Updated: March 27, 2026, 8:06 PM IST
| Tehran
ایران نے جاری جنگ کے دوران اپنا مؤقف مزید سخت کر دیا ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اسرائیل پر دوہرے معیار اور جنگی جرائم کے الزامات عائد کئے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں دشمن جہازوں کو روکنے کے اپنے ’’قانونی حق‘‘ پر زور دیا۔ اسی دوران اقوام متحدہ میں بھی ایران نے اپنے رہنماؤں کے خلاف مبینہ قتل کی سازشوں کا معاملہ اٹھایا ہے۔
آبنائے ہرمز میں ایرانی حملے کا نشانہ بنا ایک بحری جہاز۔ تصویر: ایکس
(۱) عراقچی کا الزام، امریکہ اور اسرائیل دوہرا معیار اپنا رہے ہیں
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اسرائیل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’’دوہرے معیار‘‘ پر عمل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’جب بات ہمارے دفاع کی آتی ہے تو اسے جارحیت کہا جاتا ہے، لیکن ان کے حملوں کو جائز قرار دیا جاتا ہے۔‘‘ عراقچی نے مزید کہا کہ عالمی قوانین کو یکساں طور پر لاگو نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران پر حملے جاری ہیں اور عالمی سطح پر ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ یہ موقف ایران کی سفارتی حکمت عملی کو واضح کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے مند ب پرحملہ کی دھمکی
(۲) ایران کا مؤقف، ہرمز میں دشمن جہازوں کو روکنے کا قانونی حق
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں دشمن ممالک کے جہازوں کو روکنے کا مکمل قانونی حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ہم اپنی سیکوریٹی اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات کریں گے۔‘‘ ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں آتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہرمز عالمی توانائی کا سب سے اہم راستہ ہے۔ ایران کے اس مؤقف کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ ایران ہرمز کو ایک اسٹریٹیجک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
(۳) عراقچی کا الزام، مناب اسکول حملہ ’’سوچا سمجھا جنگی جرم‘‘
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مناب کے ایک اسکول پر حملے کو ’’سوچا سمجھا جنگی جرم‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’بچوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں، یہ ایک منصوبہ بند حملہ تھا۔‘‘ عراقچی نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ اس حملے میں ملوث ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے دوران شہری اہداف کو نشانہ بنانے کے الزامات بڑھ رہے ہیں۔ یہ واقعہ عالمی سطح پر شدید ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی حملوں کے بعد امریکی فوجیوں کا ورک فرام ہوم، خلیجی اڈے شدید متاثر
(۴) ایران نے اقوام متحدہ میں قتل کی سازش کا معاملہ اٹھایا
ایران نے اقوام متحدہ میں اپنے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمانی اسپیکر قالیباف کے خلاف مبینہ قتل کی سازش کا معاملہ اٹھایا ہے۔ ایرانی نمائندوں نے کہا کہ اسرائیل کے پاس ان رہنماؤں کو نشانہ بنانے کیلئے معلومات موجود تھیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسی کارروائی کی گئی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ ایران نے خلیجی ممالک کو بھی متنبہ کیا کہ وہ امریکہ کی حمایت سے باز رہیں۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ صرف میدان تک محدود نہیں بلکہ سفارتی سطح پر بھی شدت اختیار کر چکی ہے۔