Inquilab Logo Happiest Places to Work

عید الفطر روحانی جدوجہد اور بندگی کی تکمیل کا انعام

Updated: March 22, 2026, 2:59 PM IST | Mufti Mohammad Raza Qadri | Mumbai

رمضان کی یک ماہی تربیت کے بعد آج عید کا دن ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے جس کے بعد ہمیں فیصلہ کرنا چاہئے کہ آج سے ہماری میں کون سی خوشگوار تبدیلیاں رونما ہوں گی اور ہم کس طرح اُن پر ہمیشہ قائم رہیں گے اور تربیت کا پورا پورا فائدہ اُٹھائیں گے۔

When the sounds of Takbir resound on the morning of Eid, it feels as if the heavens themselves are blessing the believers. Photo: INN
عید کی صبح جب تکبیراکی صدائیں گونجتی ہیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان خود اہلِ ایمان کو مبارک باد دے رہا ہو۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک کی نورانی ساعتیں جب اپنے اختتام کو پہنچتی ہیں تو افق دل پر ایک نئی سحر طلوع ہوتی ہے۔ یہ سحر محض خوشی کی نہیں بلکہ بندگی کی تکمیل کا انعام ہے۔ ایک مہینے کی پیاس، بھوک، قیام و رکوع، تلاوت و دعا، آنسو اور آہ و زاری سب مل کر ایک ایسے روحانی سفر کی تشکیل کرتے ہیں جس کی منزل عید الفطر ہے، اور عید دراصل اسی سفر کی قبولیت کا اعلان ہے۔

عید کی صبح جب تکبیرات کی صدائیں فضاؤں میں گونجتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان خود اہلِ ایمان کو مبارک باد دے رہا ہو۔ یہ دن اس بات کی گواہی ہے کہ جس نے رمضان میں اپنے نفس کو قابو کیا، اپنے رب سے لو لگائی، اور اپنی خطاؤں پر آنسو بہائے، وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹا۔ عید الفطر دراصل اسی روحانی جدوجہد کی تکمیل کا اعلان ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عید ایک روشن صبح

عیدالفطر محض نئے نئے برانڈیڈ کپڑوں، عمدہ پکوانوں اور پُرتپاک مبارکباد کا نام نہیں، بلکہ یہ اس عظیم تربیت گاہ کی سند ِفراغت ہے جسے رمضان المبارک کہا جاتا ہے۔ رمضان نے ہمیں سکھایا کہ خواہشات کو لگام کیسے دی جاتی ہے، نگاہوں کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے اور زبان کو غیبت اور دل کو کینہ سے کیسے بچایا جاتا ہے۔ جب ایک بندہ ان اسباق کو سمیٹ کر عید کی صبح عیدگاہ کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کے حضور یہ عرض کر رہا ہوتا ہے کہ ’’اے تمام جہانوں کے پالنے والے! مَیں نے تیرے حکم پر ایک ماہ صبر کیا، اب اپنی رحمت سے میری محنت قبول فرما۔‘‘

رمضان نے ہمیں بھوک کے ذریعے صبر سکھایا، پیاس کے ذریعے شکر سکھایا، اور قیام اللیل کے ذریعے عاجزی سکھائی۔ اب عید کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان صفات کو اپنی عملی زندگی میں اتاریں۔ اگر روزے نے ہمیں جھوٹ اور دروغ گوئی سے بچایا تھا تو عید کے بعد بھی زبان سچ کی امین رہے۔ اگر تراویح نے دل میں قرآن کی محبت جگائی تھی تو یہ محبت صرف ایک مہینے تک محدود نہ رہے۔

عید کی نماز دراصل اجتماعی شکر کا مظہر ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ ہم نے رمضان کی عبادتوں کو محض رسم نہیں بنایا بلکہ اسے اپنی زندگی کا انقلاب بنایا ہے۔ اگر رمضان کے بعد بھی آنکھیں جھکی رہیں، زبان سچی رہی، دل نرم رہا، خیرخواہی کا مظاہرہ ہوتا رہا اور ہاتھ سخاوت کیلئے اٹھتے رہے تو سمجھ لیجیے کہ عید واقعی انعام بن گئی۔ ورنہ اگر چاند رات ہی سے بازاروں کی چکاچوند میں وہی پرانی غفلت لوٹ آئی تو عید صرف تہوار رہ جائے گی، انعام نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: قحط سالی، قلت ِرزق اور تنگدستی کی ایک وجہ رزق کی ناقدری بھی ہے

عید کا پیغام صرف فرد تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کیلئے ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خوشی تب مکمل ہوتی ہے جب اس میں دوسروں کو شریک کیا جائے۔ صدقۂ فطر کا حکم اسی لئے دیا گیا کہ کوئی ضرورت مند اس دن محرومی کا احساس نہ کرے۔ عید ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی مسرت دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھنے میں ہے۔

شریعت نے نمازِ عید سے قبل صدقۂ فطر لازم کیا تاکہ کوئی مفلس خوشیوں سے محروم نہ رہے۔ یہ پیغام ہے کہ خوشی صرف اپنی نہیں، سب کی ہو۔ جس معاشرے میں امیر، غریب کا ہاتھ تھام لے، جہاں دسترخوانوں پر پڑوسی بھی شریک ہوں، وہی معاشرہ حقیقی عید کا مزہ چکھتا ہے۔

عید لمحہ ٔ خود احتسابی بھی ہے۔ ہمیں سوچنا چاہئے کہ رمضان کی یک ماہی تربیت سے ہماری زندگی میں کیا تبدیلی آئی؟ کیا ہمارے رویّے میں نرمی آئی؟ کیا ہمارے معاملات میں دیانت بڑھی؟ کیا ہماری عبادت میں اخلاص پیدا ہوا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو یقین کیجیے یہ عید واقعی انعام ہے، ورنہ ہمیں اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عید کو صرف ایک دن کی مسرت نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک عہد کی تجدید بنائیں۔ رمضان میں قرآن پاک سے جو تعلق قائم ہوا اور جو رغبت بڑھی وہ باقی رہے۔ جو سحر و افطار کی دعاؤں میں آنسو بہے، وہ دل کی نرمی میں ڈھل جائیں۔ جو راتوں کی تنہائی میں سجدے ہوئے، وہ دن کے معاملات میں دیانت بن کر ابھریں۔

عید الفطر دراصل اعلان ہے کہ بندگی رائیگاں نہیں جاتی۔ ربِ کریم اپنے بندوں کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔ جو ایک ماہ اس کی رضا کیلئے جیتا ہے، اسے عید کی صورت میں خوشی، سکون اور امید کا انعام عطا ہوتا ہے۔

یہ دن ہمیں امت کی وحدت کا درس بھی دیتا ہے۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر عید کی نماز ادا کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ہم رنگ، نسل اور زبان کی تفریق سے بالا ہو کر ایک رب کے بندے ہیں۔ آج جب دنیا میں انتشار اور نفرت کی آندھیاں چل رہی ہیں، عید ہمیں محبت، اخوت اور بھائی چارے کا چراغ جلانے کا پیغام دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا: کیا گھنٹوں میں تبدیل ہونے والے دو منٹ واپس ملیں گے؟

آئیے! اس عید پر ہم صرف ظاہری تیاریوں پر اکتفا نہ کریں بلکہ دلوں کی صفائی، نیت کی درستی اور اعمال کی پختگی کو اپنا اصل زیور بنائیں۔ نئے کپڑوں کے ساتھ نئی سوچ، نئی امید اور نئی وابستگی کو بھی اختیار کریں۔ تبھی رمضان المبارک کی عبادتیں ہمارے لئے دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنیں گی، اور عید الفطر واقعی بندگی کی تکمیل کا انعام ثابت ہوگی،  ایسا انعام جو دل کو سکون، روح کو تازگی اور زندگی کو مقصد عطا کرے۔

آئیے! اس عید پر ہم عہد کریں کہ رمضان کی روشنی کو پورے سال کیلئے چراغِ راہ بنائینگے۔ تب ہی عید واقعی بندگی کی تکمیل کا انعام ثابت ہوگی اور ہماری زندگی کا ہر دن شکر، صبر اور اطاعت کی خوشبو سے مہکتا رہے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK