رائے گڑھ کے ۷۸؍سالہ محمدانصارعرف باپوخطیب نے۳۲؍سال ’بانڈرائٹر‘ کی حیثیت سے خدمات پیش کیں، دیگر سماجی خدمات کے ساتھ ہی فی الحال گاؤں کی جامع مسجد کے چیف ٹرسٹی کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں ، اخبارات کا مطالعہ کرنا روزانہ کا معمول ہے۔
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 7:35 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
رائے گڑھ کے ۷۸؍سالہ محمدانصارعرف باپوخطیب نے۳۲؍سال ’بانڈرائٹر‘ کی حیثیت سے خدمات پیش کیں، دیگر سماجی خدمات کے ساتھ ہی فی الحال گاؤں کی جامع مسجد کے چیف ٹرسٹی کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں ، اخبارات کا مطالعہ کرنا روزانہ کا معمول ہے۔
کوکن کے رائے گڑھ ضلع کی مانگائوں تحصیل کے ایک چھوٹے سے گائوں پُرار کے ۷۸؍ سالہ محمدانصار خطیب عرف باپو خطیب کی ولادت ۲۳؍ جولائی ۱۹۴۷ء کو ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم (ساتویں تک) پُرار گاؤ ں کی پرائمری اسکول اور آٹھویں تا میٹرک یعنی گیارہویں کی پڑھائی گوریگاؤں کے مشہور تعلیمی ادارے این ایم جوشی مہاودیالیہ سے مکمل کی۔ میٹرک کے بعد تلاش معاش کیلئے ممبئی منتقل ہوئے اورنل بازار، ڈونگری وغیرہ کے علاقوں میں کام کیا۔ بعدازیں ورلی ڈیری میں ۶۔ ۵؍ سال تک ملازمت کی۔ اس کے بعد ۱۹۸۱ء میں مانگاؤں تحصیل میں ’بانڈ رائٹر‘ اور’ اسٹمپ وینڈر‘ کے طور پر وابستہ ہوئے اورمستقل ملازمت کے طورپر اپنی خدمات انجام دینے کے بعد ۲۰۱۲ء میں سبکدوش ہوئے۔ سبکدوشی کے بعدگزشہ ۱۴؍سال سے گاؤں کی جامع مسجد کے چیف ٹرسٹی کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ خدمت ِ خلق کیلئے ایک بار سیاست میں بھی قسمت آزمائی کی تھی اور ۱۹۸۴ء میں سرپنچ بھی منتخب ہوئے لیکن سیاست کی آب و ہوا راس نہیں آئی لہٰذا جلد ہی وہاں سے علاحدگی اختیارکرلی۔ اخبار کا مطالعہ کرنا روزانہ کا معمول ہے۔
یہ بھی پڑھئے : ’نیٹ‘ کا امتحان بھی ’جے ای ای‘ کی طرز پر کئی شفٹوں میں لیا جانا چاہئے
آج کے ترقی یافتہ دور میں جدید ٹیکنالوجی سے’ انگوٹھے‘کی پہچان کے طریقے ایجاد ہوگئے ہیں مگر جس وقت یہ ٹیکنالوجی نہیں تھی، قانونی داؤ پیچ کی اس گتھی کو سلجھانے کیلئے پولیس محکمہ باپو خطیب کی خدمات حاصل کرتا تھا۔ آج بھی جب کبھی اس طرح کی پیچیدہ صورت حال سامنے آتی ہے تو منصف صاحبان اور محکمہ پولیس ان کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی نے حالانکہ بانڈ رائٹر کی ضرورت ختم کر دی ہے، اسلئے یہ کہنا درست ہوگا کہ باپو خطیب کا شمار آخری بانڈ رائٹروں میں ہوتا ہے۔
گوریگاؤں، پُرار سے ۵؍ کلو میٹر کے فاصلے پر ایک قصبہ ہے۔ ۱۹۶۰ء کی دہائی میں یہاں سواریوں کا انتظام نہیں تھا، البتہ بیل گاڑیاں موجود تھیں ۔ اُن دنوں جس کے پاس بیل گاڑی ہوتی تھی، وہ علاقے کا امیر اور دولتمند سمجھا جاتا تھا۔ اُس وقت باپو خطیب ۱۰؍ کلومیٹر کا فاصلہ روزانہ پیدل طے کرتے تھے۔ ۵؍کلومیٹر جانا اور ۵ ؍کلو میٹر آنا۔ بارش، سردی اور گرمی کے موسم میں ان کیلئے اسکول جانا لازمی تھا۔ انھیں پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا۔ جہاں تک لکھنے کا تعلق ہے، اگر گھر میں کوئی کورا کاغذ مل جاتا تو اس پر ان کی قلم فوراًچل پڑتی تھی۔ پہلے کیلنڈر کے ہر مہینے کے صفحے کی پشت خالی ہو اکرتی تھی، ان خالی اوراق کو بھی وہ بھر دیتے تھے۔ لکھنے کی اسی شوق اور جنون نے انھیں بانڈ رائٹنگ کے پیشے کی ترغیب دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے : جس مٹی میں کھیل کود کر بچے، بڑے ہوتے ہیں، وہ اُسے کیسے بھول سکتے ہیں؟
باپوخطیب کا بچپن تنگدستی میں گزرا۔ اسکول کاوقت صبح ۱۰؍ سے شام ۵؍ بجے کا تھا۔ ۵ ؍کلو میٹر سے درمیانی وقفے میں گھر آنا ممکن نہیں تھا، اس لئے کھانے کاڈبہ روزانہ ساتھ لے جاتےتھے۔ ایک دن دوپہر کے کھانے کا وقت سارے بچے کھانے کیلئے کینٹین کی طر ف جا رہے تھے، ایک ساتھی نے ان سے بھی چلنے کیلئے کہا جس پر انہوں نے کہا میں نے مختصر وقفے میں کھا لیا ہے حالانکہ اس دن گھر میں کھانے کا انتظام نہیں تھا، اسلئے وہخالی ڈبہ لائے تھے۔ غریبی کے سبب گھر میں کچھ نہ ہونے کی بنا پر کئی بار وہ ڈبہ خالی لاتےتھے تاکہ دوستوں کو بتاسکیں کہ وہ کھانا لائے ہیں۔
بحیثیت بانڈ رائٹر باپو خطیب ایک دلچسپ واقعہ کو نہیں بھولتے ہیں ۔ ان کے قریبی گاؤں کے ایک شخص نے کافی دولت کماکر خوب جائیداد بنائی ہے۔ ان کے تین بیٹے ہیں ۔ انہوں نے ملازمت سے سبکدوشی کے بعد اپنی ساری دولت، کاروبار اور جائیداد اپنےبیٹوں کے نام کرنے کیلئے ایک وصیت بنائی اور بیٹوں کو بھی اس بارے میں بتا یالیکن باپو خطیب کے مشورے پر وصیت کی نقل بیٹوں کو نہیں دی۔ ایک سال تک تو معاملہ ٹھیک رہا، پھر چھوٹے بیٹے کی بیوی کوساس سسر کی گھر میں موجودگی گراں گزرنے لگی۔ وقت کے ساتھ بیٹے کا بھی رویہ بدل رہاتھا۔ ایک دن اس نے والدین کو کرائے کا مکان لےکر الگ رہنے کی صلاح دی، ساتھ ہی اس کی خانگی زندگی میں کسی قسم کی مداخلت سےباز رہنے کی تاکید کی۔ بیٹے کے ناروا سلوک سے دلبرداشتہ ہوکر والد پریشانی کے عالم میں باپوخطیب سے پھررابطہ کیا، ساری کیفیت بیان کی اور مذکورہ وصیت کی کاپی نہ دینے کے مشورہ کا شکریہ اداکیا اور پھر وصیت تبدیل کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔
مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ اور لوک سبھا کے سابق اسپیکر منوہر جوشی کا آبائی گاؤں ناندوی ہے، جو پُرار سے متصل ہے۔ منوہر جوشی جب پہلی بار ممبئی کے مئیر بنے تھے، اس وقت باپو خطیب عروس البلاد میں ہی تھے۔ وہ انھیں مبارکباد دینے ان کے دفتر گئے تھے۔ ناندوی میں منوہر جوشی کا ایک بڑا بنگلہ ہے۔ اس کی زمین کے کاغذات کیلئے باپو خطیب کی خدمات حاصل کی گئی تھیں ۔ منوہر جوشی نے بذات خود باپوخطیب کے دفتر جاکر ان سے ملاقات کی تھی۔ جوشی جب بھی گاؤں جاتے تو وہ آس پاس کے گاؤں والوں سے اپنائیت کے ساتھ ملتے تھے۔ وہ بحیثیت وزیر اعلیٰ بھی گاؤں آئے اور جب لوک سبھا کے اسپیکر بنائے گئے تھے تب بھی گاؤں میں آزادانہ چہل قدمی کرتے تھے۔ سبھی سے ان کی بات چیت تھی۔ منوہر جوشی باپو خطیب کے بڑے بھائی عبدالقیوم خطیب کے ہم جماعت بھی تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ایک دور تھا جب ریڈیو پر پیش ہونےوالے پروگرام ’بناکا گیت مالا‘ کی شہرت تھی‘‘
باپو خطیب ۱۹۶۸ء میں میٹرک کی تکمیل کے بعد روزگار کی تلاش میں ممبئی آئے تھے۔ اس وقت ممبئی کا سفر آسان نہیں تھا۔ گوریگاؤں اور پُرار کے درمیان ایک ندی تھی جس پر کام جاری تھا۔ ۷۰۔ ۶۹ ء میں جب پُل کی تعمیر ہوئی تو سب سے پہلے جو بس شروع کی گئی وہ امبیت (بیرسٹر عبدالرحمان انتولے کا گاؤں ) سے ممبئی سینٹرل کی تھی۔ اس سے پہلے ممبئی جانے والوں کو گوریگاؤں تک آنا پڑتا تھا، وہاں سے ممبئی کی بس ملتی تھی۔ اس وقت بس کا کرایہ فی فرد ۵ ؍روپے ۲۵؍پیسے تھا۔ ممبئی جانے والے مسافر کو بس اسٹاپ تک چھوڑنے کیلئے پورا گاؤں جمع ہو جاتا تھا۔ عورتیں رونے لگتی تھیں اور بزرگ دعائیں دیتے تھے، جیسے کہ سات سمندر پار کے سفر پر مسافر جا رہا ہو۔ اسی طرح جب کوئی ممبئی سے واپس لوٹتا تو اس کے استقبال کیلئے پورا گاؤں جمع ہوتا تھا۔
۶۰ء اور ۷۰ء کی دہائی تک پُرار گائوں میں کالے برقعوں کا چلن نہیں تھا۔ ایک سے دوسرے گائوں یا شہر جانے کیلئے عورتیں بیل گاڑی سے یا پھرپیدل جاتی تھیں ۔ شادی اور میت وغیرہ کے ہونے پر عورتیں سفید چادر اوڑھ کر گروپ کی صورت میں گھروں سے نکلتی تھیں ۔ دور سے یہ نظارہ دیکھنے کے قابل ہوتا تھا، ایسا لگتا تھا جیسے جنوں کا قافلہ جا رہا ہو۔
اس دور میں شادیاں اکثر رات میں ہوتی تھیں۔ دلہن کو ڈولی پر اُٹھا کر دولہے کے گھر لے جایا جاتا تھا، باقی باراتی پیدل چلتے تھے۔ بجلی کا انتظام نہ ہونے سے نوکروں کے ہاتھوں میں گیس کی قندیلیں تھما دی جاتی تھیں اور ان کی روشنی میں بارات جاتی تھی۔ اس سے پہلے موم بتیوں کا چلن تھا۔ گھروں میں بھی موم بتیاں جلتی تھیں اور مسافروں کو راستہ دکھانے کیلئے گاؤں کے نکڑوں پر بھی موم بتیاں لگادی جاتی تھیں ۔ شادی کے دعوت نامے یا میت کی اطلاع قریبی عزیزوں اور احباب تک پہنچانے کیلئے اس طرح کا کام کرنےوالوں کی خدمات حاصل کی جاتی تھی۔ قریبی رشتے داروں کےآنےمیں تاخیر پر تدفین ایک دن بعدبھی کی جاتی تھی۔