Inquilab Logo Happiest Places to Work

وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں کےبعد عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کا امریکہ سے پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ

Updated: June 26, 2026, 8:07 PM IST | Caracas

وینزویلا بش انتظامیہ کے دور سے ہی وسیع امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، جن میں اوبامہ، ٹرمپ اور بائیڈن کے ادوار میں مزید توسیع کی گئی۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، وینزویلا میں دس میں سے تقریباً آٹھ شہری خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ سی ای پی آر کی ۲۰۱۹ء کی ایک رپورٹ کے مطابق، دو سال کے عرصے میں پابندیوں کے نتیجے میں تقریباً ۴۰ ہزار وینزویلا کے باشندے ہلاک ہوئے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکہ اور دیگر ممالک سے وینزویلا پر عائد اقتصادی پابندیاں فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ یہ پابندیاں تباہ کن زلزلوں کے بعد ملک کی امدادی کارروائیوں کی صلاحیت کو مفلوج کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ زلزلوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم ۲۳۵ افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ دارالحکومت کراکس سمیت کئی شہروں میں یکے بعد دیگرے آنے والے شدید زلزلوں سے عمارتیں زمین بوس ہونے کے بعد ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

امریکہ میں قائم ’سینٹر فار اکنامک اینڈ پالیسی ریسرچ‘ (CEPR) نے خبردار کیا کہ وینزویلا پر عائد موجودہ پابندیوں کی وجہ سے بین الاقوامی عطیہ دہندگان اور امدادی تنظیموں کو لاطینی ملک میں فنڈز اور امداد بھیجنے میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سی ای پی آر کے بین الاقوامی پالیسی کے ڈائریکٹر ایلکس مین نے کہا کہ ”وینزویلا کی حکومت زلزلہ ریلیف حاصل کرنے اور اسے تقسیم کرنے کیلئے آزاد ہونی چاہئے۔ امریکہ اور دیگر ممالک کی موجودہ پابندیاں زلزلے کے بعد مجموعی امدادی سرگرمیوں کو مفلوج کرنے کی خطرہ پیدا کر رہی ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: ۶؍ ماہ بعد رہا ہونے والے فلسطینی صحافی کی حالت غیر، حقوق تنظیم نے سوال اٹھائے

فن لینڈ کے ’ہملاگ انسٹی ٹیوٹ‘ (HUMLOG Institute) کی ڈپٹی ڈائریکٹر سارہ شف لنگ نے کہا کہ پابندیاں ہنگامی امداد کی راہ میں بڑی رکاوٹیں کھڑی کرتی ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ مالیاتی پابندیوں کے باعث عملے اور ضروری سامان کیلئے رقم بھیجنا انتہائی پیچیدہ ہو جاتا ہے، جس سے امداد ضرورت مندوں تک پہنچنے میں تاخیر ہوتی ہے اور آپریشنز کے ساتھ ساتھ اشیاء کی درآمد کا عمل بھی سست پڑ جاتا ہے۔

امریکہ میں قائم امن پسند گروپ ’کوڈ پنک‘ (CodePink) نے بھی وینزویلا پر پابندیوں میں فوری ریلیف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ معاشی جنگ کسی بھی ملک کی آفات سے نمٹنے اور ان سے بحال ہونے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ گروپ نے امریکہ کو اس آفت کا فائدہ اٹھا کر غیر ملکی تسلط گہرا کرنے کے خلاف خبردار کیا اور ہیٹی سے اس کا موازنہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ہنگامی امداد اور تعمیرِ نو کیلئے امریکی دائرہ اختیار میں روکے گئے وینزویلا کے فنڈز فوری طور پر بحال کئے جائیں۔

یہ بھی پڑھئے: ڈنمارک: اسلامائزیشن کے خدشات، اذان پر پابندی کی تجویز، قانونی جائزہ دوبارہ شروع

واضح رہے کہ وینزویلا بش انتظامیہ کے دور سے ہی وسیع امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، جن میں اوبامہ، ٹرمپ اور بائیڈن کے ادوار میں مزید توسیع کی گئی۔ یورپی یونین اور برطانیہ نے بھی ۲۰۱۷ء سے الگ سے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ۲۰۲۴ء کے اعداد و شمار کے مطابق، وینزویلا میں تقریباً دس میں سے آٹھ شہری خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ سی ای پی آر کی ۲۰۱۹ء کی ایک رپورٹ کے مطابق، دو سال کے عرصے میں پابندیوں کے نتیجے میں تقریباً ۴۰ ہزار وینزویلا کے باشندے ہلاک ہوئے، باوجود اس کے کہ ان پابندیوں کو خاص طور پر صرف مدورو حکومت کو نشانہ بنانے کیلئے پیش کیا جاتا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK