Inquilab Logo Happiest Places to Work

آغاز تو اچھا ہے وجے کا!

Updated: May 11, 2026, 2:04 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

تمل ناڈو میں کم و بیش ایک ہفتے کی رسہ کشی کے بعد ٹی وی کے نامی نئی پارٹی کی روح رواں تھلاپتی وجے حکومت بنانے میں کامیاب ہوچکے ہیں ۔ کل چنئی میں اُن کی حلف برداری ہوئی۔ کل ہی سے اُن کی آزمائش بھی شروع ہوئی ہے۔

INN
آئی این این
تمل ناڈو میں   کم و بیش ایک ہفتے کی رسہ کشی کے بعد ٹی وی کے نامی نئی پارٹی کی روح رواں   تھلاپتی وجے حکومت بنانے میں   کامیاب ہوچکے ہیں  ۔ کل چنئی میں   اُن کی حلف برداری ہوئی۔ کل ہی سے اُن کی آزمائش بھی شروع ہوئی ہے۔ آزمائش سے مراد اگر یہ ہے کہ وہ کس طرح اپنی پارٹی اور حلیف جماعتوں   کے اراکین اسمبلی کو جوڑ کر رکھتے ہیں   اور دوسری یہ کہ وہ خود عوام کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرتے ہیں  ۔ ابھی انہیں   بہت کچھ ثابت کرنا ہے۔ انہیں   ثابت کرنا ہے کہ وہ اُتنے ہی سیکولر ہیں   جتنا اپنے بیانات میں   نظر آرہے تھے۔ انہیں   ثابت کرنا ہے کہ اُن میں   انتظامی صلاحیتیں   بھی بدرجۂ اتم موجود ہیں   اور پہلی مرتبہ وزیر اعلیٰ بننے کے باوجود وہ اُس منصب کے تقاضوں   کو سمجھتے ہیں   جس پر عوام نے اُنہیں   دوسروں   پارٹیوں   پر سبقت دے کر فائز کیا ہے۔ انہیں   یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ وہ اپنی ریاست میں   امن و امان کی صورتحال اور ملی جلی تہذیب کے تحفظ کے معاملے میں   مفاہمت پسند نہیں   ہیں  ۔ انہیں   یہ بھی ثا بت کرنا ہے کہ اُن میں   سیاسی ریشہ دوانیوں   کو سمجھنے اور اُن سے نمٹنے کی صلاحیت ہے۔ انہیں   یہ بھی ثا بت کرنا ہے کہ اُن سے جو اُمیدیں   وابستہ کی گئی ہیں   وہ بے جا نہیں   ہیں  ۔ نتائج ظاہر ہونے کے بعد سے حلف اُٹھانے تک محض چند دنوں   میں   انہیں   جو کھینچ تان دیکھنے کو ملی وہ محض ٹریلر تھا۔ پوری فلم ابھی باقی ہے۔ مقامی پارٹیوں   کے گھاگ سیاستداں   اور سیاست میں   رچے بسے لوگ اُن کیلئے نت نئی مشکلات پیدا کرینگے۔ بی جے پی،اپوزیشن کی پارٹیوں   اور حکومتوں   کو توڑنے میں   بلا کی مہارت رکھتی ہے۔ راگھو چڈھا اور دیگر کی دَل بدلی کا واقعہ ابھی تازہ ہے۔ آپریشن لوٹس کا وقت طے نہیں   ہوتا کہ کب شروع ہوگا۔ یہ تسلسل کے ساتھ جاری رہنے والا عمل ہے۔ ٹی وی کے کے اراکین میں   پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے لوگ سیاسی ہتھکنڈوں   سے واقف تو ہوسکتے ہیں   مگر ہتھکنڈوں   کی تجربہ گاہ ان کے لئے بالکل نئی ہے۔ کچھ عجب نہیں   کہ وہ کسی دن سایۂ گل کے بھرم میں   صیاد کی جانب قدم بڑھا دیں  ۔ تھلاپتی وجے کو خود بھی چوکنا رہنا ہوگا اور اپنے ساتھیوں   کو بھی بچائے رکھنا ہوگا۔ 
حلف برداری کے بعد وجے کے خطاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ خود کو پہچانتے ہیں  ، ۱۰۸؍ سیٹوں   سے نوازنے والے رائے دہندگان کے بھروسے اور کرم فرمائی کا انہیں   احساس ہے، اُنہیں   ’’وجے ماما‘‘ کہنے والی جنریشن زیڈ کے خوابوں   سے اُن کی واقفیت ہے، ریاست کی معاشی حالت کا اُنہیں   علم ہے، منشیات کے استعمال جیسے سماج کے سنگین مسائل کا ادراک بھی انہیں   ہے اور وہ جانتے ہیں   کہ نظم و نسق سنبھالنا اور ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ اُن کا یہ عزم کہ حکومت میں   کوئی دوسرا پاور سینٹر نہیں   ہوگا ان کی احتیاط پسندی کا اشاریہ ہے، یہ عزم بھی لائق ستائش ہے کہ مَیں   جو کچھ بھی کروں   گا وہ عوام کے سامنے ہوگا اور اگر کسی سے ملوں   گا تب بھی اس کی اطلاع عوام کو دوں   گا، اسی طرح سرکاری خزانے کے ایک روپے کا بھی غلط استعمال نہیں   ہونے دوں   گا۔ انہوں   نے ۱۰؍مئی یعنی گزشتہ روز سے شروع ہونے والے دور کو ’’حقیقی (طور پر) سیکولر اور سماجی انصاف کا دور‘‘ قرار دیا۔ 
تقریر کے یہ اور اس نوع کے دیگر مشمولات کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ آغاز تو اچھا بلکہ بہت اچھا ہے۔اب ان کا فرض ہے کہ تقریر کے الفاظ کواس طرح عملی جامہ پہنائیں   کہ تمل ناڈو ملک کی تمام ریاستوں   کیلئے پہلے سے بہتر مثال بنے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK