کسی دن یہ خبر ملے تو حیرت میں نہ پڑ جائیے کہ ٹرمپ اچانک ایران پہنچ گئے اور وہاں کے صدر پیزشکیان سے مل کر جنگ روکنے پر بضد ہوگئے کہ فوراً سے پیشتر جنگ روکی جائے۔
کسی دن یہ خبر ملے تو حیرت میں نہ پڑ جائیے کہ ٹرمپ اچانک ایران پہنچ گئے اور وہاں کے صدر پیزشکیان سے مل کر جنگ روکنے پر بضد ہوگئے کہ فوراً سے پیشتر جنگ روکی جائے۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا مَیں واپس نہیں جاؤں گا۔ ہم یہ بات لکھتے وقت اور آپ اسے پڑھتے وقت سوچیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ یقیناً یہ ممکن نہیں ہے مگر حالات اسی رُخ پر ہیں کہ گویا ٹرمپ کا ایران جانا، دھرنا دے کر بیٹھ جانا اور صدرِ ایران سے جنگ روکنے کا اصرار کرنا ہی باقی رہ گیا ہے۔ ایسا اس لئے کہا جارہا ہے کہ امریکہ میں جو انتخابات ہورہے ہیں اُن میں اُن کی پارٹی (ری پبلکن) کے اُمیدوار ہارتے جارہے ہیں ۔ اس کی ایک مثال فلوریڈا میں ہارنے والے جان میپلس ہیں ۔ اسی حلقۂ انتخاب میں مارا لاگو ہے جہاں ٹرمپ کی رہائش گاہ ہے۔ نارتھ کیرولینا میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے جہاں ٹرمپ کے تائید یافتہ اُمیدوار فل برگر کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔ نیویارک کے میئر الیکشن کی بابت تو سب کو معلوم ہے کہ دو ماہ قبل وہاں کیا ہوا۔ ٹرمپ کو وہاں کتنی خفت اُٹھانی پڑی۔
ہمہ وقت بیقرار رہنے والے ٹرمپ کو معاشی نقصان کی فکر بھی ستا رہی ہے۔ پہلے تو اُنہوں نے سوچا تھا کہ ایران کو چند دنوں میں گھنٹوں پر لے آئیں گے مگر جنگ کو اب ایک ماہ ہورہا ہے۔ اس کے باوجود ایران کا پلڑہ بھاری ہے اور امریکہ کو فتح کی اُمید نہیں رہ گئی ہے۔ جہاں تک معاشی نقصان کی بات ہے، امریکہ کو جنگ کے تین ہفتے مکمل ہونے پر ۱۸؍ ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا تھا۔ یہ سلسلہ طول پکڑ گیا تو بلاشبہ ایران کا بھی نقصان ہوگا مگر امریکہ بھی سخت نقصان سے دوچار ہوگا۔
اس قدر معاشی نقصان بھی ایک وجہ ہے کہ امریکہ میں ٹرمپ کی مقبولیت تیزی سے گھٹ رہی ہے۔ گیلپ کے ایک سروے کے مطابق ٹرمپ کی ریٹنگ صرف ۳۶؍ فیصد رہ گئی ہے جو اُن کی دوسری میعادِ صدارت کی کم ترین سطح ہے۔ ٹرمپ مزاجاً کسی کو خاطر میں نہ لانے والے انسان ہیں مگر وہ چاروں طرف سے گھرنا بھی نہیں چاہتے۔ دوسری میعاد میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اُن کی خود اعتمادی کا عالم یہ تھا کہ جو چاہتے کرگزرتے تھے صرف اسلئے کہ اُنہیں اپنی سیاسی طاقت کا اندازہ تھا۔ یہ طاقت ساتھ چھوڑ رہی ہے اور اگر یہی حال رہا تو وسط مدتی انتخابات میں ، جو عنقریب ہونے ہیں ، ری پبلکن پارٹی کہیں کی نہیں رہے گی۔ اس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوں گے جو ٹرمپ کے مواخذہ کی راہ بھی ہموار کرسکتے ہیں ۔
ٹرمپ جنگ رُکوانے کی کوشش میں اس حد تک ہیں کہ نیتن یاہو کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ اب ٹرمپ اُن کی باتوں میں نہیں آنا اور مزید کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ بتایا جاتا ہے کہ خود اُن کی پارٹی کے لوگ اُن سے نالاں ہیں اور بار بار سوال کررہے ہیں کہ جنگ کیوں ضروری تھی، امریکہ کو ایران سے کیا خطرہ تھا، وغیرہ۔ ٹرمپ کا ناٹو نے بھی ساتھ نہیں دیا جسے وہ ایک سے زائد مرتبہ ’’کھری کھری‘‘ سنا چکے اور دیکھ چکے ہیں کہ ناٹو نے اُن کی برہمی کا کوئی اثر نہیں لیا۔ اُن کے سامنے یہ مشکل بھی ہے کہ ایران اُن کے ہر دعوے کی قلعی کھول رہا ہے۔ ان تمام باتوں کے پیش نظر کبھی یہ خبر آجائے کہ ٹرمپ سیدھے ایران پہنچ گئے، دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور یہ کہتے ہوئے کہ امریکہ جیت گیا (وہ ایسا کہہ چکے ہیں ) دست بستہ گزارش کررہے ہیں کہ اب جنگ بند کیجئے تواسے فیک نیوز مت سمجھئے گا۔