ایپسٹین فائلز کیا ہیں ؟ یہ ’’پینڈوراز باکس‘‘ ہے۔ آپ کہیں گے پینڈوراز باکس کیا ہے؟ یونانی دیو مالائی کہانیوں کی پہلی خاتون پینڈورا تھی جسے دیوتاؤں کے بادشاہ نے ایک ڈبہ یہ کہتے ہوئے دیا تھا کہ اسے کبھی مت کھولنا۔ اس حکم کی وجہ سے پینڈورا کا تجسس بڑھ گیا
ایپسٹین فائلز کیا ہیں ؟ یہ ’’پینڈوراز باکس‘‘ ہے۔ آپ کہیں گے پینڈوراز باکس کیا ہے؟ یونانی دیو مالائی کہانیوں کی پہلی خاتون پینڈورا تھی جسے دیوتاؤں کے بادشاہ نے ایک ڈبہ یہ کہتے ہوئے دیا تھا کہ اسے کبھی مت کھولنا۔ اس حکم کی وجہ سے پینڈورا کا تجسس بڑھ گیا۔ کافی عرصہ اس نے خود کو دیوتاؤں کے حکم کی تعمیل پر مجبور رکھا مگر ایک دن اس کا تجسس جواب دے گیا اور اس نے ڈبہ کھول دیا۔ فوراً ہی اس ڈبہ سے دُنیا کی ہر برائی مثلاً نفرت، جعلسازی، بھوک، غربت، بیماری اور پریشانی، اس طرح نکلنے لگی جیسے کبھی کبھی کسی پتھر کو ہٹائیے تو بے شمار چیونٹیاں پریشان ہو کر باہر نکلتی ہیں ۔ پینڈورا اِتنی بُرائیوں کو دیکھ کر گھبرا گئی، ڈبہ بند کرنا چاہا مگر اس سے قبل کہ وہ اسے بند کرپاتی ساری برائیاں دور دور تک پھیل چکی تھیں ۔
ایپسٹین فائلز سے بھی نئے نئے انکشافات ہورہے ہیں اور قید و بند کی سزا کے دوران خود کشی کرنے والے ایپسٹین سے رابطہ، مراسلت وغیرہ کے سلسلے میں اب تک کئی لوگوں کے نام سامنے آچکے ہیں جن کو اعلیٰ عہدوں سے عزت ملی مگر اب انہی عہدوں کا وقار ان لوگوں کی ایپسٹین سے نسبت کی وجہ سے مجروح ہو رہا ہے۔
اس کی وجہ سے مغرب میں تہلکہ مچا ہوا ہے۔ یورپ میں کئی استعفے ہوچکے ہیں ، امریکہ میں صدر ِامریکہ خود ایپسٹین کے رابطے میں رہے۔ اب تک منظر عام پر آنے والی فائلوں میں اُن کا نام مبینہ طور پر چار ہزار مرتبہ آچکا ہے۔ اس کے باوجود وہ یورپی عہدیداروں کی طرح اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں بلکہ ڈھٹائی کررہے ہیں اور نہ تو خود استعفیٰ دینے کیلئے تیار ہیں نہ ہی کسی اور کو ایسا کرنے پر مجبور کررہے ہیں ۔ اس کی مثال اُن کے وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک ہیں جن کا نام ایپسٹین فائلز میں آچکا ہے مگر ٹرمپ انتظامیہ ان کا دفاع کررہا ہے۔
اس کے برخلاف یورپ میں آئے دن استعفے ہو رہے ہیں ۔ برطانوی کنگ چارلس کے بھائی اینڈریو کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں ۔ اُن کے شاہی اعزازات واپس لے لئے گئے ہیں ۔ سابق برطانوی وزیر اور امریکہ میں برطانیہ کے سفیر پیٹر منڈلسن کو بھی عہدہ سے دستبردار ہونا پڑا ہے۔ برطانی وزیر اعظم اسٹارمر کے چیف آف اسٹاف مورگن میسوینگی کو اس لئے استعفےٰ دینا پڑا کہ انہوں نے منڈلسن کو سفیر بنانے کی سفارش کی تھی۔ اعلیٰ عہدہ پر فائز یورپ کی اور بھی کئی شخصیات نے اخلاقی ذمہ داری قبول کی اور استعفےٰ دیا ہے مثلاً فرانس کے سابق ثقافتی وزیر جیک لانگ پیرس میں قائم عرب ورلڈ انسٹی ٹیوٹ کی صدارت سے علاحدگی اختیار کرچکے ہیں ۔ ناروے میں ، اردن اور عراق کی سفیر مونا جو‘ل کا استعفےٰ قبول کیا گیا ہے۔ وہاں کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈ نے کہا کہ اگر وہ علاحدہ نہ ہوئیں تو اس عہدہ کیلئے لازمی اعتماد بحال نہیں رہ سکے گا۔ فرانس اور سویڈن میں بھی استعفے ہوئے ہیں ۔ چند ایک کو، جو استثنیٰ ہے، چھوڑ دیا جائے تو امریکہ استعفے نہیں ہوئے جہاں خود سربراہ کا نام آنے اور بار بار آنے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔
معلوم ہوا کہ سیاسی اخلاقیات کے معاملے میں یورپ امریکہ سے آگے ہے یعنی امریکہ اتنا پیچھے ہے کہ یورپ سے اس کا کوئی موازنہ نہیں ۔ اس سے یورپی اور امریکی میڈیا کی صورت حال کا بھی پتہ چلتا ہے کہ میڈیا کہاں اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے اور کہاں نہیں ۔ یہ بھی علم ہوتا ہے کہ کہاں عوام بیدار ہیں ، کہاں نہیں ۔