یہ کہنا مشکل ہے کہ صدرِ امریکہ کے ترکش میں کتنے تیر ہیں مگر اتنا ضرور سمجھ میں آرہا ہے کہ اُن کے اکثر تیر ہماری ہی جانب چلتے ہیں ۔ ٹیرف کا ایک کے بعد دوسرا اعلان، دوسرے کے بعد تیسرا تسلسل کے ساتھ ہوا اور اب اُنہوں نے دواؤں کے شعبے کو بھی ہدف بنا لیا ہے۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ صدرِ امریکہ کے ترکش میں کتنے تیر ہیں مگر اتنا ضرور سمجھ میں آرہا ہے کہ اُن کے اکثر تیر ہماری ہی جانب چلتے ہیں ۔ ٹیرف کا ایک کے بعد دوسرا اعلان، دوسرے کے بعد تیسرا تسلسل کے ساتھ ہوا اور اب اُنہوں نے دواؤں کے شعبے کو بھی ہدف بنا لیا ہے۔ اُن کا تازہ فرمان یہ ہے کہ ہندوستان میں بننے والی بعض دوائیں ، جو برانڈیڈ اور پیٹنٹیڈ ہیں اور امریکہ ایکسپورٹ کی جاتی ہیں ، اُن پر سو فیصد ٹیرف لگے گا۔ اندازہ نہیں تھا کہ وہ ہندوستان کو مشق ستم کیلئے اِس طرح منتخب کرینگے۔ مسئلہ صرف ٹیرف کا نہیں ہے۔ وہ نئی دہلی کو رُسوا کرنے کی اور بھی تدبیریں آزما رہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ صدر بننے کے بعد جب وہ دُنیا کا نقشہ لے کر بیٹھے تھے کہ کہاں کہاں کس کس سے انتقام لینا ہے، تب سے لے کر اب تک گلوب کو ایک بار بھی جنبش نہیں دی، صرف ہندوستان پر اٹکے ہوئے ہیں ۔ کون نہیں جانتا کہ ہند پاک جنگ رُکوانے کا دعویٰ وہ اتنی بار کرچکے ہیں کہ اب، جب بھی لب کشا ہوتے ہیں وہی دعویٰ برآمد ہوتا ہے۔ یہ اپنے آپ میں ریکارڈ ہے اور شاید ورلڈ ریکارڈس کی سند جاری کرنے والے اب تک غافل ہیں ورنہ ایک ہی دعوے کو پچاسوں مرتبہ دُہرانے کا ریکارڈ تو اُن کے نام پر درج ہوجانا چاہئے تھا۔
اس پس منظر میں ، شاید ہی کوئی بتا سکے کہ ہندوستان کو ستانے کے اور کون کون سے منصوبے اُن کے پیش نظر ہیں ۔ اس لئے، ہم چاہتے ہیں کہ نئی دہلی ٹرمپیائی عنایات کا سلسلہ روکنے سے زیادہ ان سے پیدا ہونے والی مشکلات سے نمٹنے کی تیاری کرے۔ جی ایس ٹی میں اصلاحات جتنی ہونی چاہئے تھیں نہیں ہوئی ہیں ۔ کیا حکومت مزید چند قدم اور بڑھائے گی اور مزید اصلاحات کا اعلان کریگی؟
اگر حکومت کا منشاء یہ ہے کہ پبلک اسپینڈنگ بڑھے یعنی عوام زیادہ خرچ کریں تو اُن میں ’’قوتِ خرچ‘‘ پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ یہ قوت روزگار کی فراہمی سے ، مہنگائی کو لگام دینے سے اورعوام میں یہ اعتماد پیدا کرنے سے بڑھے گی کہ حکومت نے، جس پر چند بڑے صنعتکاروں کو فیض پہنچانے کا الزام ہے، اُن صنعتکاروں کی جانب سے روگردانی کرلی اور عوام کی فکر کررہی ہے۔ عوام کو ’’لابھارتی‘‘بنانا ٹھیک نہیں ، ایسے حالات پیدا کرنا چاہئے جن میں وہ اپنی روزی خود کمانے اور غیرتمندانہ زندگی گزارنے کی پرانی روِش پر دوبارہ گامزن ہوجائیں ۔ ہندوستانیوں کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ محنتی ہوتے ہیں ۔
بیرونی ملکوں میں مقیم ہندوستانیوں پر مقامی لوگوں کی رائے دریافت کیجئے تو دیگر خوبیوں کے علاوہ وہ محنتی ہونے کی خوبی کا خاص طور پر ذکر کرتے ہیں ۔ حکومت کیلئے اس سےبڑی اور کیا بات ہوسکتی ہے کہ پورا ملک محنت پر یقین رکھتا ہے۔آج اگر ایک بڑا طبقہ مفت راشن لے رہا ہے تو اس مجبوری میں لے رہا ہے کہ اُس کے پاس کام نہیں ہے۔ کام دیجئے پھر دیکھئے لوگ کس طرح اپنے خون پسینے سے اپنے مستقبل میں رنگ بھرتے ہیں ۔بہت اچھا ہوگا اگر حکومت کے کارپرداز اُنہیں مفت راشن کےچکرویوہ سے نکالیں اور محنت کی راہ پر ڈالیں تاکہ وہ سر اُٹھا کر جی سکیں اور اس بات پر فخر کرسکیں کہ اُن کے پاس جو کچھ ہے وہ اُن کی محنت کا صلہ ہے۔ ٹرمپ ہندوستان کو نیچا دکھا رہے ہیں مگر نیچا دیکھنے کے بجائے ہم خود کو اونچا اُٹھائیں ، یہی بہتر حکمت عملی اور ٹرمپ کی بے وفائی کا بہتر جواب ہوگا۔