ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایران نے بھی انتباہ دیا کہ وہ ایرانی جہازوں پر حملے کا جواب دینے کے لئے تیار ہے۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 10:10 AM IST | Mumbai
ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایران نے بھی انتباہ دیا کہ وہ ایرانی جہازوں پر حملے کا جواب دینے کے لئے تیار ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ تھم جانے سے کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ بارودی سرنگیں بچھانے والے ایرانی جہازوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ ایران نے بھی اپنے جہازوں پر کسی طرح کے حملے پر سنگین نتائج کا انتباہ دیا ہے۔ خیال رہے کہ ایک جانب آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بندش کی خلاف وزری کرنے والے جہازوں پر کارروائی کی جارہی ہے۔ وہیں دوسری جانب خلیج عمان میں امریکہ بحریہ نے بھی ناکہ بندی کررکھی ہے۔
رپور ٹ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں پر قبضہ کرنے کا ویڈیو جاری کر دیا ہے جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ایرانی بحریہ کے مطابق ان جہازوں کو اس لیے قبضے میں لیا گیا کیونکہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے حفاظتی انتظامات کو خطرے میں ڈالا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں جہازوں کو تحویل میں لینے کے بعد ایرانی ساحل کی جانب منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل سے معاہدہ معطل کرنے پر یورپی اتحاد میں شدید اختلاف
دریں اثناءامریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو تمام ایرانی کشتیوں پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی چھوٹی کشتیاں آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا رہی ہیں ان کشتیوں کو بھی ایرانی بحری جہازوں کی طرح سمندر کی تہہ میں پہنچائیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، ہمارے جنگی جہاز آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے صاف کر رہے ہیں، بارودی سرنگیں صاف کرنے کے عمل میں ۳؍گنا تیزی لائی جائے۔امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق ٹینکر میجیسٹک ایکس تحویل میں لیا گیا ہے اور یہ جہاز ایران کے لیے تیل اسمگلنگ میں ملوث تھا۔امریکی فوج نے جہاز تحویل میں لینےکا ویڈیو بھی جاری کر دیا ہے جس میں امریکی اہلکاروں کو جہاز کے ڈیک پر کارروائی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ٹینکر سری لنکا اور انڈونیشیا کے درمیان سمندر میں موجود تھا۔ جہاز چینی شہر ژوشان جا رہا تھا جو میجیسٹک ایکس گویانا کے جھنڈے والا آئل ٹینکر ہے۔ٹینکر کا سابق نام فونکس تھا اور۲۰۲۴ء میں امریکی پابندیوں کی زد میں آیا تھا۔ امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ ایران خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے تیل عالمی منڈی تک پہنچاتا ہے۔دوسری جانب ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ پاسداران انقلاب کی تیاریاں مکمل ہیں۔غلام حسین محسنی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل میں کہا کہ ایران کی کشتیاں اور جدید زیرآب ڈرونز امریکی جہازوں کی تباہی کیلئے تیار ہیں، سمندری غاروں میں چھپا ہمارا بحری بیڑا امریکی جہازوں کے انتظار میں ہے۔ایرانی چیف جسٹس نے کہا کہ امریکی جہازوں نے حدپار کی تو انہیں عبرت کا نشان بنا دیں گے ۔امریکہ اب آبنائےہرمز کے قریب آنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے جہازوں کا انجام دیکھ چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ناقابل برداشت بد زبانی
’’امریکہ کی وعدہ خلافی مذاکرات میں رکاوٹ ‘‘
تہران(ایجنسی)ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ بندی مذاکرات میں تعطل پر دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے اس کی وجہ امریکہ کی ہٹ دھرمی قرار دیا۔عالمی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے جاری بیان میں جنگ بندی مذاکرات سے انکار کی وجہ بتادی۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہے، صدر ٹرمپ مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں اور وعدوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ یہی تین وجوہ امریکہ کے ساتھ حقیقی اور جامع مذاکرات کی راہ میں بنیادی رکاوٹیں ہیں۔ جنھیں ختم کیے بغیر جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوسکتے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران نے مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور اب بھی کرتا ہے۔ دنیا آپ کی نہ ختم ہونے والی منافقانہ بیان بازی، دعوؤں اور اقدامات کے درمیان تضاد کو دیکھ رہی ہے۔دوسری جانب ایرانی صدر کے دفتر نے ملک کی اعلیٰ قیادت میں اختلافات کی خبریں مسترد کردیں، جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی قیادت کے اندر مثالی اتحاد ہے، دشمن سیاسی پروپیگنڈا کر رہا ہے، جھوٹ گھڑنے کی بجائے، انہیں اپنی وعدہ خلافی، دھونس اور فریب کاری بند کرنی چاہیے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انصاف، وقار اور دانشمندی کی بنیاد پر مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ خلیج اور آبنائے ہرمز میں عدمِ تحفظ کی اصل جڑ امریکہ اسرائیل کی جارحیت ہے۔