Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ٹرمپ کے دور اقتدار میں آئی سی ای کی حراست میں اموات میں ۱۴۰؍فیصد اضافہ

Updated: June 27, 2026, 2:02 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور اقتدار میں آئی سی ای کی حراست میں اموات ۱۴۰؍فیصد تک بڑھ گئی ہیں،ہیومن رائٹس واچ نے یہ چونکا دینے والا ڈیٹا جاری کیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ہیومن رائٹس واچ اور فزیشنز فار ہیومن رائٹس کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران امریکی امیگریشن حراستی مراکز کے اندر اموات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ’’ بڑھتے ہوئے امریکی امیگریشن حراستی نظام میں بڑھتی ہوئی اموات‘‘ کے عنوان سے۷۳؍ صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس واپس آنے کے پہلے۵۰۰؍ دنوں کے دوران امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی حراست میں۵۲؍ افراد فوت ہوئے۔ یہ گزشتہ اعداد و شمار کے مقابلے میں حیران کن۱۴۰؍ فیصد کا اضافہ ہے۔ یہ نتائج اس وقت سامنے آئے ہیں جب انتظامیہ نے حراستی کارروائیوں میں نمایاں توسیع کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کو’’ بچوں کا قاتل‘‘ قرار دینے والے جج مرلی دھرایک بارعالمی سطح پر نمایاں

رپورٹ کے مطابق، آئی سی ای سہولیات میں روزانہ اوسط قیدی آبادی ایک سال کے اندر تقریباً ۴۰؍ ہزار سے بڑھ کر۷۱؍ ہزار سے زیادہ ہو گئی، جو کہ۷۷؍ فیصد کا اضافہ ہے۔ اسی عرصے کے دوران، حراست میں اموات کی شرح میں۱۴۰؍ فیصد اضافہ ہوا۔محققین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی وضاحت صرف آبادی میں اضافے سے نہیں کی جا سکتی۔ اس کے بجائے، وہ طبی دیکھ بھال میں دائمی کمی، ناکافی نگرانی، اور حراستی حالات کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔رپورٹ میں جن چند مقدمات کو اجاگر کیا گیا ہے وہ ایک پریشان کن تصویر پیش کرتے ہیں۔ان میں سے ایک میں۴۴؍ سالہ یوکرینی شہری مکسم چرنیاک شامل ہے، جسے حراست میں دوران فالج کا دورہ پڑا۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ طبی علاج میں تاخیر تقریباً یقینی طور پر اس کی موت کا باعث بنی۔ایک اور قیدی،۳۲؍ سالہ لورینزو انتونیو باتریز ورگاس،۲۰۲۵ء میں کرونا میں مبتلا ہونے اور تقریباً دو ہفتے تنہائی میں گزارنے کے بعد جاں بحق ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: بین الاقوامی عدالت کے تین ججوں کا امریکی پابندیوں کے خلاف مقدمہ

 ایک سال سے زیادہ عرصے بعد بھی اس کا خاندان اس کی موت کے حالات کے بارے میں جوابات تلاش کر رہا تھا۔ اس کی والدہ نے کہا، ’’صرف وہ ماں جانتی ہے جس نے اپنا بچہ کھویا ہو، میں کیا محسوس کر رہی ہوں۔ میں اپنے بچے کو چاہتی ہوں، اور میں کچھ نہیں کر سکتی۔رپورٹ میں محمد پکتیاول کا کیس بھی نقل کیا گیا ہے، جو افغانستان کی اسپیشل فورسز کا سابق رکن تھا اور۲۰۲۱ء میں طالبان کے قبضے سے فرار ہو گیا تھا۔ ٹیکساس میں حراست میں لیے جانے کے بعد وہ مارچ میں جاں بحق ہوا۔ بعد ازاں  ICE نے بعد میں اسے افغانستان سے تعلق رکھنے والا مجرمانہ غیر قانونی غیر ملکی قرار دیا جس پر پہلے دھوکہ دہی اور چوری کے مقدمات درج تھے۔

یہ بھی پڑھئے: نیٹومخالف ٹرمپ اگلے ماہ اسکے اجلاس میں شریک ہونگے!

ہیومن رائٹس واچ نے یہ بھی پایا کہ ICE اس بارے میں اہم معلومات کا انکشاف کرنے میں ناکام ہے کہ ایسی اموات کیسے رونما ہوتی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اموات اس بارے میں سنگین سوالات اٹھاتی ہیں کہ کیا امریکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر رہا ہے، جس میں ریاستی حراست میں رکھے گئے افراد کے تحفظات بھی شامل ہیں۔ICE نے رپورٹ کے نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔ ایک ترجمان نے کہا کہ کل قیدی آبادی کے مقابلے میں اموات کی شرح انتہائی کم ہے اور اصرار کیا کہ قیدیوں کو مناسب طبی دیکھ بھال فراہم کی جاتی ہے۔ترجمان نے ڈیلی بیسٹ کو بتایا، ’’گزشتہ دہائی کے اعداد و شمار کے مطابق،۲۹؍ مئی تک، ٹرمپ انتظامیہ کے تحت حراست میں اموات کی شرح قیدی آبادی کا صفر اعشاریہ ۰۰۰۸؍ ہے۔ ہم نے امریکی شہریوں کو رکھنے والی زیادہ تر جیلوں کے مقابلے میں دیکھ بھال کا ایک اعلیٰ معیار برقرار رکھا ہے، جس میں مناسب طبی دیکھ بھال تک رسائی بھی شامل ہے۔ بہت سے غیر قانونی غیر ملکیوں کے لیے، یہ ان کی پوری زندگی میں ملنے والی بہترین صحت کی دیکھ بھال ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK