بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ عید بچوں کی ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سب کی ہوتی ہے مگر چونکہ عید میں بچوں کی خوشیاں دیدنی ہوا کرتی تھیں اس لئے یہ فقرہ مشہور ہوگیا اور بار بار استعمال کیا جانے لگا کہ عید بچوں کی ہوتی ہے
بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ عید بچوں کی ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سب کی ہوتی ہے مگر چونکہ عید میں بچوں کی خوشیاں دیدنی ہوا کرتی تھیں اس لئے یہ فقرہ مشہور ہوگیا اور بار بار استعمال کیا جانے لگا کہ عید بچوں کی ہوتی ہے جو نئے کپڑے پہن کر پھولے نہیں سماتے، بچیاں چاند رات کو مہندی لگا تی ہیں جو عید کے دن موضوع بحث بنتی ہے، بچوں کو اس دن عیدی ملتی ہے، لڑکوں کو دوستوں کے ساتھ اور لڑکیوں کو سہیلیوں کے ساتھ وقت گزارنے، کھانے پینے اور ہنسے بولنے کا موقع ملتا ہے، وغیرہ۔ انہی باتوں کے پیش نظر عید بڑوں سے زیادہ بچوں سے وابستہ ہوگئی مگر کیا ہم اب بھی مانتے ہیں کہ عید بچوں کی ہوتی ہے؟ اگر ہمارا جواب اثبات میں ہے تو خود سے دریافت کرنا چاہئے کہ کیا آج کے بچے عید کے دن اتنا ہی خوش ہوتے ہیں جتنا اب سےتیس، چالیس یا پچاس سال پہلے کے بچے ہوتے تھے؟
اس کا جواب شاید اثبات میں نہ ہو۔اس کی وجہ ہے۔ بچوں کو اب صبر نہیں کرنا پڑتا کہ والد کے پاس نئے کپڑے خریدنے کے پیسے آئینگے تب کپڑے خریدے جائینگے۔ اُنہیں انتظار نہیں کرنا پڑتا کیونکہ اب سال میں ایک مرتبہ نئے کپڑے نہیں ملتے۔ سال بھر ملتے رہتے ہیں ۔ پارٹیوں کیلئے، شادی کیلئے اور کوئی موقع نہ ہو تب بھی۔ چنانچہ بچوں کو کسی چیز کیلئے رُکنا نہیں پڑتا کیونکہ اب پیسوں کی فراوانی ہے اور مطلوبہ اشیاء کیلئے رُکنا بچوں کا معمول نہیں ہے۔ روزہ دار افطار کے وقت روحانی مسرت اسلئے محسوس کرتا ہے کہ دن بھر بحکم خدا اُن حلال چیزوں سے بھی دور رہتا ہے جن کے استعمال کی عام دنوں کے کسی بھی حصے میں ممانعت نہیں ہے۔ تیرہ چودہ گھنٹوں کے بعد اُسے اشیائے خورد و نوش میسر آتی ہیں ۔ اس وقت کی خوشی کا براہ راست تعلق اُس سے پہلے کے تیرہ چودہ گھنٹوں کے رُکنے اور رُکے رہنے سے ہے۔ ماضی کے بچوں کو رُکنا پڑتا تھا آج کے بچوں نے رُکنا نہ تو سیکھا نہ ہی انہیں سکھایا گیا ہے جبکہ تربیتی ضرورت کے پیش نظر اُنہیں قصداً روکا جاسکتا ہے۔
زندگی کے دیگر معاملات میں بھی ’’رُکنا‘‘ کی اہمیت ہے۔ یہاں رُکنا سے مراد ہے اپنی جائز خواہش کی تکمیل کیلئے انتظار کرنا۔ اب تو خود بچوں کے پاس پیسے ہوتے ہیں اور اگر نہ ہوں تو اُن کی فرمائش پوری کرنے میں تاخیر نہیں کی جاتی۔ بچوں کو تربیتی مقصد سے روکنا اور استطاعت نہ ہونے کے باوجود محض لاڈ پیار کے سبب فوراً فرمائش پوری کرنا دو الگ اور متضاد عمل ہیں ۔ پہلے میں مصلحت اور حکمت پوشیدہ ہے، دوسرے میں فطرت۔ فطرت کو مصلحت اور حکمت کو تابع کرنے کے اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں مگر والدین تربیت کے فن سے واقف نہ ہوں تو مصلحت و حکمت کو بالائے طاق رکھ کر فطرت کے تقاضے کو پورا کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے بچے فرمائش کی فوری تکمیل کے عادی ہوجاتے ہیں اور جب ایسا نہیں ہوتا تب ناراض ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات دن بھر منہ پھلائے رہتے ہیں ۔
’’اُنتیس یا تیس دن کا رمضان اور ایک دن کی عید‘‘۔ اگر اسلام نے عید کے ایک دن کو رمضان کے انتیس تیس دنوں سے مشروط نہ کیا ہوتا تو ممکن تھا کہ عید کی اتنی خوشی نہ ہوتی جتنی ہوتی ہے۔یہ فارمولہ ہر شعبہ ٔ حیات پر نافذ کرلیا جائے تو زیادہ محنت اور کم جشن (سلیبریشن) کی عادت تقویت پائے۔ چونکہ اس فارمولہ سے عملی زندگی کو معمور نہیں کیا گیا ہے اس لئے اب محنت کم ہوتی ہے اور سلیبریشن زیادہ۔