Inquilab Logo Happiest Places to Work

عیدالفطر: تزکیہ ٔ نفس کا ثمر اور نورانیت کا سفر

Updated: March 22, 2026, 2:52 PM IST | Asif Jaleel Ahmed | Mumbai

عید الفطر بلاشبہ مسرت و شادمانی کا دن ہے مگر یہ محض تہوار کا دن نہیں ہے بلکہ یہ اُس عہد کا موقع بھی ہے جس میں ہم اپنے آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ جس نظم و ضبط کے ساتھ رمضان کا مبارک مہینہ گزارا گیا ہے بالکل اُسی طرح بقیہ گیارہ مہینے بھی گزاریں گے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

شوال المکرم کا چاند دراصل بندۂ مومن کیلئے اُس روحانی سفر کی تکمیل کا پیغام ہے جو اس نے ماہِ رمضان کی شکل میں طے کیا۔ دنیا کے بیشتر مذاہب اور اقوام میں تہوار کسی خاص تاریخی واقعے، موسمی تبدیلی یا کسی شخصیت کی یادگار کے طور پر منائے جاتے ہیں، مگر عیدالفطر ان  سے مختلف  خالص مذہبی اور روحانی تہوار ہے۔ یہ اس بات کا جشن ہے کہ بندۂ  مومن نے ایک ماہ تک عبادت، صبر اور تقویٰ کی مشق کی اور اب وہ اس نعمت ِ عظمیٰ کے شکرانے کے طور پر خوشیاں منا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: قحط سالی، قلت ِرزق اور تنگدستی کی ایک وجہ رزق کی ناقدری بھی ہے

بندگی کا انعام اور رب کی مہمانی

رمضان المبارک میں دن کے اوقات میں روزہ دار پر کھانا پینا ممنوع تھا، مگر یکم شوال کے طلوع ہوتے ہی وہی چیزیں دوبارہ جائز ہو جاتی ہیں جو روزہ میں ممنوع تھیں۔ یہ عمل بظاہر سادہ ہے لیکن اس کے پیچھے اطاعت کا ایک گہرا فلسفہ پوشیدہ ہے۔ یہ منظر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ مومن کی زندگی اپنی خواہشات کے تابع نہیں بلکہ رب کی رضا کے گرد گھومتی ہے۔ جب اس نے ’’رُکنے‘‘ کا حکم دیا تو ہم رک گئے، جب اس نے ’’کھانے‘‘ کا اذن دیا تو ہم نے خوشی منائی۔ عید کا دن دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کیلئے ’’ضیافت‘’ اور ’’مہمانی‘‘ کا دن ہے۔

تربیتِ نفس کا ثمر

اسلامی تاریخ میں عیدالاضحی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یادگار ہے، لیکن عیدالفطر کا تعلق براہِ راست انسان کی اپنی روحانی تربیت سے ہے۔ رمضان کے پورے مہینے میں بھوک اور پیاس برداشت کرتے ہوئے انسان نے اپنے نفس پر جو پہرہ بٹھایا، عید اسی کامیابی کا صلہ ہے۔ یہ تہوار اعلان ہے کہ جس نے نفسانی خواہشات پر قابو پانا سیکھ لیا، وہی حقیقی مسرت اور اللہ کی رحمتوں کا مستحق ٹھہرا۔ 

یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا: کیا گھنٹوں میں تبدیل ہونے والے دو منٹ واپس ملیں گے؟

یہ محض رسم نہیں، ایک عہدِ نو

عید کا دن صرف نیا لباس زیب تن کرنے، لذیذ پکوانوں سے لطف اندوز ہونے، محض سیر و تفریح کا یا یہ سوچنے کا نام نہیں ہے کہ اب ہم آزاد ہیں۔ یہ دراصل ایک عہد کا دن ہے کہ رمضان کی ساعتوں میں جو ہمدردی، رواداری، تقویٰ اور غریب پروری کی صفات ہم نے اپنائیں، انہیں سال کے باقی گیارہ مہینوں میں بھی برقرار رکھیں گے۔ عید کی حقیقی روح اس وقت بیدار ہوتی ہے جب ہم اپنی خوشیوں میں معاشرے کے محروم اور نادار طبقات کو بھی شامل کرتے ہیں۔ صدقہِ فطر کی ادائیگی اسی سماجی ہم آہنگی کا ایک لازمی جزو ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عید ایک روشن صبح

عید کی اصل اساس

عیدالفطر بلاشبہ مسرت و شادمانی کا دن ہے، مگر اس کی اصل اساس روحانیت اور نورانیت میں پوشیدہ ہے۔ رمضان کی راتوں اور بالخصوص لیلۃ القدر میں حاصل ہونے والا نور، انسان کی زندگی میں ایک نئی تازگی پیدا کرتا ہے۔ یہ نور اُسے توانائی عطا کرتا ہے۔ اس کے بعد اگر ہم عید کے دن کو اسلامی مزاج اور صحیح مقصد کے ساتھ گزاریں، تو عید صرف یوم ِ جشن نہیں رہتی بلکہ ہماری پوری زندگی کیلئے خیر و برکت، تزکیہِ نفس اور انسانیت دوستی کا دائمی پیغام بن جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK