Inquilab Logo Happiest Places to Work

بین الاقوامی عدالت کے تین ججوں کا امریکی پابندیوں کے خلاف مقدمہ

Updated: June 26, 2026, 7:03 PM IST | Hague

بین الاقوامی عدالت کے تین ججوں نے امریکی پابندی کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جن پابندیوں کا تعلق اسرائیل اور امریکہ سے متعلق تحقیقات پر عدالتی فیصلوں سے ہے۔

International Criminal Court (ICC). Photo: X
بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی)۔ تصویر: ایکس

 ڈچ براڈکاسٹر این او ایس نے جمعرات کو یہ اطلاع دی کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے تین ججوں نے امریکی حکومت کے خلاف ان پابندیوں پر مقدمہ دائر کیا ہے جن پابندیوں کا تعلق اسرائیل اور امریکہ سے متعلق تحقیقات پر عدالتی فیصلوں سے ہے۔یہ جج صاحبان ، جن کا تعلق کنیڈا، یوگنڈا اور بینن سے ہے، نے اپنا کیس مینہٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کیا، اور کہا کہ یہ پابندیاں غیر قانونی ہیں اور عدالتی آزادی پر حملہ ہیں۔واضح رہے کہ یہ پابندیاں، جو واشنگٹن نے گزشتہ سال عائد کی تھیں، ان میں مالی پابندیاں اور ویزا پابندیاں شامل ہیں جن کا نشانہ وہ جج اور آئی سی سی کے دیگر اہلکار ہیں جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم سے متعلق تحقیقات میں شامل ہیں۔ان اقدامات کے تحت، متاثرہ ججوں کو امریکہ میں موجود اثاثوں تک رسائی اور امریکی کمپنیوں یا خدمات سے متعلق لین دین کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ڈنمارک: اسلامائزیشن کے خدشات، اذان پر پابندی کی تجویز، قانونی جائزہ دوبارہ شروع

دریں اثناء امریکی حکام کی طرف سے جن فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ان میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں گرفتاری کا وارنٹ جاری کرنا بھی شامل ہے۔یاد رہے کہ امریکہ آئی سی سی کے دائرہ اختیار کو اپنے شہریوں یا ان اتحادی ممالک کے شہریوں پر تسلیم نہیں کرتا جو روم دستور (وہ معاہدہ جس کے تحت عدالت قائم ہوئی) کے فریق نہیں ہیں۔امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ عدالت کو امریکی شہریوں یا اس کے اتحادیوں کی پیروی کرنے کا اختیار نہیں، اور انہوں نے آئی سی سی کے اقدامات کو امریکہ اور اس کے شراکت داروں (بشمول اسرائیل) کی خودمختاری اور قومی سلامتی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیٹومخالف ٹرمپ اگلے ماہ اسکے اجلاس میں شریک ہونگے!

بعد ازاں اپنے مقدمے میں، ججوں کا مؤقف ہے کہ پابندیوں کو جائز ٹھہرانے کے لیے کوئی جائز قومی ہنگامی صورت حال موجود نہیں، اور یہ کہ’’ یہ پابندیاں من مانی اور خودسر ہیں ۔‘‘ یہ ایک قانونی معیار ہے جو اکثر امریکی پالیسیوں کے چیلنج میں استعمال ہوتا ہے۔ایک جج نے ان پابندیوں کو عدلیہ کے اراکین پر ان کو سرکاری فرائض کی ادائیگی سے روکنے کیلئے دباؤ ڈالنے اور سزا دینے کی کوشش قرار دیا۔ جبکہ ایک جج کے وکلاء نے ایک بیان میں کہا، ’’بین الاقوامی ججوں پر ان کے عدالتی فرائض کی ادائیگی پر حملہ کرنا عدالتی آزادی اور قانون کی حکمرانی پر حملہ ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK