Inquilab Logo Happiest Places to Work

اکھلیش یادو ممتا بنرجی سے ملنے بنگال پہنچے

Updated: May 08, 2026, 1:01 PM IST | Kolkata

کہا کہ : ’’دیدی آپ لڑی ہیں، ہاری نہیں‘‘، بی جے پی نے تنقید کی۔

Akhilesh Yadav brought a shawl as a gift from Lucknow for Mamata Banerjee. Photo: INN
اکھلیش یادو، ممتا بنرجی کے لئے لکھنؤ سے شال کا تحفہ لے کر آئے تھے۔ تصویر: آئی این این

مغربی بنگال  کے الیکشن میں ممتا بنرجی کی ہار کے بعد انہیں تسلی دینے اور یکجہتی کا اظہار کرنے کیلئے  جمعرات کو سماجوادی پارٹی کے سربراہ  اکھلیش یادو کولکاتا  پہنچے جہاں  انہوں  نے دیدی سے ان کی رہائش گاہ پرملاقات کی۔یہاں ممتا کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی بھی موجود تھے ،اکھلیش ان سے گلے ملے اور کہا کہ ’’آپ نے بہت اچھی طرح الیکشن لڑا ہے‘‘ اکھلیش یادو کا خیر مقدم کرنے کیلئے خود ممتا بنرجی گھر کے دروازے تک آئیں۔ اکھلیش ٹی ایم سی سربراہ  کیلئے  شال لے کر گئے تھے۔ جیسے ہی وہ شال اوڑھانے کیلئے  آگے بڑھے، ممتا نے کہاکہ ’’اس کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ اس پر اکھلیش بولے، ’’دیدی، آپ لڑی ہیں... آپ ہاری نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بات تین بار دہرائی۔اس کے بعد ممتا نے انہیں اندر آنے کے لیے کہا۔ اکھلیش نے کمرے کے باہر ہی جوتے اتارے اور پھر اندر چلے گئے۔ٹی ایم سی نے ایکس پوسٹ پرلکھاکہ ہے کہ ’’ کچھ رشتے سیاست اور وقت سے کہیں اوپر ہوتے ہیں۔ ہر دور کے ساتھ وہ اور مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔‘‘ دوسری طرف یوپی بی جے پی نے اس ملاقات پر طنزکیا ہے۔  اس نے ایکس  پوسٹ کیا ہے کہ ’’ناامیدی بڑھ گئی ہے اس قدرکہ  پنکچر سائیکل  لئےدر بدر بھٹک رہے  ہیں،‘‘ اطلاعات کے مطابق سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو بنگال انتخاب کے نتائج آنے کے اگلے دن یعنی ۵؍ مئی کو ہی کولکاتا جانے والے تھے، لیکن ممتا بنرجی نے انہیں روک  دیا تھا۔ اکھلیش بنگال انتخابات میں تشہیر کیلئےنہیں پہنچ پائے  تھے، لیکن سوشل میڈیا کے ذریعے ممتا کے حق میں ماحول بناتے رہے۔اس سے پہلے کولکاتا ایئرپورٹ پر ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک او برائن نے اکھلیش کا استقبال کیا۔ میڈیا سے بات چیت میں اکھلیش نے کہاکہ’’ دیدی بی جےپی کی آنکھوں  میں کھٹکتی ہیں کیوں کہ وہ ملک کی نصف آبادی (خواتین) کی نمائندگی کرتی ہیں۔ بی  جے پی  زمین دارانہ خیالات کی حامل ہے جبکہ اس کےساتھی مردوں کی بالادستی میں یقین رکھتے ہیں  اسلئے ایک خاتون کو آگے بڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK