• Mon, 16 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عوامی زمرے کی کمپنیوں کو بیچنے کی حقیقت

Updated: July 07, 2025, 4:25 PM IST | Bharat Jhunjhunwala

اکثر لوگ نہیں جانتے کہ پی ایس یوز کیا ہوتی ہیں اور عوامی زمرے کی ان کمپنیوں کو نجی ہاتھوں میں دینے کا مطلب کیا ہے۔ اب جبکہ حکومت کئی پی ایس یو بیچنے کا فیصلہ کرچکی ہے، یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا ہورہا ہے اور جو ہورہا ہے وہ کتنا ٹھیک ہے۔

Public sector companies. Photo: Jagran
عوامی زمرے کی کمپنیاں۔ تصویر: جاگرن

حکومت نے عوامی زمرے کی تین بڑی کمپنیوں (پی ایس یو) کو سرکاری ملکیت سے نکال کر نجی زمرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کمپنیاں ہیں: بھارت پٹرولیم، شپنگ کارپوریشن آف انڈیا اور کونکور۔ حکومت کی تیاری یہ ہے کہ ان کمپنیوں میں اپنے حصص کی بڑی تعداد فروخت کر دے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ عوامی زمرے کی ان کمپنیوں کی باگ ڈور اور ان کا انتظامیہ حکومت کے ہاتھوں سے نکل کر اُس ادارے کے ہاتھوں میں چلا جائیگا جو انہیں خریدے گا۔ حکومت کی تجویز یہ بھی ہے کہ ’’نارتھ ایسٹرن الیکٹرک پاور کارپوریشن لمیٹیڈ‘‘ (نیپکو) اور’’ٹہری ہائیڈرو پاور ڈیوڈلپمنٹ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹیڈ (ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل) کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی کرے۔ نیپکو نامی کمپنی شمال مشرقی ریاستوں میں بجلی کی پیداوار کے لئے مشہور ہے جبکہ ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل اُتراکھنڈ میں واقع ہے مگر یہ بھی بجلی کی پیداوار کے لئے جانی جاتی ہے۔ ان دونوں کمپنیوں کے بیشتر شیئر نیشنل تھرمل کارپوریشن آف انڈیا (این ٹی پی سی) کو فروخت کئے جائینگے جو خود بھی حکومت کی ملکیت ہے۔ فرق یہ ہوگا کہ نیپکو اور ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل جو فی الحال حکومت کی ملکیت ہیں،  بیچ دیئے جانے کے باوجود ، نیشنل تھرمل کی وساطت سے حکومت ہی کی ملکیت رہیں گے، یہ الگ بات کہ حکومت کا یہ قبضہ بالواسطہ ہوگا جو پہلے بلا واسطہ تھا،مگر بجلی پیدا کرنے والی ان دو کمپنیوں کے شیئر نیشنل تھرمل کو بیچنے سے حکومت ۱۶؍ ہزار کروڑ روپے حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیگی۔ 
 نیپکو نے حال ہی میں اپنے ۳؍ سو کروڑ کے بانڈ فروخت کرنے کی کوشش کی مگر صرف ۱۳؍ کروڑ کے بانڈز میں دلچسپی دکھائی گئی جو اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ اس کمپنی سے مارکیٹ کو اطمینان ہے نہ اس پر بھروسہ۔ ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ یہ کمپنی جو بجلی پیدا کرتی ہے اُسے مختلف بجلی بورڈوں کو ۱۱؍ روپے فی یو نٹ فروخت کرتی ہے جبکہ انڈیا اینرجی ایکس چینج میں یہی بجلی ۴؍ روپے فی یونٹ کے حساب سے دستیاب ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو ریاستیں ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل سے بجلی خریدتی ہیں مثلاً اُترپردیش، اُتراکھنڈ اور دہلی، وہاں کے عوام کو ضرورت بھر بجلی مہنگے داموں خرید کر نقصان اُٹھانا پڑتا ہے جبکہ ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل منافع میں چلتی ہے اور اپنے منافع کو اُتراکھنڈ کے ایک ایسی جگہ لگاتی ہے جو سراسر گھاٹے میں ہے۔ جی ہاں، وشنو گڑھ پیل کوٹی ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کہلانے والا یہ پروجیکٹ گھاٹے میں ہے۔ اسے کابینی کمیٹی برائے معاشی اُمور نے ۲۰۰۸ء میں ۲؍ ہزار ۴؍ سو کروڑ کے تخمینے کے ساتھ ۲۰۱۳ء تک تکمیل تک پہنچ جانے کی شرط پر منظور کیا تھا۔ یہاں پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت اُس وقت ۲؍ روپے ۲۶؍ پیسے بتائی گئی تھی لیکن اب پروجیکٹ ہی پر آنے والی لاگت ۴؍ ہزار ۴؍ سو کروڑ ہوگئی ہے اور اس کی تکمیل ۲۰۲۲ء تک ممکن ہوسکے گی ا س لئے خیال کیا جاتا ہے کہ جب اس پروجیکٹ سے بجلی تیار ہونے لگے گی تب ۶؍ روپے ۴۲؍ پیسے فی یونٹ ہوگی جبکہ آج یہی بجلی ۳؍روپے ۶۲؍ پیسے فی یونٹ دستیاب ہے۔   
  یہ محض اندازہ ہے۔ جب بجلی کی پیداوار شروع ہوگی تب ممکن ہے کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت اس سے بھی زیادہ ہو۔ پروجیکٹ جو ۲۰۱۳ء میں مکمل ہوجانا چاہئے تھا، اب ۲۰۲۲ءتک ململ ہونے کی اُمید ہے ۔ پروجیکٹ کا اب تک کا کام نصف سے بھی کم ہوا ہے۔ اگر اب تک کی تاخیر بدستور جاری رہی تو یہ پروجیکٹ۲۲ء میں بھی مکمل نہ ہوکر ۲۰۳۰ء میں مکمل ہوسکتا ہے۔ تب جو بجلی پیدا کی جائے گی اس کی قیمت ۱۲؍ روپے فی یونٹ ہوگی جبکہ بازار میں بجلی کی قیمت ۳؍ روپے ہونے کی اُمید ہے کیونکہ تب تک سولار پاور کی وجہ سے سستی بجلی مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔ اس کے باوجود ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل کو منافع ہوگا کیونکہ اس نے اُترپردیش بجلی بورڈ سے معاہدہ کررکھا ہے۔ سوچئے مارکیٹ میں نہایت کم قیمت پر بجلی دستیاب ہونے کے باوجود یوپی کے عوام کو مہنگی بجلی خریدنی پڑے گی کیونکہ یوپی بجلی بورڈ، پیپل کوٹی پروجیکٹ سے ۱۲؍ روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خریدے گا بالکل اسی طرح جیسے کئی ریاستیں ۱۱؍ روپے فی یونٹ بجلی ٹہری پروجیکٹ سے خرید رہی ہیں۔ ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا ہوگا اگر اسے اُس وقت مارکیٹ میں جاری شرح کے حساب سے بجلی فروخت کرنی پڑی۔ 
 حقیقت یہ ہے کہ نیپکو اور ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل سخت خسارے میں ہیں مگر ان کا خسارہ صارفین کو زیادہ قیمت پر بجلی سپلائی کرنے کے حربے کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ بہ الفاظ دیگر، اگر ان کمپنیوں کو مارکیٹ کی موجودہ قیمت پر بجلی سپلائی کرنی پڑے تو انہیں سخت نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا۔ 
 ان کمپنیوں کے شیئرس کو نیشنل تھرمل کے ہاتھوں فروخت کرکے حکومت کو بالکل ویسا ہی منافع ہورہا ہے جیسا کہ ایک سبزی فروش خراب سبزی ایسے گاہک کے ہاتھوں بیچ دے جو سمجھ نہ پایا ہو کہ سبزی خراب ہوچکی ہے۔ جب گھر جاکر اُس گاہک کو سبزی کی حقیقت معلوم ہوگی تو اس کا کیا ردعمل ہوگا یہ سمجھا جاسکتا ہے۔ 
 مسئلہ دراصل یہ ہے کہ اتنی ساری باریکیاں عام آدمی نہیں جانتا ہے اور حکومت سب کچھ بتانا نہیں چاہتی۔ میڈیا کا جو رول ہونا چاہئے وہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود ان کمپنیوں کے بیشتر شیئرس کی فروخت کے پیچھے کیا راز ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ کمپنیاں حکومت کی ملکیت ہیں تو اس کا صاف اور سادہ مطلب یہ ہے کہ یہ ملک کے عوام کی املاک ہے اور عوام کو معلوم ہونا چاہئے کہ کیا ہورہا ہے۔ جہاں تک بھارت پیٹرولیم، شپنگ کارپوریشن آف انڈیا اور کنکور کو کسی بڑے گاہک (کمپنی) کو بیچ دینے کا سوال ہے، اس پر الگ سے بحث کی جاسکتی ہے مگر نیپکو اور ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل کے بیشتر شیئر فروخت کرکے حکومت دھوکہ کررہی ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK