عید آتی ہے اور چلی جاتی ہے، کبھی ٹھہرتی نہیں ہے، شاید یہ اس کے نام کا اثر ہے۔ اُس کے نام کا لغوی معنی بار بار لوَٹ کر آنے والے دن کا ہے۔ اُس کے نام کا ایک اور معنی خوشی کا ہے۔ کون ہے جو اُس کی آمد پر خوش نہیں ہوتا؟وہ اپنے نام کے دونوں معانی کو نبھاتی ہے۔
عید آئی تو یہ جان کر خوشی کے شادیانے بجاتی رہی کہ اس کے خیر مقدم کی تیاری پورا رمضان جاری رہی۔ آخر کے چند دنوں میں تو حد ہی ہوگئی۔ لوگ روزہ رکھ کر ہاٹ بازاروں کے چکر کاٹتے رہے، کبھی یہ بھی ہوا کہ جس بازار میں مصروفِ خریداری تھے وہیں افطار کیا اور وہیں جیسے تیسے نماز ادا کرلی، پھر دیر رات گھر واپس آئے۔
عید کو یہ جان کر بھی خوشی ہوئی کہ مردوں نے تو کم، خواتین نے اس کے استقبال کیلئے زیادہ قربانیاں دیں ۔ روزہ رکھا اور گھریلو ذمہ داریاں نبھائیں مگر خریداری میں کوتاہی نہیں ہونے دی، درزی کو بار بار فون کیا، ایک ایک لباس کے ملتے جلتے رنگ کے دوپٹوں کیلئے کہاں کہاں کی خاک نہیں چھانی، ملتے جلتے رنگ کی چوڑیوں کیلئے بھی دوڑ دھوپ کی، بچوں کے ملبوسات کیلئے سرگرم رہیں کیونکہ ان کے خیال میں عید کا استقبال شایان شان ہونا چاہئے۔
عید یہ سوچ کر کافی متاثر ہوئی کہ لوگ اس کے استقبال کیلئے کتنا اہتمام کرتے ہیں جبکہ وہ صرف ایک دن کیلئے آتی ہے۔ اس کا دل یہ دیکھ کر بھی مسرت سے بھر گیا کہ نمازِ دوگانہ کیلئے لوگ صف در صف کھڑے ہیں ، کوئی محمود ہے نہ کوئی ایاز، سب کے چہروں پر شادمانی ہے، مہینے بھر کے روزوں سے چہرے پر اضمحلال ہو سکتا تھا مگر نہیں ہے یا ہو سکتا ہے شادمانی نے اسے ڈھک لیا ہو۔ عید نے ایک ایک چہرے کا جائزہ لیا، اسی اثناء میں اس کا جی چاہا کہ اپنے آپ پر ناز کرے، پھر وہ خود سے گویا ہوئی کہ مصلیان کے چہروں پر یہ تازگی، یہ تابانی میری وجہ سے ہے، میں جو آئی ہوں !
یہ عید کی بہت اہم خوبی ہے۔ وہ جتنی سنجیدہ ہے اُتنی ہی شوخ بھی ہے، بڑوں سے بڑوں کی طرح ملتی ہے، حد ادب کا پاس رکھتی ہے اور بچوں سے بچوں کی طرح ملتی ہے، کبھی شوخی اور شرارت کے انداز میں اور کبھی معصو م اداؤں کے ساتھ۔ تب ایسا لگتا ہے وہ باغ کی تتلیوں جیسی ہے۔ جیسے تتلیوں سے باغ کے حسن میں اضافہ ہوتا ہے ویسے ہی عید سے بچوں کی دُنیا میں رنگوں کا ترشح ہوتا ہے۔
عید کی عادت ہے جب بھی آتی ہے بھول کر بھی کہیں نہیں بیٹھتی۔ دن بھر مصروف رہتی ہے، کبھی یہاں کبھی وہاں ۔ آج بھی اس روایت پر قائم ہے۔ ابھی عید گاہ کے صدر دروازہ پر تھی، اب مصافحہ و معانقہ کرنے والوں کے درمیان ہے۔ ابھی گداگروں کے مجمع کے قریب تھی اور اب کھلونوں کی دکان پر بچوں کی ٹولیوں کے بیچ سے راہ بناتی ہوئی گزر رہی ہے۔ جس نے بھی اُسے دیکھا یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکا کہ جس کی جتنی عمر ہے وہ اتنے سال سے عید کو دیکھ رہا ہے، وقت بدلا، زمانہ بدلا، بستیوں کا جغرافیہ بدل گیا، عمارتوں کا انداز تبدیل ہوا اور نہ جانے کیا کیا بدل گیا مگر عید نہیں بدلی۔ اُس کے انداز میں آج بھی وہی دلبری ہے جو تھی۔ اُس کی ادائیں آج بھی اُتنی ہی دل پزیر ہیں جتنی تھیں ۔ اُس کا سبھاؤ ویسا ہی ہے جیسا تھا۔ جب بھی آتی ہے صبح کے ماحول میں تقدس گھل جاتا ہے، شجر و حجر مؤدب اور ہوا خوشگوار و خوش خرام ہوجاتی ہے، سب کچھ دھلا دھلا سا، اُجلا اُجلا سا محسوس ہوتا ہے جیسے ہر شے آمد ِ عید کا جشن منا رہی ہو، پھر پورا دن ایسے گزرتا ہے جیسے رنگ برنگی غبارے چاروں طرف پھیلے ہوئے ہوں اور وقت اُن کے درمیان سے جھومتا گاتا گزر رہا ہو۔
لوگ ایک دوسرے سے عید ملتے ہیں تو عید پر سرور طاری ہوجاتا ہے۔ ہرچند کہ عید ملنے کی روایت کمزور پڑ چکی ہے، مصافحوں اور معانقوں کی جگہ وہاٹس ایپ پر قسم قسم کے پیغاموں نے لے لی ہے اور مبارکبادیاں تکنالوجی کے دوش پر سوار ہیں ، عید کو اس کا شکوہ تو ہے مگر وہ ہدیہ ٔ تبریک کی روایت کے برقرار ہونے پر خود کو سمجھا بجھا لیتی ہے۔ اکیسویں صدی کے انسان سے اُسے کوئی خاص اُمید نہیں ہے مگر خود پر یقین ہے کہ وہ چاہے دو ہزار چھبیس کا انسان ہو یا آئندہ زمانے میں دو ہزار پچاس کا، وہ آئے گی تو ہر خاص و عام خوش ہی ہوگا کیونکہ اُس کا نام بھی خوشی ہے اور کام بھی۔ وہ جانتی ہے انسان انسان سے کٹ سکتا ہے، عید سے نہیں ۔ عید آسمان سے اُترنے والے فرشتے اور بہشت سے بھیجے گئے تحفے جیسی ہے جس سے کسی کو انکار نہیں ۔
عید ابھی ابھی کھلونوں کی دکان پر بچوں کی ٹولیوں کے بیچ سے گزر رہی تھی مگر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ اب ذرا آگے بڑھ کر اُس ایک بچے سے محو گفتگو ہے جو ہنسنے کھیلنے اور خوشیاں منانے والے بچوں سے دور ایک کونے میں بیٹھا رو رہا تھا۔ عید نے اُسے دلاسہ دیا کہ بیٹا غم نہ کر، دُنیا ابھی اچھے لوگوں سے خالی نہیں ہوئی ہے، عنقریب کوئی صاحب ِخیر یہاں سے گزریگا اور نبی ٔ معظم ؐ کے واقعہ سے روشنی لیتا ہوا تجھے گود میں اُٹھا کر اپنے گھر لے جائیگا، نئے کپڑے پہنائے گا، سر پر ہاتھ پھیرے گا اور تجھے اپنی کفالت میں لے لے گا۔
عید کو اور بھی کئی مقامات پر جانا ہے اس لئے وہ آگے بڑھ گئی مگر اُس بچے کی افسردگی اُس کے دامن سے لپٹ گئی، چاہتی ہے کہ اُس کی طرف کسی کو متوجہ کرے، اُسے کسی کی سرپرستی میں دے دے مگر اُس کے پاس وقت کم ہے۔ وہ بار بار لوٹ کر آنے والی شے (عید کا لغوی معنی) ہے، بار بار آسکتی ہے، ایک بار آکر ٹھہر نہیں سکتی۔
عید اب اُس مکان کے ملبہ کے سامنے کھڑی ہے جس کے مکین پچھلے سال خوشیاں منا رہے تھے، مکان کے اندر سے قہقہے اُبل رہے تھے اور سوئیوں اور شیر خرمے کی خوشبو فضا میں بکھری ہوئی تھی۔ عید نے مستفسرانہ نگاہوں سے آس پاس کے لوگوں کو دیکھا، معلوم ہوا کہ مکان پر انتظامیہ نے بلڈوزر چلا دیا۔ عید کا چہرا متغیر ہوگیا۔ وہ وہاں ٹھہری نہیں ، شاید مکینوں کو تلاش کرنے کے ارادہ سے آگے بڑھ گئی۔
اِس وقت عید اُس مکان کے سامنے ہے جس پر اُس نے گزشتہ سال دستک دی تھی۔ وہاں ایک بزرگ اپنی لائق و فائق اولاد کی بے توجہی کے سبب بیماری و بے چارگی کے دن گزار رہے تھے۔ عید نے پھر قریب کے لوگوں پر سوالیہ نگاہ ڈالی، پتہ چلا عمر دراز چار دن کی تھی، بقیہ دو دِن انتظار میں کٹے۔ رُخ ِعید پر تاسف کی ایک لکیر اُبھر کر رہ گئی۔ اُس کے لب ہلے، پتہ نہیں اُس نے باپ کیلئے دُعا کی یا اولاد کیلئے بد دُعا۔ بہرکیف، اب اُس پر عجلت طاری ہے۔ اُسے اور بھی کئی جگہوں پر جانا ہے اور وقت کم ہے۔ہر سال اذانِ مغرب سے پہلے وہ لوَٹ جاتی ہے۔ مَیں اُسے دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ غزہ اور ایران سے واپسی پر اُس کی حالت کتنی غیر ہوئی ہوگی۔