Updated: March 27, 2026, 8:06 PM IST
| Washington
ایران جنگ کے دوران سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو جنگ بندی کے حوالے سے سخت وارننگ دی ہے، جبکہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسی دوران خلیجی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچنے کی رپورٹس نے جنگ کے خاتمے کیلئے دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
اسرائیلی حملے میں تباہ ایران کی ایک عمارت۔ تصویر: پی ٹی آئی
(۱) ٹرمپ کی ایران کو وارننگ، ’’جلد سنجیدہ ہو جائیں‘‘
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے:
’’جلد سنجیدہ ہو جائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے حوالے سے ایک منصوبہ موجود ہے اور ایران کو اسے سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ ٹرمپ نے ایرانی مذاکرات کاروں کو ’’بہت مختلف اور عجیب‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت کا راستہ ابھی بھی کھلا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے بعض حملے عارضی طور پر روک رکھے ہیں تاکہ مذاکرات کا موقع دیا جا سکے۔ ٹرمپ کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ایک طرف دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف سفارتی راستہ بھی کھلا رکھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تہران: پاکستانی سفارتخانے کے قریب دھماکے، پاکستان کی سخت وارننگ
(۲) پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کر رہا ہے
امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان دونوں ممالک کے درمیان رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔‘‘ ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک براہ راست مذاکرات سے انکار کر رہے ہیں لیکن پس پردہ رابطے جاری ہیں۔ پاکستان کا کردار اس تنازع میں ایک اہم سفارتی پل کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے مند ب پرحملہ کی دھمکی
(۳) ایران جنگ، خلیجی تیل اور گیس انفراسٹرکچر کو ۲۵؍ بلین ڈالر نقصان
رپورٹس کے مطابق ایران جنگ کے نتیجے میں خلیجی ممالک کے تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کو تقریباً ۲۵؍ بلین ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ تنصیبات میں ریفائنریز، گیس فیلڈز اور بندرگاہی سہولیات شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق بحالی کا عمل سست ہے اور کئی منصوبوں کو مکمل بحالی میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں رکاوٹ نے عالمی توانائی سپلائی کو بھی شدید متاثر کیا، جہاں عالمی تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ یہ نقصان ظاہر کرتا ہے کہ جنگ صرف فوجی نہیں بلکہ معاشی سطح پر بھی تباہ کن اثرات ڈال رہی ہے۔