Inquilab Logo Happiest Places to Work

مذہب ِ اسلام کا فلسفہ ٔ عید اَور روحانیت کا تقاضا

Updated: March 22, 2026, 2:43 PM IST | Abdul Aleem Falahi | Mumbai

فلسفے کا تقاضا روحانیت کا ہے مگر جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے روحانیت پر ماد ّیت غالب آرہی ہے، مسلم معاشرہ کیلئے عید کی روح کی بازیافت ضروری ہے۔

Eid also demands that children be treated with kindness and given the best education in the light of Islamic teachings. Photo: INN
عید کا تقاضا یہ بھی ہے کہ بچوں کے ساتھ شفقت کا معاملہ ہو اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اُن کی بہترین تربیت ہو۔ تصویر: آئی این این

اسلامی تہذیب میں عیدالفطر اور عیدالاضحی دو اہم مذہبی تہوار ہیں جو روحانیت، شکرگزاری اور سماجی مساوات کے اصولوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس تحریر کا مقصد عید کے فلسفے کو قرآن و سنت اور سلف صالحین کے طرزِ عمل کی روشنی میں واضح کرنا اور عصرِ حاضر کے سماجی و ثقافتی تناظر میں اس کا جائزہ لینا ہے۔ تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ ابتدائی اسلامی معاشرے میں عید روحانی تجدید، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اجتماعی اخوت کا مظہر تھی، جبکہ موجودہ دور میں مادیت اور صارفیت کے اثرات نے اس کی روحانی جہت کو کمزور کر دیا ہے۔

اسلامی تہذیب میں تہوار محض ثقافتی تقریبات نہیں بلکہ روحانی اور اخلاقی اقدار کے مظہر ہوتے ہیں۔ عیدالفطر اور عیدالاضحی اسلام کے وہ تہوار ہیں جو عبادت کی تکمیل کے بعد اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکرگزاری اور اجتماعی خوشی کا اظہار  ہیں۔ اللہ کے رسولؐ  نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلے دو بہتر دن عطا کیے ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحی۔‘‘یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلامی عیدیں ایک باقاعدہ شرعی نظام کا حصہ ہیں جن کا مقصد روحانی بیداری اور سماجی ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: قحط سالی، قلت ِرزق اور تنگدستی کی ایک وجہ رزق کی ناقدری بھی ہے

قرآن کی روشنی میں فلسفہ ٔ عید

قرآنِ مجید اسلامی تہواروں کے روحانی مقاصد کو واضح کرتا ہے۔ رمضان المبارک کے اختتام کے بعد عیدالفطر کے فلسفے کو بیان کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہے:’’اس لئے کہ تم گنتی پوری کرسکو اور اس لئے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لئے کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔ (البقرہ ۱۸۵) اس آیت میں عید کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرنا اور اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا قرار دیا گیا ہے۔ (اسی طرح عیدالاضحی کے فلسفے کو سورہ الحج، آیت ۳۷؍ میں واضح  فرمایا گیا ہے)۔

سنت نبویؐ  میں عید کا تصور

احادیث نبویہ میں عید کے روحانی اور سماجی پہلوؤں کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کے رسولؐ عید کے دن مسلمانوں کو اجتماعی عبادت، خوشی اور باہمی محبت کی تعلیم دیتے تھے۔ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ جب اللہ کے رسولؐ مدینہ تشریف لائے تو لوگوں کے دو تہوار تھے۔ آپؐ  نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلے دو بہتر دن عطا کیے ہیں، یہ دن کھانے پینے اور خوشی کے دن ہیں۔‘‘ لیکن اس خوشی کا مقصد محض مادی مسرت نہیں بلکہ عبادت کے بعد شکرگزاری اور روحانی سکون کا اظہار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا: کیا گھنٹوں میں تبدیل ہونے والے دو منٹ واپس ملیں گے؟

سلفِ صالحین کے نزدیک عید کا تصور

اسلامی تاریخ کے ابتدائی ادوار میں عید کو روحانی تجدید اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے اظہار کے طور پر منایا جاتا تھا۔ صحابہ کرام، تابعین اور بعد کے صالحین کے طرزِ عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک عید کا اصل مفہوم تقویٰ اور اعمال کی قبولیت تھا۔ 

حسن بصریؒ کا تصورِ عید

مشہور تابعی بزرگ حسن بصریؒ فرمایا کرتے تھے: ’’ہر وہ دن جس میں اللہ کی نافرمانی نہ ہو، وہی عید کا دن ہے۔‘‘ 

اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک عید صرف ایک خاص دن نہیں بلکہ ایک روحانی کیفیت کا نام تھی۔

ابراہیم بن ادہمؒ کا تصورِ عید

مشہور زاہد ابراہیم بن ادہمؒ فرمایا کرتے تھے:’’عید نئے کپڑے پہننے کا نام نہیں بلکہ عید اس شخص کی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو اپنا شعار بنا لیا۔‘‘ ان کے نزدیک عید دراصل اُس روحانی کامیابی کا اظہار تھی جو انسان عبادت اور تقویٰ کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عیدالفطر: انسان سازی کے ہمہ گیر نظام کا عملی مظہر

سفیان ثوریؒ کا تصور

امام سفیان ثوریؒ کے نزدیک عید کا مقصد اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکرگزاری اور اپنی روحانی حالت کا محاسبہ تھا۔ وہ عید کے دن بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور دعا میں مشغول رہتے تھے۔

ابن القیمؒ کا تجزیہ

امام ابن القیمؒ نے اسلامی تہواروں کے فلسفے کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عید دراصل اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بعد خوشی اور شکرگزاری کا اظہار ہے۔ آپؒ نے فرمایا کہ  اسلامی تہواروں کی اصل روح اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی اطاعت میں ہے۔

شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا نقطۂ نظر

شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے مطابق اسلامی تہوار مسلمانوں کے درمیان اتحاد، محبت اور سماجی مساوات کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک عید ایک ایسا موقع ہے جو مسلمانوں کو اجتماعی شعور اور اخوت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

عصر حاضر میں عید کا بدلتا ہوا تصور

عصرِ حاضر میں انسانی معاشرہ مادیت اور صارفیت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے نرغے میں ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ معاشروں میں مذہبی تہواروں کو بھی تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ عید کے موقع پر خریداری، فیشن اور تجارتی سرگرمیوں کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی علامت ہے کہ عید کی روحانی جہت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ جدید معاشرت میں عید کی خوشیوں کا اظہار اکثر خریداری اور ظاہری تقریبات تک محدود ہو گیا ہے۔ اس صورتحال میں عید کا اصل فلسفہ یعنی شکرگزاری، انابت اور رجوع الی اللہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔یہ رجحان صرف اسلامی معاشروں تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے دیگر مذاہب کے تہوار بھی اسی تبدیلی سے گزر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: حسد:جب انسان بھول جاتا ہے کہ نعمتوں کی تقسیم اللہ کی حکمت کے مطابق ہے

عید کی روح کی بازیافت

عید کی اصل روح کو زندہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ مسلمان قرآن و سنت اور سلف صالحین کے طرزِ عمل سے رہنمائی حاصل کریں۔

عید کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ:

• اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے 

• عبادت کے ذریعے روحانی سکون حاصل کیا جائے

• معاشرے کے کمزور افراد کی مدد کی جائے

• مسلمانوں میں محبت اور اخوت کو فروغ دیا جائے

اسلام کا فلسفہ ٔ  عید ایک جامع روحانی اور سماجی نظام پیش کرتا ہے۔ سلف صالحین کے طرزِ عمل سے واضح ہوتا ہے کہ عید محض ظاہری خوشی کا دن نہیں بلکہ روحانی کامیابی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا مظہر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ربّ کی معرفت کا ذریعہ

عصرِ حاضر میں مادیت اور صارفیت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باوجود اسلامی عید کا حقیقی فلسفہ انسانیت کیلئے ایک متوازن اور روحانی پیغام پیش کرتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسلمان عید کو اس کے اصل روحانی مفہوم کے ساتھ منائیں اور سلف صالحین کے طرزِ عمل کو اپنی زندگی میں اختیار کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK