Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشیانہ:سلیبریٹی آئی وی تھیراپی بڑھا رہی ہے ’’ڈِرِپ کلچر‘‘ کی چمک

Updated: May 17, 2026, 7:41 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ممبئی، دہلی اور بنگلور جیسے شہروں میں آئی وی تھیراپی کلینکس اور ہوم سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں سامنے آ رہی ہیں، جو اس رجحان کو ایک مکمل کاروباری ماڈل میں تبدیل کر رہی ہیں۔ ہندوستان میں اس رجحان کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ بدلتا ہوا شہری طرزِ زندگی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اگر آپ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں تو آپ کی نظروں سے مشہور شخصیات، خاص طور پر سلبیرٹیز کے ایسے کلپس ضرور گزرے ہوں گے جہاں وہ تقریب میں شرکت سے قبل آئی وی ڈرپ لگائے بیٹھے (یا لیٹے) ہیں۔ یہ تصور عام ہے کہ ڈرپ لگی ہے تو مریض سنجیدہ ہوگا لیکن یہ شخصیات اطراف کے لوگوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف نظر آتی ہیں۔ اسے یوں سمجھئے: ممبئی کے ایک لگژری ہوٹل کے سوئٹ میں شوٹنگ کے درمیان ایک اداکارہ آرام کر رہی ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک باریک سی ٹیوب لگی ہے جس کے ذریعے شفاف سا مائع اس کے جسم میں داخل ہو رہا ہے۔ چند منٹ بعد وہ دوبارہ کیمرے کے سامنے جانے کیلئے تیار ہے، چہرے پر تازگی، توانائی اور وہی ’گلو‘ جسے دیکھ کر ناظرین متاثر ہوتے ہیں۔ یہ منظر اب غیر معمولی نہیں رہا۔ یہ ہے ’’Celebrity IV Culture‘‘، ایک ایسا رجحان جو تیزی سے عالمی اور ہندوستانی ویل نیس انڈسٹری کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے : معاشیانہ: کیا ’کام والی بائی‘ نے چھٹی کرلی ہے؟ اب اس پریشانی کا بھی حل ہے

یہ رجحان بنیادی طور پر اس خیال پر مبنی ہے کہ اگر وٹامنز اور غذائی اجزاء کو براہِ راست خون میں پہنچایا جائے تو وہ زیادہ تیزی اور مؤثریت سے کام کرتے ہیں۔ اسی لئے آئی وی ڈرپس میں وٹامن سی، میگنیشیم، زنک، گلوٹاتھایون اور بعض اوقات این اے ڈی پلس جیسے مرکبات شامل کئے جاتے ہیں، جنہیں اینٹی ایجنگ اور توانائی بڑھانے والے اجزاء کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ سلیبریٹیز اور انفلوئنسرز اسے ایک ’’quick fix‘‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں، خاص طور پر تھکن، جیٹ لیگ یا اہم ایونٹس سے پہلے فوری توانائی اور چمک حاصل کرنے کیلئے۔ 
عالمی سطح پر یہ رجحان امریکہ، دبئی اور یورپ میں پہلے ہی ایک بڑی ’’luxury wellness service‘‘ بن چکا ہے، جہاں آئی وی لاؤنجز اور موبائل سروسیز، صارفین کو گھر یا ہوٹل میں یہ سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اب یہی ماڈل ہندوستان میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ممبئی، دہلی اور بنگلور جیسے شہروں میں آئی وی تھیراپی کلینکس اور ہوم سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں سامنے آ رہی ہیں، جو اس رجحان کو ایک مکمل کاروباری ماڈل میں تبدیل کر رہی ہیں۔ ہندوستان میں اس رجحان کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ بدلتا ہوا شہری طرزِ زندگی ہے۔ تیز رفتار کام، غیر متوازن خوراک، نیند کی کمی اور مسلسل سفر نے ایک ایسی طلب پیدا کی ہے جہاں لوگ فوری حل چاہتے ہیں۔ روایتی سپلی منٹس اور خوراک کے مقابلے میں آئی وی تھیراپی کو ایک تیز اور مؤثر متبادل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سروس صرف سلیبریٹیز تک محدود نہیں رہی بلکہ کارپوریٹ پروفیشنلز، انفلوئنسرز اور اعلیٰ آمدنی والے طبقے میں بھی مقبول ہو رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے : ’نیٹ‘ کا امتحان بھی ’جے ای ای‘ کی طرز پر کئی شفٹوں میں لیا جانا چاہئے

اس رجحان کا ایک اہم پہلو اس کا ’’customization‘‘ ہے۔ ہر ڈرپ کو ایک مخصوص مقصد کیلئے تیار کیا جاتا ہے، جیسے ’’energy boost‘‘، ’’skin glow‘‘، یا ’’detox recovery‘‘۔ یہ تصور صارف کو ایک ذاتی تجربہ فراہم کرتا ہے، جو جدید ویل نیس انڈسٹری کی ایک بڑی خصوصیت ہے۔ اس طرح آئی وی تھیراپی صرف ایک طبی سروس نہیں بلکہ ایک ’’personalized lifestyle product‘‘ بن جاتی ہے، جسے برانڈز مختلف ناموں اور پیکجز کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ تاہم اس رجحان کی اصل طاقت صرف اس کی طبی دعوؤں میں نہیں بلکہ اس کی مارکیٹنگ میں ہے۔ سوشل میڈیا نے اسے ایک ’’aspirational lifestyle‘‘ بنا دیا ہے، جہاں سلیبریٹیز اپنے آئی وی سیشنز کو شیئر کر کے اسے ایک نارمل اور مطلوبہ عمل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ وہی حکمتِ عملی ہے جو پہلے فٹنس، ڈائیٹس اورسکن کیئر کے شعبوں میں استعمال ہوئی تھی، اور اب آئی وی تھیراپی اسی راستے پر چل رہی ہے۔ جب کوئی مشہور شخصیت کسی مخصوص ڈرپ کو استعمال کرتی دکھائی دیتی ہے تو وہ صرف ایک سروس کو فروغ نہیں دے رہی ہوتی بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی کو فروخت کر رہی ہوتی ہے۔ 
آئی وی کلچر تیزی سے بڑھتی ہوئی ’’wellness economy‘‘ کا حصہ ہے جس کی عالمی مالیت اربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ہندوستان میں بھی یہ شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، خاص طور پر صارفین کے ساتھ براہ راست تعلق پر۔ کمپنیاں اب نہ صرف کلینکس کے ذریعے بلکہ آن ڈیمانڈ سروسیز کے ذریعے بھی صارفین تک پہنچ رہی ہیں، جس سے یہ مارکیٹ مزید وسعت اختیار کر رہی ہے۔ اس رجحان کے ساتھ کئی سوالات اور خدشات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی وی تھیراپی کے فوائد کے بارے میں بہت سے دعوے سائنسی طور پر مکمل طور پر ثابت نہیں ہیں۔ زیادہ تر شواہد سلیبریٹیز کے تجربات یا محدود مطالعات پر مبنی ہیں، جو اس کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں واضح تصویر پیش نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ، غیر ضروری آئی وی استعمال صحت کیلئے خطرات بھی پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر اگر یہ بغیر طبی نگرانی کے کیا جائے۔ 
یہی وجہ ہے کہ کچھ ماہرین اس رجحان کو ایک ’’wellness illusion‘‘ قرار دیتے ہیں، جہاں صارفین فوری نتائج کی خواہش میں ایسے طریقوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں جو مکمل طور پر سائنسی بنیادوں پر قائم نہیں۔ اس کے باوجود، اس رجحان کی مقبولیت کم ہوتی نظر نہیں آتی، کیونکہ یہ ایک ایسی ضرورت کو پورا کرتا ہے جو جدید زندگی نے پیدا کی ہے، یعنی فوری توانائی، فوری خوبصورتی اور فوری سکون۔ ہندوستان میں یہ رجحان ایک دلچسپ تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک طرف یہ جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی اور عالمی طرزِ زندگی کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ روایتی صحت کے طریقے، جیسے متوازن غذا اور مناسب آرام، پیچھے رہتے جا رہے ہیں۔ یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آج کی معیشت میں ’’وقت‘‘ سب سے قیمتی اثاثہ بن چکا ہے، اور لوگ اسے بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK