Inquilab Logo Happiest Places to Work

حملہ آورگرفتار: وہائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کے بعد ٹرمپ کا ردِعمل آیا

Updated: April 26, 2026, 5:01 PM IST | Washington

وہائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کرنے والا حملہ آور گرفتار کر لیا گیا ہے، اس حملے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے حفاظتی اہلکاروں کی تعریف کی، ساتھ ہی پروگرام جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا، تاہم حتمی فیصلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر چھوڑ دیا۔

Image taken from the video of the moment Donald Trump was shot. Photo: X
ڈونالڈ ٹرمپ پر فائرنگ کے وقت کے ویڈیو سے لی گئی تصویر۔ تصویر: ایکس

 وہائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنا رد عمل ظاہر کیا۔  اطلاعات کے مطابق، واشنگٹن ہلٹن میں ہونے والے اس سالانہ اجلاس کے دوران ایک بندوق بردار نے وہاں موجود خاتون اول میلانیا ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس جیسے اعلیٰ امریکی حکام پر فائرنگ کر دی، جس سے افراتفری پھیل گئی۔اس تعلق سے ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ’’ سیکرٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شاندار کام کیا، انہوں نے بہادری سے فوری طور پر صورتحال پر قابو پایا۔ ‘‘انہوں نے تصدیق کی کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے تجویز دی کہ ’’پروگرام جاری رکھا جائے‘‘ تاہم حتمی فیصلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر چھوڑ دیا۔
بعد ازاں ایف بی آئی نے تصدیق کی کہ ملزم تحویل میں ہے اور واشنگٹن فیلڈ آفس کی نیشنل کیپٹل رسپانس اسکواڈ موقع پر موجود ہے۔دریں اثناء امریکی اٹارنی جینین پیرو نے بتایا کہ وہ خود ہلٹن میں موجود تھیں اور فائرنگ کی آوازیں سنیں، جس کے بعد انہیں بھی کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔ میئر مریل بووزر ہلٹن پہنچ چکی ہیں۔واضح رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹرمپ نے اپنے اعلیٰ حکام کا پاکستان جانے کا پروگرام منسوخ کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ، ٹرمپ اور وینس سمیت اعلیٰ حکام محفوظ

علاوہ ازیں وہائٹ ہاؤس میں ہوئے اس واقعہ کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی ہے، یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر اس سے قبل بھی جان لیوا حملہ ہو چکا تھا، جہاں انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران ایک حملہ آور نے انہیں اپنی گولی کا نشانہ بنایا تھا، تاہم گولی ان کی کنپٹی کو چھو کر نکل گئی تھی، حالانکہ وہ بال بال بچ گئے تھے، لیکن ان کے کان میں چوٹ آئی تھی۔ موجودہ حملہ ایران جنگ کے تناظر میں اہم ہوجاتا ہے، کیونکہ ملک کے اندر اس جنگ کی مخالفت بڑھتی جارہی ہے، اور خود ٹرمپ شیدید تنقید کی زد میں ہیں۔ مزید یہ کہ ان کی مقبولیت اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، چنانچہ یہ حملہ اسی مخالفت کا ایک اظہار تھا، یہ بات تحقیق کے بعد سامنے آئے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK