سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کا یہ کہنا کہ ’’ہم مشکل وقت میں ساتھ نہیں چھوڑتے‘‘ کانگریس پر براہ راست طنز ہے جو اِن دنوں تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کا ساتھ چھوڑنے کیلئے سرخیوں میں ہے۔ کا
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کا یہ کہنا کہ ’’ہم مشکل وقت میں ساتھ نہیں چھوڑتے‘‘ کانگریس پر براہ راست طنز ہے جو اِن دنوں تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کا ساتھ چھوڑنے کیلئے سرخیوں میں ہے۔ کانگریس نے ڈی ایم کے سے اپنے دیرینہ تعلقات کو فی الفور ختم کردیا اور تھلاپتی وجے کی پارٹی ’’کے وی سی‘‘ کے ساتھ اتحاد کرلیا۔ کہا جاتا ہے کہ سیاست میں مستقل نہ تو دشمنی رہتی ہے نہ ہی دوستی، چنانچہ دوست ہمیشہ دوست رہے گا اس کی ضمانت نہیں دی جاسکتی اور حریف ہمیشہ حریف رہے گا اس کی بھی گیارنٹی کوئی نہیں دے سکتا۔ دورِ حاضر میں اس کے مظاہر کچھ زیادہ ہی دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ کیا کانگریس بھی ہوا کے رُخ پر چلنے لگی ہے؟
سچ پوچھئے تو اِس پارٹی میں بھی سرخاب کے پر نہیں لگے ہیں ۔ اس میں موجود لیڈروں نے کب کون سے فیصلے کئے، کون سی پالیسیاں اپنائیں اور کس طرح سماج کے مختلف طبقات کو حتیٰ کہ اقلیتوں کو بھی کتنے دکھ دیئے اور اپنے فیصلوں سے زک پہنچائی، اسے یاد کرنے کیلئے ذہن پر زور ڈالنے کی ضرورت نہیں ، مگر برائے نام ہی سہی، سیکولرازم سے جڑے رہنا اہم ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب یہ لفظ ناپسندیدہ الفاظ میں شامل کرلیا گیا ہے اور سیکولرازم کی بات کرنے والوں کو مغلظات سے نوازنا عام ہوگیا ہے۔ کانگریس اپنی اقدار سے دوبارہ وابستہ ہوسکتی ہے اس کا احساس بھارت جوڑو یاترا نکالنے والے راہل گاندھی کی وجہ سے بھی پیدا ہوا ہے جنہیں اُن کے حامی ہی نہیں ، مخالفین بھی مانتے ہیں ۔ مگر، ڈی ایم کے سے تعلق راہل گاندھی کے رہتے ہوئے توڑا گیا ہے یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے۔اس لئے اکھلیش کے طنز میں ہمیں کوئی بُرائی نظر نہیں آتی۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ کانگریس کو ڈی ایم کے سے اپنے پرانے تعلق کو نبھانا چاہئے تھا، اس لئے بھی کہ یہ پارٹی اپنے نظریات پر قائم رہی ہے اور مخالف حالات سے سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔
ایک بات اور ہے۔ وہ یہ کہ اس پارٹی کی جڑیں تمل ناڈو کی زمین میں کافی دور تک پہنچی ہوئی ہیں ۔ ا سلئے بہت ممکن ہے کہ آج نہیں تو کل یہ دوبارہ اقتدار میں آئے۔ کانگریس کو یہ بھی ملحوظ رکھنا چاہئے تھا کہ جس نئی پارٹی سے اُس نے دوستی کی ہے اُس کا کوئی رکن پارلیمان نہیں ہے جبکہ اسٹالن کی پارٹی کے اراکین ہیں جو قومی سطح پر کانگریس کیلئے بہت اچھا سہارا تھا۔ اب دیکھ لیجئے کہ اِدھر دوستی ٹوٹی اُدھر پارٹی لیڈر اور رکن پارلیمان کنی موزی نے لوک سبھا کے اسپیکر کو خط بھیج دیا کہ ہمارا اور کانگریس کا تعلق ختم ہوچکا ہے اس لئے ایوان میں ہماری نشستیں بدل دی جائیں جو کانگریس کے ساتھ ہوا کرتی ہیں ۔ اتنی جلدی اتنی بڑی دراڑ پیدا ہوجائیگی اس کا اندازہ مشکل تھا۔ تھلاپتی اجے کی شہرت اور مقبولیت کے ذریعہ کانگریس تمل ناڈو میں اپنی پوزیشن مستحکم کرسکتی ہے جو ڈی ایم کے کی وجہ سے نہیں ہو پارہی تھی۔ اس کا شکوہ بھی کانگریس کو تھا بلکہ کئی بار کانگریس کی بے اطمینانی کے اشارے بھی ملے، مگر، ریاستی فائدے کیلئے قومی سطح پر ایک حلیف کو چھوڑ دینا کم از کم ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔ ہم نہیں جانتے کہ کانگریس ہائی کمان نے کیا سوچ کر فیصلہ کیا ہوگا۔
اقتدار میں شرکت کے علاوہ بھی فائدے ہونگے جو دکھائی نہیں دے رہے ہیں مگر نقصان ہے کہ صاف نظر آرہا ہے۔ کانگریس جنوبی ہند میں مضبوط ہونا بھی چاہتی ہے اور ایک اہم پارٹی کو چھوڑ کر آگے بڑھنا بھی چاہتی ہے۔ یہ عجیب منطق ہے۔