ہندوستان کو ’’ہیل ہول‘‘ (جہنم کا گڑھا) کہا، ہندوستانی سافٹ ویئر انجینئروں اور دیگر ہندوستانیوں کی امریکہ میں خدمات کو فراموش کرتے ہوئےیہ گستاخی کی، تھوڑی دیر بعد پلٹ بھی گئے، کہا: ہندوستان عظیم ملک ہے اور ہندوستانی اچھے لوگ ہیں۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 9:06 AM IST | Washington
ہندوستان کو ’’ہیل ہول‘‘ (جہنم کا گڑھا) کہا، ہندوستانی سافٹ ویئر انجینئروں اور دیگر ہندوستانیوں کی امریکہ میں خدمات کو فراموش کرتے ہوئےیہ گستاخی کی، تھوڑی دیر بعد پلٹ بھی گئے، کہا: ہندوستان عظیم ملک ہے اور ہندوستانی اچھے لوگ ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنی بددماغی اور بدزبانی کیلئے بدنام ہیں اور اس کا ایک اور مظاہرہ انہوں نے جمعرات کی صبح کیا۔ انہوں نے متنازع اور نسل پرست امریکی ریڈیو میزبان مائیکل سیویج کا ایک خط دوبارہ پوسٹ کیا ہے اور ہندوستان اور چین کو ’جہنم‘ کا گڑھا‘قرار دیا۔ اس خط میں امریکہ کے پیدائشی شہریت قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے انتہائی نسل پرستانہ تبصرے کئےگئے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ پوسٹ دوبارہ شیئر کرنے سے قبل اس بارے میں بھی نہیں سوچا کہ امریکہ کو آئی ٹی اور انوویشن کا ہب بنانے میں ہندوستانی سافٹ ویئر انجینئروں کا کتنا بڑا رول ہے۔ساتھ ہی ہندوستانیوں نے امریکہ کی معاشی ترقی میں کتنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ خود ٹرمپ کی کابینہ اورانتظامیہ میں کئی ہند نژاد لیڈران شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دنیا کے سب سے زیادہ آئی کیو والے ممالک، جنوبی کوریا سر فہرست
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے ہندوستان کے ساتھ ساتھ چین اور کچھ دیگر ممالک کو بھی ’جہنم کا گڑھا‘ قرار دیا جس سے عالمی سطح پر انہیں شدید تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سیویج کے جس طویل نوٹ کو امریکی صدر نے شیئر کیا ہے، اس میں امریکہ کی عدالت میں پیدائشی شہریت کو لے کر جاری بحث پر رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔ انہوں نے غیرشہریوں کے بچوں کو پیدائش کی بنیاد پر شہریت دینے کے التزام کی مخالفت کی ہے اور کہا کہ اس معاملہ پر عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ قومی ریفرینڈم ہونا چا ہئے۔ خط میں سیویج نے دعویٰ کیا کہ دوسرے ممالک کے لوگ امریکہ آ کر نویں مہینے میں بچہ پیدا کرتے ہیں اور اس سے انہوں فوراً شہریت مل جاتی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ یہاں پیدا ہونے والا بچہ فوراً امریکی شہری بن جاتا ہے، اور پھر وہ اپنی پوری فیملی کو چین، ہندوستان یا دنیا کے کسی ’ہیل ہول‘ سے یہاں لے آتے ہیں۔ خط میں ہندوستانی اور چینی مہاجروں سے متعلق قابل اعتراض زبان کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔سیویج کے خط کو ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اپنے اس بیان کے ایک دن بعد شیئر کیا ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کے علاوہ دنیا میں کوئی بھی ملک پیدائشی شہریت نہیں دیتا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تقریباً ۳؍ درجن ممالک یہ سہولت دیتے ہیں، جن میں کنیڈا، میکسیکو اور جنوبی امریکہ کے بیشتر ممالک شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا یو ٹرن: ایرانی کارروائی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی ماننے سے انکار کر دیا
اس معاملے میں جہاں پوری دنیا نے سخت ردعمل دیا وہیں ایران نے ایک سخت مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے ہندوستان اور چین کو ’’تہذیبوں کا گہوارہ‘‘ قرار دیا ۔حیدرآباد میں واقع ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’’چین اور بھارت دونوں قدیم اور عظیم تہذیبوں کے مراکز رہے ہیں۔ درحقیقت ’’جہنم کا گڑھا ‘‘ وہ جگہ ہے جہاں کا جنگی جرائم میں ملوث صدر، ایران کی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی دیتا ہے۔‘‘تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ بیان نہ صرف ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید ہے بلکہ ہندوستان اور چین کے ساتھ سفارتی یکجہتی کا واضح اظہار بھی ہے۔
اس معاملہ میں اپوزیشن کانگریس پارٹی نے بھی سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس نے پی ایم مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں امریکی صدر سے بات کریں۔ پارٹی کی جانب سے کہا گیا کہ ’’امریکہ کے صدر ٹرمپ کا مذکورہ بیان بے حد ہتک آمیز اور ناقابل قبول ہے۔ وزیر اعظم مودی کو اس معاملے کو عالمی فورم پر اٹھانا چاہئے اور ٹرمپ سے بھی بات کرنی چاہئے۔