Inquilab Logo Happiest Places to Work

یہ طے ہے تفرقہ پسند سیاست اپنا دفاع نہیں کرسکتی!

Updated: April 26, 2026, 4:20 PM IST | Aakar Patel | mumbai

بھارتیہ جنتا پارٹی کا ملک کے مسلمانوں کے ساتھ کیسا طرز عمل ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ مگر اُس کی یہ مجبوری دیکھئے کہ جن پالیسیوں پر عمل کرتی ہے اُن کا اظہار نہیں کرسکتی۔

INN
آئی این این
رواں  مہینے میں  ایک خبر شائع ہوئی جس کی سرخی تھی: بی جے پی کی مغربی بنگال کی فہرست میں  کوئی مسلم نام نہیں ‘‘۔ اس خبر میں  اعدادوشمار کے ذریعہ کافی تفصیل دی گئی مگر سرخی میں  جو بات کہہ دی گئی اُس کے علاوہ خبر نگار کے پاس کہنے کیلئے کچھ نہیں  تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اب ہم میں  سے بہت لوگوں  کو ایسی خبریں  نہ تو چونکاتی ہیں  نہ ہی ان کا کچھ اثر ہم پر ہوتا ہے کیونکہ ۲۰۱۴ء کے بعد سے اب تک کا ڈیٹا وہی بیان کرتا ہے جو بی جے پی چاہتی ہے۔ لوک سبھا کے گزشتہ تین انتخابات میں  بی جے پی کے ۲۸۲، ۳۰۳؍ اور ۲۶۰؍ اُمیدوار کامیاب ہوئے، ان میں  سے کوئی مسلم نہیں  ہے۔ راجیہ سبھا میں  پارٹی کے ۱۰۰؍ ایم پی ہیں ۔ ان میں  بھی مسلم کوئی نہیں  ہے۔ گزشتہ لگ بھگ ایک دہائی قبل کہا گیا تھا کہ پورے ہندوستان میں  بی جے پی کے ایک ہزار ایم ایل اے ہیں ۔ اُن میں  صرف ایک مسلم تھا۔ مرکزی کابینہ میں  کوئی مسلم نہیں  ہے اور یہ ایسی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ ہم ۱۹۴۷ء کے بعد پہلی بار کررہے ہیں ۔ یہ بات بھی ہمیں  چونکاتی نہیں  ہے کیونکہ کوئی ایک چیز جس کیلئے ہم بی جے پی کی ستائش کرسکتے ہیں  وہ دھن کا پکا ہونا ہے۔ اس نے ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو، جس سے اسے خدا واسطے کا بیر ہے، باہر کا راستہ دکھانے کا سوچا اور کر دکھایا۔ کیا یہی دھن کا پکا ہونا نہیں  ہوتا؟ جو سوچا وہ کیا، وہی کیا۔  
یہ جذبہ (کہ مسلمانوں  کو دور رکھا جائے) کتنا غلط یا کتنا صحیح ہے اس نکتے سے بحث کئے بغیر مَیں  کہنا چاہتا ہوں  کہ پارٹی کے ارباب ِ حل و عقد میں  بھی یہی جذبہ ہے اور اس کے حامیوں  میں  بھی۔ اس کے باوجود آخر کیا بات ہے کہ بی جے پی بالخصوص وزیر اعظم مودی سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس کی بات کرتے ہیں  یا ۱۴۰؍ کروڑ کی دہائی دیتے ہیں ؟ کیوں  یہ پارٹی اور اس کے لیڈر وزیر اعظم مودی کوئی ایسا نعرہ نہیں  لگاتے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ’’سب‘‘  میں  مسلمان شامل نہیں  ہیں  یا ۱۴۰؍ کروڑ کے بجائے وہ ۱۲۰؍ کروڑ (مسلمانوں  کی آبادی ۲۰؍ کروڑ کو منہا کرکے) کا ذکر کیوں  نہیں  کرتے؟ کون سی چیز ہے جو اُنہیں  اس سے روکتی ہے؟
اس سوال کے جواب میں  دو باتیں  کہی جاسکتی ہیں ۔ پہلی وہ جس کا سمجھنا کم مشکل ہے۔دراصل اس طرح کے نعرے اُن لوگوں  کو یا یوں  کہئے کہ ایک خاص طبقے کو مطمئن کرنے کیلئے ہوتے ہیں  جو سماج میں  ایسا ہی (دہرا معیار) چاہتے ہیں  کہ عملی طور پر جو کرنا ہے وہ ہم کریں  گے یا کرتے رہیں  گے مگر بیانات دیتے وقت یا تقریر کرتے وقت اس کا اشارہ نہ دیا جائے۔ اس جواب سے زیادہ لوگوں  کی تسلی نہیں  ہوگی کیونکہ اس میں  وہ دوٹوک انداز نہیں  ہے جو بی جے پی کا خاصہ ہے اور جس کیلئے بی جے پی جانی جاتی ہے۔ پارٹی یا وزیر اعظم ’’سب‘‘ لفظ کا استعمال کرتے ہیں  یا تمام ۱۴۰؍ شہریوں  کی بات کرتے ہیں  کیونکہ اگر وہ صرف اکثریتی طبقے کی بات کریں  گے تو سماج کا بڑا طبقہ اس کو قبول نہیں  کرے گا۔ یہ ہمارا مزاج، طور طریقہ یا سوچنے سمجھنے کا انداز نہیں  رہا ہے۔ انتخابی منشوروں  میں  وسو دیو کٹمب کم کی بات کون کرتا ہے؟ معاف کیجئے اپوزیشن یا اس سے وابستہ دانشور طبقہ نہیں  کرتا بلکہ بی جے پی کرتی ہے کیونکہ وسو دیو کٹمب کم کا فلسفہ اس ملک کی مٹی میں  ہے اسی لئے بیان اور تقریر میں  یہی ساری باتیں  کی جاتی ہیں  جبکہ عملاً کسی اور چیز کا نفاذ کیا جاتا ہے۔
بی جے پی کس کو نوازتی ہے وہ بھی ایک حلقہ ہے مگر یہ حلقہ پارٹی کو ووٹ دینے والوں  کے مقابلے میں  بہت مختصر ہے۔ جنہیں  نوازنا ہے ’’ڈیولپمنٹ‘‘ اُنہی کیلئے ہوتا ہے مگر بیانات اور تقریروں  میں  یا بیرونی دُنیا سے مراسم سازی یا مراسم نبھانے کے دوران بہت سی باتیں  چھپانے اور فراخدلی دکھانے کیلئے ہوتی ہے کہ ہم سب کیلئے سرگرم رہتے ہیں ۔ مگر باتیں  چھپتی کہاں  ہیں ؟ چونکہ باتیں  چھپتی نہیں  ہیں  اس لئے ہمارے سفارتکاروں  کو بیرونی ملکوں  میں  حکومت کی ترجمانی کے دوران بڑی مشقت سے گزرنا پڑتا ہے۔
سفارتکاروں  کی مشکل یا مشقت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے دورۂ امریکہ میں  ایک انٹرویو دیا۔ سوالات ڈونالڈ ٹرمپ کے سابق قومی سلامتی مشیر جنرل ایچ آر میک ماسٹر کررہے تھے جو ہندوستان کو اچھی طرح جانتے ہیں  اور یہاں  آ بھی چکے ہیں ۔انہوں  نے ایس جے شنکر سے پوچھا: ’’آپ کے ملک کے سیاسی حالات کیسے ہیں ؟ آپ جانبدار شخص نہیں  ہیں ۔ آپ کئی اہم عہدوں  پر فائز رہے ہیں ۔ کووڈ کی وباء کے دوران آپ کی حکومت کی ہندوتوا سے متعلق پالیسیوں  کے بارے میں  کافی تشویش اُبھری جن سے ہندوستان کی سیکولر شبیہ مجروح ہوسکتی ہے؟‘‘ ایس جے شنکر نے اس سوال کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا اور اس بات کا بکھان کرنے لگے کہ کووڈ کے دوران کس طرح راشن اور کیش ٹرانسفر کی پالیسی پر عمل ہوتا رہا۔ اُنہوں  نے ہندوتوا سے متعلق پالیسیوں  کا جواب نہیں  دیا۔
 
 
ہوسکتا ہے کوئی پوچھے کہ ہندوتوا سے متعلق پالیسیاں  کون سی ہیں  جن پر میک ماسٹر کو تشویش تھی۔آپ جانتے ہیں  مگر بطور اعادہ ان چند باتوں  کو سامنے رکھئے: شہریت میں  مذہب کا دخل، مسلم شادیوں  سے متعلق فوجداری قانون، طلاق سے متعلق فوجداری قانون، بیف سے متعلق قانون، گجرات میں  مسلمانوں  کو مخصوص علاقوں  ہی میں  گھر خرید پانے کے ضابطے، ملک کے صرف ایک علاقے، کشمیر، میں  بھیڑ کو کنٹرول کرنے کیلئے شاٹ گن کا استعمال، مسلمانوں  کے ساتھ ہونے والی ناانصافی یا اُنہیں  بوجھ باور کرانے کی کوشش یا کووڈ میں  اُن کے خلاف یہ مہم کہ وہ کووڈ کو پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں  وغیرہ۔جو ممالک ہندوستان کو اپنا دوست رکھتے ہیں ، اُنہیں  ایسی پالیسیوں  سے اُلجھن محسوس ہوتی ہے۔ جے شنکر نے میک ماسٹر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے نہ تو لفظ ہندوتوا کا استعمال کیا نہ ہی مذکورہ بالا قوانین یا ضابطوں  کے بارے میں  کچھ بتایا۔ انہوں  نے ایسا اس لئے کیا کہ اُن کے پاس جواب نہیں  تھا جس کے ذریعہ وہ اپنی حکومت کا دفاع کرتے۔ وہ اس بات کا اقرار نہیں  کرسکتے تھے کہ ایسی پالیسیوں  کے ذریعہ ہندوستان اپنا ہی نقصان کررہا ہے یا اپنی ہی آبادی کے ایک طبقے کو پیچھے دھکیل رہا ہے۔
معلوم ہوا کہ اُن پالیسیوں  کا دفاع نہیں  کیا جاسکتا جن پر زور و شور سے عمل ہوتا رہا اور اب بھی ہورہا ہے۔ اس سے اُن لوگوں  کو کچھ اُمید ہونی چاہئے جو ہمارے سماج کے بارے میں  فکر مند ہیں  کہ یہ کہاں  جا پہنچا ہے اور کس طرف جا رہا ہے۔ اگر ہندوستانیوں  کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے والے اپنے نظریات کے ساتھ کھڑے ہونے میں  تکلیف محسوس کرتے ہیں ، تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوتوا کی پالیسیوں  میں  دم نہیں  ہے، یہ سب کیلئے قابل قبول نہیں  ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK