• Mon, 16 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تین سو تراسی کمپنیاں

Updated: February 16, 2026, 2:01 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

گزشتہ دنوں یہ حیران کن خبر مشتہر ہوئی کہ سرکاری ملکیت اور سرکار ہی کی سرپرستی میں تین سو تراسی کمپنیاں ایسی ہیں جو غیر فعال ہیں ۔ سرکاری ملکیت اور سرپرستی کے باوجود ان کمپنیوں کا غیر فعال ہونا سمجھ میں نہیں آتا۔

INN
آئی این این
  گزشتہ دنوں  یہ حیران کن خبر مشتہر ہوئی کہ سرکاری ملکیت اور سرکار ہی کی سرپرستی میں  تین سو تراسی کمپنیاں  ایسی ہیں  جو غیر فعال ہیں ۔ سرکاری ملکیت اور سرپرستی کے باوجود ان کمپنیوں  کا غیر فعال ہونا سمجھ میں  نہیں  آتا۔ خبر پڑھ کر یکلخت اور بیک وقت کئی سوالات ذہن میں  ابھرتے ہیں ، مثلاًـ: کیا یہ متعلقہ وزارت اور اس سے وابستہ حکام کی غفلت اور لاپروائی کا نتیجہ ہے؟ کیا اس جانب کبھی توجہ دی ہی نہیں  گئی؟ کیا ان کے غیر فعال ہونے کا جائزہ لینے کی کوشش نہیں  کی گئی؟ کیا ان میں  سے سو پچاس کمپنیوں  کے احیاء کی کوشش نہیں  کی گئی؟ اگر ایسا ہوا ہے تو اس کا سبب کیا ہے؟ کیا ہر سال بجٹ میں  حکومت کی ان املاک کا احاطہ کیا جاتا ہے؟ کیا ان کی وجہ سے تھوڑا بہت فائدہ ہوتا ہے یا ہر سال بڑا نقصان ہوتا ہے؟ زیر بحث رپورٹ سے ان سوالات کا جواب نہیں  ملتا۔ البتہ رپورٹ سے جن باتوں  کا علم ہوتا ہے وہ اس طرح ہیں :
ان تین سو تراسی کمپنیوں  میں  مرکزی حکومت کی ملکیت والی کمپنیاں  بھی ہیں  اور ریاستی حکومت کی ملکیت والی کمپنیاں  بھی۔ ان میں  کچھ ضمنی کمپنیاں  بھی ہیں  جو سبسیڈیئری کہلاتی ہیں ۔ ان کا سالانہ کاروبار (ٹرن اوور) صفر ہے، صنعتی پیداوار بھی صفر ہے اور کئی جگہوں  پر کوئی ملازم بھی نہیں  ہے مگر ان کمپنیوں  کا وجود برقرار ہے صرف کاغذ پر نہیں  بلکہ ان کی عمارت، ان کا ڈھانچہ، ممکنہ طور پر مشینیں  وغیرہ اب اپنی جگہ پر ہیں ۔ یہاں  بھی ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کی اراضی ناجائز قبضے سے پاک ہے؟ کیا یہاں  موجود مشینیں  محفوظ ہیں ؟ کیا ان کی دیکھ ریکھ ہوتی ہے؟ اگر دیکھ ریکھ بھی ہوتی ہے مگر ان کا استعمال نہیں  رہ گیا ہے تو اب تک کی کسی حکومت نے انہیں  فروخت کیوں  نہیں  کردیا؟
سوالات بہت ہیں  مگر اب جبکہ یہ رپورٹ منظر عام پر آئی ہے ہمارا خیال ہے کہ یہ بلا وجہ نہیں  ہوسکتی۔ ہوسکتا ہے کہ حکومت کا ان املاک کے بارے میں  کوئی نظریہ ہو، کوئی منصوبہ ہو۔ اگر ایسا ہے تو وہ کیا ہے یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں  ہوگا کیونکہ ان املاک کے بارے میں  چار متبادلات ہوسکتے ہیں : ایک یہ کہ انہیں  فروخت کر دیا جائے۔ دوسرا یہ کہ ان کی غیر فعالیت ختم کرکے انہیں  از سر نو فعال بنایا جائے۔ تیسرا یہ کہ ان میں  انتخاب کیا جائے کہ کن میں  سرمایہ کاری کا فائدہ ہوگا اور کن کو یوں  ہی چھوڑ دینا یا فروخت کردینا بہتر ہوگا۔ چوتھا اور آخری متبادل یہ ہے کہ انہیں  کسی فعال کمپنی میں  ضم کردیا جائے۔
مگر رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں  کئی مقدموں  کی مار جھیلنے والی کمپنیاں  ہیں ۔ جب تک کورٹ کیسیز کا نمٹارا نہیں  ہوتا تب تک ان کے مستقبل کا فیصلہ ممکن نہیں ۔ رپورٹ سے یہ علم بھی ہوتا ہے کہ کمپنیوں  کی املاک کی مالیت اور اثاثہ سے کی مالیت کا تعین، قرضوں  کے بارے میں  فیصلہ کرنا، ملازمین کی دین داری اور تنازعات کا نمٹارا آسان نہیں  ہے لہٰذا جن کے خلاف کورٹ کیسیز نہیں  ہیں  انہیں  بھی آسانی سے فروخت یا ختم یا ضم نہیں  کیا جا سکتا۔ بہرکیف، یہ کمپنیاں  ملک کا اثاثہ ہیں  اور ان کا یوں  بانجھ، بنجر، بیکار اور بے سود بنا رہنا کسی کے مفاد میں  نہیں  ہے۔
company Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK