اس اخبار نے گزشتہ ماہ، ۲۰؍ اپریل کے شمارہ (صفحہ ۱۰) میں ایک فیچر بعنوان ’’مشکل الفاظ کا درست املا لکھنا کتنے طلبہ جانتے ہیں ؟‘‘ شائع کیا تھا۔ ہرچند کہ اس کیلئے اراکین انقلاب نے معدودے چند طلبہ کا اِملا جانچنے کی کوشش کی تھی مگر جو نتیجہ سامنے آیا وہ ہمارے اندازے کے عین مطابق تھا۔ پر
اس اخبار نے گزشتہ ماہ، ۲۰؍ اپریل کے شمارہ (صفحہ ۱۰) میں ایک فیچر بعنوان ’’مشکل الفاظ کا درست املا لکھنا کتنے طلبہ جانتے ہیں ؟‘‘ شائع کیا تھا۔ ہرچند کہ اس کیلئے اراکین انقلاب نے معدودے چند طلبہ کا اِملا جانچنے کی کوشش کی تھی مگر جو نتیجہ سامنے آیا وہ ہمارے اندازے کے عین مطابق تھا۔ پرانے لوگ دیگ یا دیگچی سے چاول کے چند دانے نکال کر اندازہ کر لیتے تھے کہ پوری دیگ یا دیگچی کے چاول پک چکے ہیں یا نہیں ۔ اگر اسے خود ستائی نہ سمجھا جائے تو ہم نے بھی کچھ اسی قسم کی کوشش کی تھی۔ معلوم ہوا کہ کئی طلبہ استحقاق، استدلال، اولوالعزم اور عاقبت کا درست املا نہیں لکھ پائے۔ چونکہ ہمیں یہ مشق اپنے طور پر کرنی تھی، کسی ادارہ میں جاکر وہاں کے طلبہ کا امتحان لینا نہ تو مناسب تھا نہ اس کی اجازت مل سکتی تھی اس لئے، جیسا کہ فیچر میں لکھا گیا، اس ’’سروے‘‘ کا سیمپل سائز نہایت مختصر تھا۔ چونکہ نتیجہ وہی نکلا جس کا ڈر تھا اس لئے ایسا لگتا ہے کہ اگر سیمپل سائز وسیع ہوتا تو زیادہ مایوسی ہاتھ لگتی۔
آپ جانتے ہیں کہ اس سال مہاراشٹر میں ہزاروں طلبہ بورڈ امتحان میں مراٹھی زباندانی کے پرچے میں فیل ہوئے ہیں ۔ ان میں سے بیشتر وہ ہیں جن کی مادری زبان مراٹھی ہے۔ مادری زبان میں فیل ہونا کتنا بدبختانہ ہے اس پر کوئی تبصرہ نہ کرنا ہی بہتر ہوگا۔ جس وقت یہ سطریں قلمبند کی جا رہی ہیں ہمارے سامنے اردو زباندانی میں کامیاب اور ناکام طلبہ کا ڈیٹا نہیں ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اردو زباندانی کے طلبہ کا بھی کم و بیش وہی حال ہوگا جو مراٹھی کے طلبہ کا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں اپنی رائے درست کرنے میں پس و پیش نہیں ہوگا، مگر تب بھی مجموعی صورت حال کے تعلق ہماری رائے درست ہوجائے ایسا نہیں ہوسکتا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی میڈیم کے طلبہ زباندانی کے معاملے میں کافی کمزور ہیں اور روز بہ روز زیادہ کمزور ہوتے جارہے ہیں ۔ اس کی وجوہات اظہر من الشمس ہیں اس لئے وجوہات سے بحث نہ کرتے ہوئے اگر ہم جوابدہی سے بحث کریں تو اس افسوسناک صورتحال پر روشنی ڈالے بغیر نہیں رہ سکتے کہ جب ہائر سیکنڈری کے اساتذہ سے گفتگو کی جائے تو وہ پرائمری کے اساتذہ کو مور دالزام ٹھہراتے ہیں اور جب پرائمری کے اساتذہ سے استفسار کیا جائے تو وہ گھروں کے ماحول اور والدین کے طرز عمل یا اُن کے سماجی و معاشی پس منظر کو دوش دیتے ہیں ۔گھر والوں اور والدین سے بات چیت کی جائے تو وہ اپنے مسائل نیز اپنے پڑھا لکھا نہ ہونے یا مصروف رہنے کی داستان سنانے لگتے ہیں ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ذمہ دار تو سب ہیں مگر کوئی بھی اپنی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے۔آج کل ذمہ داری منتقل کرنے کیلئے ایک بہت اچھا ہدف مل گیا ہے: موبائل۔ کہا جاتا ہے کہ ہر طرح کے بگاڑ کی اصل وجہ موبائل ہے۔ مان لیا کہ موبائل ہی وجہ ہے، وہ دورِ حاضر کا دجال ہے جس کے فتنے سے کوئی بچہ محفوظ نہیں ہے مگر والدین، گھر کے دیگر بڑے، پرائمری کے اساتذہ اور پھر سیکنڈری کے اساتذہ کیا کرتے ہیں ؟ کیا انہوں نے موبائل کے آگے ہار مان لی ہے؟
جب نہ تو والدین نہ ہی اساتذہ عام لوگوں سے بہتر زبان بولتے ہیں تو بچہ سیکھے گا کہاں سے؟ جب والدین اور اساتذہ، بچوں اور طالب علموں پر اثر انداز ہونے کی قوت سے عاری ہوچکے ہیں تو بچہ کس کو ’’فالو‘‘ کریگا؟ تب کیا وہ والدین اور اساتذہ کو ’’اَن فالو‘‘ نہیں کریگا؟ وہی تو وہ کررہا ہے اورافسوس کہ ہم فکر مند نہیں ہیں ۔