Inquilab Logo Happiest Places to Work

کانن دیوی بنگال کی پہلی اداکارہ تھیں جنہیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ ملا

Updated: April 26, 2026, 2:49 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ میں کانن دیوی کو ایک ایسی شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جنہوں نے نہ صرف فلم سازی کے فن بلکہ اداکاری اور پلے بیک سنگنگ کے شعبوں میں بھی منفرد شناخت بنائی۔

Kanan Devi played an important role in giving Bengali cinema a unique identity. Photo: INN
کانن دیوی نے بنگالی سنیما کو منفرد شناخت دلانے میں اہم کردار نبھایا تھا۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ  میں کانن دیوی کو ایک ایسی شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جنہوں نے نہ صرف فلم سازی کے فن بلکہ اداکاری اور  پلے بیک سنگنگ  کے شعبوں میں بھی  منفرد شناخت بنائی۔ان کا اصل نام کانن بالا تھا۔۲۲؍ اپریل۱۹۱۶ء کو وہ مغربی بنگال کے ہاوڑہ میں ایک متوسط بنگالی خاندان میں پیدا ہوئی تھیں۔ بچپن ہی میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس کے بعد گھر کی مالی ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے کانن دیوی نے اپنی ماں کا ہاتھ بٹانا شروع کیا۔ جب وہ محض۱۰؍ برس کی تھیں، تو ایک خاندانی دوست کی مدد سے انہیں’جیوتی اسٹوڈیو‘ کی فلم جے دیو میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد کانن دیوی کو ’رادھا فلمز‘ کے بینر تلے جیوتیش بنرجی کی ہدایت کاری میں کئی فلموں میں بطور چائلڈ آرٹسٹ کام کرنے کا موقع ملا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’میں ویب شوز اور فلموں کے ذریعہ دوبارہ اپنے کریئر کا آغاز کرنا چاہتا ہوں‘‘

۱۹۳۴ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’ماں‘ ان کے فلمی کریئر کی پہلی کامیاب فلم ثابت ہوئی۔ کچھ وقت بعد وہ ’نیو تھیٹر‘ سے وابستہ ہو گئیں۔ اسی دوران ان کی ملاقات رائے چند بورال سے ہوئی، جنہوں نے انہیں ہندی فلموں میں آنے کی پیش کش کی۔۱۹۳۰ء اور ۱۹۴۰ء کی دہائیوں میں فلمی اداکار اور اداکاراؤں کو نہ صرف اداکاری کرنی پڑتی تھی بلکہ گانے بھی خود ہی گانے ہوتے تھے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کانن دیوی نے موسیقی کی تعلیم لینا شروع کی۔ انہوں نے ابتدائی موسیقی کی تعلیم استاد اللہ رکھا اور بھیشم دیو چٹرجی سے حاصل کی۔ ۱۹۳۷ء میں ریلیز ہونے والی فلم’مکتی‘ کانن دیوی  ایک اورسپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ یہ فلم مشہور ہدایت کار پی سی بروا کی ہدایت کاری میں بنی تھی۔ اس زبردست کامیابی کے بعد کانن دیوی ’نیو تھیٹر‘ کی صفِ اول کی اداکارہ بن گئیں۔ ۱۹۴۱ء میں انہوں نے نیو تھیٹر کو چھوڑ دیا اور پھر وہ ایک آزاد فنکارہ کے طور پر کام کرنے لگیں۔۱۹۴۲ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’جواب‘ ان کے کریئر کی سب سے بڑی ہٹ فلم بن کر سامنے آئی۔ اس فلم میں ان پر فلمایا گیا گانا ’دنیا ہے طوفان میل‘ اس زمانے میں سامعین میں بے حد مقبول ہوا۔اس کے بعد ہاسپٹل، ون فول اور راج لکشمی جیسی فلمیں بھی ریلیز ہوئیں، جو باکس آفس پر کامیاب رہیں۔

یہ بھی پڑھئے: موشمی چٹرجی نے ہر کردار کو پوری شدت کے ساتھ نبھایا

۱۹۴۸ء میں کانن دیوی نے ممبئی کا رُخ کیا۔ اسی سال ریلیز ہونے والی فلم ’چندرشیکھر‘ ان کی آخری ہندی فلم ثابت ہوئی، جس میں ان کے ہیرو کے کردار میں مشہور اداکار اشوک کمار نظر آئے ۔۱۹۴۹ء میں کانن دیوی نے فلم پروڈکشن کے میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے اپنے بینر ’شریمتی پکچرز‘ کے تحت کئی کامیاب فلمیں پروڈیوس کیں۔ان کے فلمی خدمات کو سراہتے ہوئے ۱۹۷۶ء میں انہیں  ہندوستانی فلم انڈسٹری کے سب سے بڑے اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ بنگال کی پہلی اداکارہ بنیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔کانن دیوی نے اپنے بینر ’شریمتی پکچرز‘ کے تحت کئی فلمیں بنائیں۔ اپنی فلموں، پس پردہ گائیکی اور عمدہ اداکاری کے ذریعے وہ شائقین کے دلوں میں ہمیشہ کیلئے بس گئیں۔کانن دیوی۱۷؍ جولائی۱۹۹۲ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK