائو ویاس اور ونائک رائو پٹوردھن جیسی نامور ہستیاں بھی موجود تھیں، مگر سامعین سہگل کو دیکھ کر ’سہگل سہگل‘ چلّانے لگے اور انہیں اسٹیج پر آکر لوگوں کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے گیت، غزل اور بھجن سنانا پڑا۔ وہاں سہگل کے ساتھ ان کی والدہ بھی موجود تھیں۔ کیسر دیوی یہ منظر دیکھ کر اپنی آنکھوں میں بھر آئے خوشی کے آنسوئوں کو پوشیدہ نہ رکھ سکیں۔

شاستریہ راگوں پر بنے گیت گانے میں سہگل کو مہارت حاصل تھی۔ حالانکہ یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ انہوں نے زندگی میں کبھی کلاسیکل سنگیت کی باقاعدہ تعلیم نہیں لی تھی۔ ۱۲؍ برس کی عمر میں ہی وہ عمدہ گانے لگے تھے۔ ایک بار جب وہ استاد فیاض خاں صاحب کے پاس گانا سیکھنے کی خواہش لے کر گئے تو ان کا گانا سن کر استاد فیاض خان صاحب نے کہا کہ تمہیں تو موسیقی خدا کی دین ہے، تمہیں کیا کوئی سکھائے گا۔

کے ایل سہگل کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کسی بھی زبان کا گیت آسانی سے گا لیا کرتے تھے اور سازوں میں انہیں صرف طبلہ اور ہارمونیم کی ہی ضرورت پڑتی تھی۔ سہگل نے اردو، ہندی، بنگلہ، فارسی اور پنجابی زبانوں کے گیت تو گائے ہی، مگر یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ انہوں نے تمل زبان کے بھی چند گیت گائے تھے۔

فلم ’دیوداس‘ کی مقبولیت کے بعد نیو تھیٹر نے سہگل کو اپنی کئی فلموں میں مرکزی کردار دئیے، جن میں خاص طور پر ’دھرماتما، پریسیڈینٹ، دشمن، اسٹریٹ سنگراورزندگی‘ جیسی فلموں میں ان کے گیتوں کی مقبولیت کے علاوہ ان کی اداکارانہ صلاحیتوں کو بھی سراہا گیا۔ فلم ’دھرماتما‘ کا گیت ’’دنیا رنگ رنگیلی‘‘، فلم ’پریسیڈنٹ‘ کا نغمہ ’’ایک بنگلہ بنے نیارا‘‘، فلم ’دشمن‘ کا گانا ’’کروں کیا آس نراس ناہی‘‘، فلم ’اسٹریٹ سنگر‘ کا گیت ’’بابل مورا نیہر چھوٹا جائے‘‘ اور فلم’زندگی‘ کا نغمہ ’’سو جا راجکماری سوجا‘‘ بے حد مقبول ہوئے اور ہندوستان کی گلی کوچوں میں گونجنے لگے۔ جس وقت سہگل شہرت کی بلندیوں پر تھے، اس وقت نیو تھیٹر سے انہیں ۱۸۰۰؍ روپے ماہوار مل رہے تھے اور مزید ۴۰۰؍ روپے خرچ آمد و رفت کی مد میں کمپنی دے رہی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: امال ملک کا دعویٰ: ’’مرڈر‘‘ میوزک پروجیکٹ انو ملک نے مفت آفر دے کر حاصل کیا

۱۹۴۲ء میں سہگل کلکتہ سے بمبئی چلے آئے۔ ان کے ساتھیوں میں پرتھوی راج کپور، کیدار شرما اور جگدیش سیٹھی بھی بمبئی آگئے۔ یہاں رنجیت مووی ٹون کے مالک سردار چندو لال شاہ نے سہگل کو تین فلموں ’بھگت سورداس، تان سین اوربھنورا‘ میں کام کرنے کی پیشکش کی اور ایک لاکھ ۵۰؍ ہزار روپے معاوضہ طے کیا۔ بمبئی میں کالج اسٹریٹ پر ایک فلیٹ میں ان کی رہائش تھی۔ تین فلموں کے بعد سہگل واپس نیو تھیٹر چلے گئے۔

اپنے گیتوں کی مقبولیت کے پیش نظر سہگل نے ہندوستان ریکادڑنگ کمپنی کے مالک چاندی بابو سے ایک معاہدہ کیا، جس کی رُو سے انہیں گانوں کی رائلٹی ملنے لگی۔ اس سے قبل گیت کار اور گلوکار اپنے گیتوں کے حقوق فلمساز کو فروخت کر دیا کرتے تھے۔ سہگل کا چلایا ہوا رائلٹی کا طریقہ آج بھی قائم ہے۔

بمبئی میں سہگل نے گلوکارہ اور اداکارہ ثریا کے ساتھ تین فلموں میں کام کیا۔ فلم ’تدبیر‘ (۱۹۴۵ء)، ’عمر خیام‘ (۱۹۴۶ء)، اور’پروانہ‘ (۱۹۴۷ء)۔ فلم ’پروانہ‘ میں خورشید انور کی موسیقی تھی اور اس فلم کا ایک گیت ’’اے پھول ہنس کے باغ میں کلیاں کھلائے جائے‘‘ بے حد مقبول ہوا تھا۔

کے ایل سہگل بمبئی میں فلموں میں کام تو کر رہے تھے مگر مسلسل شراب نوشی سے ان کی صحت دن بہ دن گرتی جا رہی تھی۔ جب ۱۹۴۵ء میں سہگل واپس نیو تھیٹر میں گئے تو بیماری نے انہیں پوری طرح دبوچ لیا تھا۔ شراب نے ان کے جسم کو پہلے ہی کھوکھلا کر دیا تھا۔ سہگل کی آخری فلم کے طور پر اے آر کاردار کی فلم ’شاہجہاں‘ کا نام لیا جا سکتا ہے مگر اس فلم کے گیتوں کی ریکارڈنگ میں بڑی دقتوں کا سامناکرنا پڑا۔ ایک گیت تو دس دن میں ریکارڈ ہوا تھا۔ ڈاکٹروں نے انہیں شراب سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا لیکن جب ان سے گانا نہیں گایا جاتا، تو تھوڑی تھوڑی شراب دی جاتی تھی۔ اس طرح بڑی مشکل سے فلم ’شاہجہاں‘ کے نغمے ریکارڈ ہو سکے تھے مگر جب فلم ریلیز ہوئی تو سہگل کے گائے ہوئے دو نغمے ’’غم دیئے مستقل، کتنا نازک تھا دل‘‘ اور ’’جب دل ہی ٹوٹ گیا ہم جی کے کیا کریں گے‘‘ بے حد مقبول ہوئے اور سدا بہار گیتوں میں شامل ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’عاشقی ۲‘‘ کی ری ریلیز کی مانگ، شردھا کپور کے کلپ نے نئی بحث چھیڑ دی

سہگل کی حالت جب زیادہ خراب ہو ئی تو دسمبر ۱۹۴۶ء میں ان کو جالندھر لایا گیا مگر مستقل علاج کے باوجود ان کا جسم گھلتا رہا اور آخرکار ۱۸؍جنوری ۱۹۴۷ء کو ان کی روح نے جسم کا ساتھ چھوڑ دیا اور سہگل اپنے لاکھوں مدّاحوں کو اداس کرکے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی آخری خواہش کے مطابق ان کی پوری شَو یاترا کے دَوران اُن کا ہی گایا ہوا، موسیقار نوشاد کی موسیقی میں ترتیب دیا ہوا فلم ’شاہجہاں‘ کا گیت ’’جب دل ہی ٹوٹ گیا، ہم جی کے کیا کریں گے‘‘ بجایا جاتا رہا۔ دیوداس کے کردار کو فلمی پردے پر زندگی بخشنے والا کندن لال سہگل خود اپنی زندگی میں دیوداس بن کر نہایت کم عمری میں ہم سے جدا ہو گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK