Inquilab Logo Happiest Places to Work

اس ہفتے اخبارات نے ’نیٹ پیپر لیک‘ اور مودی کے مشوروں پر تنقید کو موضوع بنایا

Updated: May 17, 2026, 8:08 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

ایک جانب نیٹ امتحان کے پیپر لیک اسکینڈل نے تعلیمی نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کئے تو دوسری طرف وزیر اعظم مودی کی جانب سے عوام کو دی گئی مختلف نصیحتوں پر اخبارات نے تفصیلی اور تنقیدی تبصرے شائع کئے۔

The cancellation of the ‘NET’ exam has once again raised serious questions about the country’s education system. Photo: INN
’نیٹ‘ امتحان کی منسوخی نے ایک بار پھر ملک کے تعلیمی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ تصویر: آئی این این

رواں ہفتے ملک کے تقریباً تمام اہم غیر اردو اخبارات میں دو موضوعات سب سے زیادہ زیرِ بحث رہے۔ ایک جانب نیٹ امتحان کے پیپر لیک اسکینڈل نے تعلیمی نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کئے تو دوسری طرف وزیر اعظم مودی کی جانب سے عوام کو دی گئی مختلف نصیحتوں پر اخبارات نے تفصیلی اور تنقیدی تبصرے شائع کئے۔ اسی طرح بنگال میں بی جے پی حکومت کے بعض متنازع فیصلے بھی اداریوں اور تجزیوں کا محور بنے رہے جبکہ آر ایس ایس کے ایک سینئر لیڈرکی پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے متعلق رائے نے سیاسی و سماجی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے : ’نیٹ‘ کا امتحان بھی ’جے ای ای‘ کی طرز پر کئی شفٹوں میں لیا جانا چاہئے

یہ قومی امانت کے ساتھ کھلی خیانت ہے
لوک مت سماچار( ہندی، ۱۳؍مئی)
’’ملک کے سب سے اہم طبی داخلہ امتحان’نیٹ‘ کی منسوخی نے ایک بار پھر ملک کے تعلیمی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ یہ محض ایک امتحان کے منسوخ ہونے کا معاملہ نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل اور پورے تعلیمی ڈھانچے کی ساکھ پر لگا ایک ایسا داغ ہے جو ہر گزرتے سال کے ساتھ گہرا ہوتا جارہا ہے۔ اگر واقعی امتحان سے قبل سوالنامہ مخصوص امیدواروں تک پہنچ چکا تھا اور اس کے متعدد سوالات اصل پرچے سے مطابقت رکھتے تھے تو یہ صرف بدعنوانی نہیں بلکہ قومی امانت کے ساتھ کھلی خیانت ہے۔ راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کی ابتدائی جانچ نے جس بڑے نیٹ ورک کی طرف اشارہ کیا ہے وہ نہایت تشویشناک ہے۔ اب جبکہ معاملہ سی بی آئی کے سپرد ہو چکا ہے تو قوم کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ آیا اس بار اصل مجرم قانون کے شکنجے میں آئیں گے یا ہمیشہ کی طرح چند درمیانی کرداروں کو قربانی کا بکرا بنا کر اصل مافیا کو بچا لیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ نیٹ امتحان میں دھاندلی اور پیپر لیک کی یہ پہلی واردات نہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہر اسکینڈل کے بعد سخت کارروائی کے دعوے تو کیے جاتے ہیں مگر کچھ وقت گزرنے کے بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ یہ بات اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ ملک میں ایک منظم تعلیمی مافیا سرگرم ہے جس کی جڑیں کوچنگ اداروں، امتحانی مراکز، بعض سرکاری اہلکاروں اور دلالوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ عناصر ذہین اور محنتی طلبہ کا حق چھین کر ایسے نااہل افراد کو آگے بڑھاتے ہیں جو پیسے یا رسوخ کے بل پر امتحانات میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہی نااہل لوگ مستقبل میں ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر اہم پیشوں میں داخل ہو کر پورےمعاشرے کیلئے خطرہ بن جاتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے : یہ خیال رہے کہ ہمیں درسگاہوں کو فرقہ پرستوں کی تجربہ گاہ بننے نہیں دینا ہے

عوام کو قومی ذمہ داریوں کا سبق پڑھایا جا رہا ہے
سامنا( مراٹھی، ۱۳؍مئی)
’’پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج برآمد ہوتے ہی وزیر اعظم مودی نے اپنے اصلی سیاسی رنگ دکھانے شروع کر دیئے ہیں۔ انتخابات مکمل ہونے تک جس معاشی بوجھ کو مصلحت کے تحت دبائے رکھا گیا تھا، اب اسے یک لخت عوام کے کندھوں پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک طرف عوام کو مہنگائی کی چکی میں پسنے کیلئے چھوڑ دیا گیا ہے اور دوسری طرف وزیر اعظم خود بیرونی دوروں کی شاہراہ پر گامزن ہیں۔ جاتے جاتے انہوں نے عوام کو یہ مفت مشورہ بھی دے ڈالا کہ آنے والے کچھ ماہ تک غیر ملکی دوروں سے پرہیز کریں تاکہ زرمبادلہ بچایا جا سکے۔ عوام سے کہا جا رہا ہے کہ پیٹرول، ڈیزل اور خوردنی تیل کا استعمال کم کریں۔ میٹرو کے دھکے کھائیں اور ورک فرام ہوم کو ترجیح دیں مگر یہی مودی جی انتخابی مہم کے دوران ان سنگین معاشی مسائل پر مکمل خاموش رہے۔ اب جبکہ اقتدار کی کرسی مضبوط ہو چکی ہے تو عوام کو قومی ذمہ داریوں کا سبق پڑھایا جا رہا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ اپنی قدر کھو کر تاریخ کی کم ترین سطح پر آگیا ہے۔ مودی حکومت کی معاشی منصوبہ بندی مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے اور اس ناکامی کو چھپانے کیلئے جذباتی نعروں اور مذہبی منافرت کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو کفایت شعاری عوام پر تھوپی جا رہی ہے اس کا اثر خود بی جے پی لیڈروں پر نہیں ہوتا۔ کمل ہاسن کا یہ قول آج صادق آتا ہے کہ جب تک جرمنی مکمل تباہ نہیں ہو گیا وہاں کے لوگوں کو ہٹلر کی ہر نوٹنکی میں ’حب الوطنی‘ نظر آتی رہی۔ ‘‘
اصل چیلنج خود ’سنگھ‘ کے اندر موجود سخت گیر عناصرہیں 
مہاراشٹر ٹائمز( مراٹھی، ۱۴؍مئی)
’’آر ایس ایس کے اہم ترین ستون اور ’سر کاریہ واہک‘ دتاتریہ ہوسبولے کا بیان کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلئے مذاکرات کی ضرورت ہے۔ سیاسی ایوانوں میں بحث کا ایک نیا باب کھول گیا ہے۔ ایک ایسی تنظیم کی جانب سے جو روایتی طور پر سرحد پار کے معاملات میں سخت گیر موقف اور جیسے کو تیسا والی پالیسی کی علمبردار رہی ہے، امن کی یہ پکار بظاہر حیران کن معلوم ہوتی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے اندرونی حالات ’لو جہاد‘ اورفرقہ وارانہ منافرت جیسے حساس موضوعات کی وجہ سے ہیجان کا شکار ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بیان واقعی کسی نظریاتی تبدیلی کی علامت ہے یا محض بین الاقوامی دباؤ اور بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کا نتیجہ؟ ہوسبولے نے ملکی سلامتی اور عزت نفس کو مقدم رکھتے ہوئے جس طرح پاکستانی عوام سے براہِ راست رابطے کی بات کی ہے وہ ایک خوش آئند خیال تو ہو سکتا ہے مگر اس کی عملی بنیادیں خاصی کمزور نظر آتی ہیں۔ ماضی میں اٹل بہاری واجپئی کی’بس ڈپلومیسی‘ اور نریندر مودی کی’اچانک لاہور آمد‘ جیسی کوششیں ممبئی حملوں، پہلگام اور پلوامہ جیسے سانحات کی نذر ہو گئیں۔ اس تناظر میں جب ہوسبولے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہندوستانی عوام کا پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت پر اعتماد نہیں ہے تو وہ دراصل اس بند گلی کی نشاندہی کر رہے ہیں جس کا حل صرف کھلاڑیوں یا دانشوروں کے ملنے سے ممکن نہیں لگتا۔ اصل چیلنج خود سنگھ کے اندر موجود سخت گیر عناصر کو قائل کرنا ہوگا۔ ‘‘
تعصب پر مبنی پالیسیاں عوامی مینڈیٹ کی توہین ہیں 
دی انڈین ایکسپریس( انگریزی، ۱۴؍مئی)
’’مغربی بنگال میں سیاسی بساط پلٹنے کے بعد نئی بی جے پی حکومت کی جانب سے منوج اگروال کی بطور چیف سیکریٹری تعیناتی نے انتظامی اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس تقرری کے پیچھے کئی گہرے سوالات چھپے ہیں۔ منوج جو جولائی میں سبکدوش ہونے والے ہیں، حال ہی میں ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر کے طور پر’ایس آئی آر‘ کے متنازع عمل کی نگرانی کر چکے ہیں۔ اس عمل کے دوران ۹۱؍ لاکھ ناموں کا اخراج جن میں سے ۲۷؍ لاکھ نام سخت تنازع کا شکار ہیں۔ ایک ایسی حقیقت ہے جسے محض تکنیکی اصلاح قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ایسے افسر کو جس کے فیصلوں کے خلاف ابھی سپریم کورٹ میں اپیلیں زیر التوا ہوں، انتظامیہ کا سب سے بڑا عہدہ سونپنا اس شک کو تقویت دیتا ہے کہ انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والوں کی نظریں ریٹائرمنٹ کے بعد کے انعامات پر مرکوز ہیں۔ حکومت نے جس طرح ایس آئی آر اور شہریت کے ترمیمی قانون کو باہم مربوط کرنے کی کوشش کی ہے وہ تشویشناک ہے۔ حکومت کا یہ اعلان کہ صرف وہی لوگ جو سی اے اے کے تحت شہریت کی درخواست دیں گےسرکاری اسکیموں کے اہل ہوں گے۔ دراصل سماج کے ایک مخصوص حصے کو درکنار کرنے کی دانستہ کوشش معلوم ہوتی ہے۔ ایک کثیر المذہبی جمہوریت میں مذہب کو شہریت کا معیار بنانا اور پھر اسے فلاحی ریاست کے فوائد سے مشروط کر دینا آئین کی روح کے منافی ہے۔ مغربی بنگال کی نئی حکومت کو ملنے والا مینڈیٹ سب کی ترقی کا متقاضی تھا تاہم آغاز ہی میں تعصب پر مبنی پالیسیاں اس مینڈیٹ کی توہین ہیں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK