Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ ایک سو چالیس کروڑ مرتبہ’ سوری‘ کہیں

Updated: April 24, 2026, 1:58 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

امریکہ میں جنمے اُن نونہالوں کی ’’خود بہ خود شہریت‘‘ پر اعتراض کرتے ہوئے جن کے والدین امریکہ میں سکونت پزیر تارکین وطن ہیں ، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستان (کے علاوہ چین اور دیگر ملکوں ) کے بارے میں جو کچھ بھی کہا اُسے ہم دوہرانا نہیں چاہتے۔ کون نہیں جانتا کہ ہندوستان دُنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ یہ ملک علم و دانش کیلئے بہت سے دوسرے ملکوں کیلئے مرکز توجہ بنا رہا ہے۔

INN
آئی این این
امریکہ میں  جنمے اُن نونہالوں  کی ’’خود بہ خود شہریت‘‘ پر اعتراض کرتے ہوئے جن کے والدین امریکہ میں  سکونت پزیر تارکین وطن ہیں ، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستان (کے علاوہ چین اور دیگر ملکوں ) کے بارے میں  جو کچھ بھی کہا اُسے ہم دوہرانا نہیں  چاہتے۔ کون نہیں  جانتا کہ ہندوستان دُنیا کی قدیم ترین تہذیبوں  میں  سے ایک ہے۔ یہ ملک علم و دانش کیلئے بہت سے دوسرے ملکوں  کیلئے مرکز توجہ بنا رہا ہے۔ اہنسا کا پیغام اسی ملک سے ساری دُنیا کو ملا جس کیلئے مہاتما گاندھی کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے اور اُن کے مجسمے الگ الگ ملکوں  میں  نصب کئے جاتے ہیں ۔ 
اتنا ہی نہیں  یہ ایک سو چالیس کروڑ کی غیر معمولی آبادی کا وہ کثیر جہتی اور کثیر مشربی ملک ہے جس کی نظیر کسی دوسرے ملک میں  نہیں  ملتی۔ جتنی زبانیں  یہاں  بولی جاتی ہیں ، جتنے رسوم و رواج یہاں  ملیں  گے، کھان پان کی جتنی قسمیں  یہاں  موجود ہیں  اور تہذیبی رنگا رنگی جو اس ملک کا خاصہ ہے وہ کسی اور ملک کا نہیں  ہے۔ ایسے وسیع و عریض اور قدیم و عظیم ملک کے بارے میں  لب کشائی کرتے وقت امریکہ کے صدر کو سوچنا چاہئے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں  اور کیوں  کہہ رہے ہیں ۔ اُنہوں  نے جو الفاظ استعمال کئے وہ قطعی غیر شائستہ اور غیر مہذب ہیں ۔ اول فول بکنا اُن کی عادت ہے مگر کسی فردِ واحد کو کچھ کہہ دینا اور پورے ایک ملک کے بارے میں  گستاخانہ الفاظ کا استعمال کرنا دو الگ الگ باتیں  ہیں ۔ ہم تو کہتے ہیں  کہ کسی فردِ واحد کی بھی دل آزاری نہیں  کی جاسکتی، اُس کیلئے غلط اور غیر مہذب الفاظ کا استعمال نہیں  کیا جاسکتا اور اگر ایسا کوئی لفظ زبان سے نکل جائے تو اس کیلئے معافی مانگنی چاہئے کہ یہی تہذیب و اخلاق کا تقاضا ہے مگر جب کسی ملک کے بارے میں  کچھ کہنا ہو تو ضروری ہے کہ زیادہ احتیاط سے کام لیا جائے۔ اسی لئے سفارتی زبان کو عام بول چال کی یا دفتری زبان سے مختلف مانا جاتا ہے کیونکہ سفارت دو ملکوں  کے درمیان ہوتی ہے، گویا اس میں  ایک ملک دوسرے ملک سے کلام کررہا ہوتا ہے او رجب ملک کی بات آتی ہے تو ملک کا معنی مخصوص جغرافیہ کا حامل ملک نہیں  ہوتا بلکہ یہ متعلقہ آبادی، تہذیبی خواص، معاش، معاشرت، اقتصادیات، فنون لطیفہ، آبادیاتی رجحانات اور ایسی ہی سیکڑوں  خصوصیات کا احاطہ کرتا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ بھلے ہی بہت سوں  کو ناپسندیدہ اور بُرے الفاظ سے نوازتے رہتے ہوں  مگر ملکوں  کے تعلق سے اُن کا رویہ بدلنا چاہئے اور اگر اُن کا طرز عمل نہیں  بدلا تو جس کسی ملک کے خلاف وہ بدزبانی کریں  اُسے اُن سے معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے آئندہ ایسی بدزبانی سے گریز کا انتباہ کرنا چاہئے۔ 
سچ پوچھئے تو ہندوستان کیلئے غلط لفظ کا استعمال اس ملک کے ایک سو چالیس کروڑ شہریوں  کیلئے غلط لفظ استعمال کرنے جیسا ہے۔ اس کا معنی یہ ہوا کہ اگر وہ سوری کہیں  تب بھی ایک سوری سے کام نہیں  چلے گا اُنہیں  ایک سو چالیس کروڑ مرتبہ سوری کہنا پڑے گا۔ ہوسکتا ہے کہ سیاسی وجوہات کی بناء پر اُن کی بدزبانی کو کوئی اہمیت نہ دی جائے یا جتنی اہمیت دی جانی چاہئے اُتنی نہ دی جائے مگر ایسا کرنا بہت غلط نظیر قائم کرنا ہوگا۔اس کا سخت نوٹس لیا جانا چاہئے۔ ہم جانتے ہیں  کہ زیر بحث بدزبانی کے بعد اُنہوں  نے مکھن لگانے کی غرض سے ہندوستان کو عظیم بھی کہا مگر اس سے ہمارے جائز اعتراض اور احتجاج کی زبان نرم نہیں  ہوسکتی۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ ٹرمپ کو اس غلطی کیلئے قائل کیا جائے اور ہندوستانیوں  سے معافی مانگنے کیلئے کہا جائے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK