Updated: April 24, 2026, 1:02 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ یہ فیصلہ واشنگٹن میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تازہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کو مزید تین ہفتوں کیلئے بڑھا دیا جائے گا، یہ فیصلہ واشنگٹن میں دونوں ممالک کے حکام کے درمیان تازہ مذاکرات کے بعد کیا گیا۔ ۱۷؍ اپریل کو طے پانے والی۱۰؍ روزہ ابتدائی جنگ بندی اتوار کو ختم ہونے والی تھی۔ یہ جنگ بندی مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس جنگ کو روکنے کیلئے کی گئی تھی جو اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ لبنانی عسکری گروہ حزب اللہ کے درمیان سات ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری تھی۔
وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک نے ’’مزید تین ہفتوں کی فائرنگ بند کرنے، یعنی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ ایسا ہوگا۔ ان کے درمیان یہ مکمل طور پر نہیں ہوگا، لیکن ہمیں اب بھی حزب اللہ کے بارے میں سوچنا ہے۔ ‘‘ٹرمپ نے مزید کہا کہ لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بنجامین نیتن یاہو آنے والے ہفتوں میں وہائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا، ’’ان کیلئے حزب اللہ ایک مسئلہ ہے۔ ہم لبنان کے ساتھ مل کر حالات بہتر بنانے پر کام کریں گے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا: ’’میرے خیال میں یہ بہت اچھا ہوگا کہ یہ معاملہ ایران کے ساتھ جاری ہماری کوششوں کے ساتھ ساتھ حل ہو جائے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: ٹرمپ کا ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا اعلان
اس گفتگو کے دوران لبنانی سفیر ندا حماد موآود اور اسرائیلی سفیر یخیئل لیٹر نے مذاکرات میں ٹرمپ کے کردار کو سراہا۔ دونوں سفیروں نے کہا کہ بیروت اور تل ابیب اس بات پر متفق ہیں کہ لبنان سےحزب اللہ کے نام سے اس نقصان دہ اثر کو ختم کیا جائے۔ جنگ بندی میں توسیع ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حزب اللہ اور اسرائیل دونوں ایک دوسرے پر پہلے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔ جمعرات کو حزب اللہ نے کہا کہ اس نے شمالی اسرائیل پر راکٹ فائر کئےہیں، جس کا مقصد ان کے مطابق جنگ بندی کی خلاف ورزی کا جواب تھا۔ جواب میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے یہ حملہ روک دیا ہے۔ ایک روز قبل لبنان نے الزام لگایا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں جنوبی لبنان میں ایک صحافی ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا، اور اسے جنگی جرم قرار دیا۔ تاہم، اسرائیل نے صحافیوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔
یہ بھی پڑھئے: ۵۳؍ ہندوستانی ماہرینِ طبیعیات کی ایران و فلسطین کی یونیورسٹیوں پر حملوں کی مذمت
جنگ کی صورتحال
امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا، یہ کہتے ہوئے کہ تہران کے اقدامات اسرائیل کیلئے خطرہ ہیں۔ امریکہ اسرائیل کی سلامتی کا ضامن بھی ہے۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کئے اور خلیجی ممالک کے اہم شہروں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران جلد ایٹمی ہتھیار حاصل کر سکتا ہے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کیلئے ہے۔ ۲۸؍ فروری کے حملوں کے بعد اور ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد حزب اللہ نے ۲؍مارچ کو اسرائیل پر جوابی حملہ کیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے لبنان پر حملے شروع کئے اور مارچ میں جنوبی لبنان میں دوبارہ داخل ہو کر تقریباً۱۰؍ کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر لیا۔ اب تک اس جنگ میں لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم۲؍ ہزار ۲۹۴؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ لبنان سے حملوں میں اسرائیل کے دو شہری مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ۱۵؍ اسرائیلی فوجی لبنان میں لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس تازہ تنازع میں لبنان بھر میں ۱۰؍لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر جنوبی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں اسرائیلی حملوں میں گھروں اور دیہات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔