چھٹیوںکے دوران بچوں سے گھر میں پودے لگوائے جائیں۔ انہیں پانی کے ضیاع کو روکنے اور پلاسٹک کے نقصانات کے بارے میں بتائیں، جانوروں اور پرندوں کے لئے پانی اور دانہ رکھنے کی عادت ڈالیں۔
EPAPER
Updated: May 11, 2026, 2:39 PM IST | Dr. Simin Azaar | Mumbai
چھٹیوںکے دوران بچوں سے گھر میں پودے لگوائے جائیں۔ انہیں پانی کے ضیاع کو روکنے اور پلاسٹک کے نقصانات کے بارے میں بتائیں، جانوروں اور پرندوں کے لئے پانی اور دانہ رکھنے کی عادت ڈالیں۔
بچوں کی ہمہ جہت ترقی کے لئے تعطیل کے مختصر عرصہ کو بھی ایک بہترین پلان کے ساتھ گزارنے کی ضرورت ہے۔ تعطیل لمبی ہو یا مختصر، یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ ایک خاکہ تیار کریں، پلاننگ کریں کہ وہ کس طرح اپنے بچوں کے ساتھ تعطیلات بتائیں گے جس سے ان کی تعطیل کا عرصہ مسرت بخش بھی ہو اور پازیٹیو اپروچ والا بھی۔ اس ضمن میں درج ذیل باتوں کو دھیان رکھیں تو مختصر سے مختصر تعطیل میں بھی بچوں کی بہترین تربیت کرسکتے ہیں:
۱۔ وقت کی قدر و قیمت : اسلامی تعلیمات اور انسانی نفسیات دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ فارغ وقت کو اگر تعمیری کاموں میں صرف نہ کیا جائے تو وہ تخریبی سوچ کو جنم دیتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ ’’فراغت کو مصروفیت سے پہلے غنیمت جانو۔‘‘ تعطیلات کا ہر لمحہ قیمتی ہے۔ یہ محض سونے یا موبائل اسکرین کے سامنے بیٹھ کر گزارنے کے لئے نہیں، بلکہ کچھ نیا سیکھنے اور اپنی شخصیت کو نکھارنے کے لئے ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آج کا بچہ: محبت، توجہ اور درست تربیت کا منتظر ہے
۲۔ گھر تربیت کی پہلی تجربہ گاہ :اسکول بچے کو معلومات فراہم کرتا ہے جبکہ گھر اسے اخلاقیات سکھاتا ہے۔ تعطیلات میں جب بچہ ۲۴ ؍گھنٹے والدین کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے تو والدین کی ذمہ داری دوگنی ہو جاتی ہے۔بچے نصیحت سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں۔ اگر والدین وقت کی پابندی اور مطالعہ کا شوق رکھتے ہیں تو بچے خود بخود ان کے نقش قدم پر چلیں گے۔ اسی طرح گفتگو کا سلیقہ بھی ہے۔ گھر کے آداب میں نشست و برخاست اور بڑوں کا احترام سکھانے کا یہ بہترین وقت ہے۔ والدین کی یہ کوشش ہونی چاہئے بچوں کو اپنے بزرگوں یعنی دادا دادی، نانا نانی اور دیگر رشتہ داروں سے قریب کریں۔
۳۔ جدید دور کے چیلنجز اور ڈیجیٹل تربیت :آج کے دور میں تعطیلات کا سب سے بڑا دشمن’’اسکرین ٹائم‘‘ ہے۔ ویڈیو گیمز اور سوشل میڈیا بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ چھٹیوں میں والدین بچوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا خصوصی اہتمام کریں تاکہ ان کی توجہ اسکرین ٹیم سے کم ہو۔
۴۔ روحانی اور اخلاقی تربیت: تعطیلات میں تعلیمی بوجھ کم ہونے کی وجہ سے بچوں کو دین کے قریب لانے کا موقع ملتا ہے۔باجماعت نماز کی عادت، قرآن پاک کے ترجمے اور سیرت طیبہ کا مطالعہ،روزمرہ کی دعائیں اور اخلاقی قصوں کے ذریعہ کردار سازی کی جاسکتی ہے۔
۵۔ سماجی ذمہ داریوں کا احساس :بچوں کو معاشرے کا ایک فعال حصہ بنانے کے لئے انہیں رشتہ داروں سے ملنے، بیماروں کی عیادت کرنے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی ترغیب دیں۔ یہ تجربات ان میں ہمدردی اورایثار جیسے جذبات پیدا کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے: کسی زمانے میں مہمانوں کی وجہ سے گھر آنگن میں رونق اور برکت ہوتی تھی
۶۔ ماحولیاتی تحفظ اور فطرت سے دوستی: تعطیلات بچوں کو کمروں سے نکال کرفطرت کے قریب لانے کا بہترین وقت ہیں۔ انہیں سکھایا جائے کہ کائنات کا ہر ذرہ اللہ کی نشانی ہے۔بچوں سے گھر میں پودے لگوائے جائیں۔ انہیں پانی کے ضیاع کو روکنے اور پلاسٹک کے نقصانات کے بارے میں بتائیں، جانوروں اور پرندوں کے لئے پانی اور دانہ رکھنے کی عادت ڈالیں۔ جب بچہ ایک پودے کو پروان چڑھتے دیکھتا ہے تو اس کے اندر’’تخلیق‘‘ کی قدر اور ’’ذمہ داری‘‘ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
۷۔ جذباتی نشوونما:تعلیمی سال کے دوران بچے اکثر مسابقت اور امتحانات کے تناؤ میں رہتے ہیں۔ چھٹیاں ان کی جذباتی صحت کا وقت ہیں۔ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے ڈر، خوشی اور خوابوں پر بات کریں۔ انہیں سکھائیں کہ غصے اور ناکامی کو کس طرح مثبت انداز میں سنبھالنا ہے؟بچوں کو خود اعتمادبنائیں تاکہ وہ اپنی خوبیوں کو پہچانیں۔
۸۔ روحانی بالیدگی اور خالق سے رشتہ :روحانیت محض عبادت کا نام نہیں بلکہ تزکیہ نفس بھی ہے۔ سچائی، امانت داری اور شکر گزاری کو ان کی روزمرہ کی گفتگو کا حصہ بنا دیں۔
۹۔ سماجی تربیت: انسان ایک سماجی حیوان ہے اور چھٹیاں اسے ’’تنہائی پسندی‘‘ (جو اکثر موبائل کی وجہ سے ہوتی ہے) سے نکالنے کا موقع دیتی ہیں۔ اس دوران بالخصوص رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے ملاقات کا ذریعہ تلاش کریں۔ بچوں کو کسی فلاحی کام میں شامل کریں، جیسے پرانے کھلونے یا کپڑے ضرورت مندوں کو دینا۔ اس سے ان میں اپنے جیسے انسانوں سے ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: ایک اچھا مہمان وہ ہوتا ہے جو میزبان کے لئے آسانی کا سبب بنے، نہ کہ زحمت کا
۱۰۔ جسمانی سرگرمیاں: جدید تحقیق کے مطابق جسمانی حرکت کا براہ راست تعلق ذہنی تیزی سے ہے۔ اِن ڈور گیمز کے بجائے آؤٹ ڈور کھیلوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ صبح سویرے سیر اور ورزش کو معمول بنائیں ۔ یہ نظم و ضبط ان کی زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی کام آئے گا۔ تندرست جسم میں ہی تندرست دماغ ہوتا ہے۔ اسمارٹ فون نے بچوں کی جسمانی نشوونما کو روک دیا ہے۔ جسمانی سرگرمیاں نہ صرف ان کی صحت بہتر بنائیں گی بلکہ ان میں ٹیم ورک اور مشکل حالات میں ہار نہ ماننے کا حوصلہ بھی پیدا کرتی ہیں۔
تعطیلات کا یہ مختصر عرصہ دراصل باغِ ذہن پر کام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جہاں جسمانی سرگرمیاں بچوں کو توانا رکھتی ہیں، وہیں جذباتی اور روحانی نشوونما ان کے باطن کو منور رکھتی ہیں۔ جب بچہ ماحولیاتی تحفظ اور سماجی ذمہ داریوں کو سمجھنے لگتا ہے، تو وہ محض ایک طالب علم نہیں رہتا بلکہ ایک ذمہ دار شہری اور کامل انسان بن کر ابھرتا ہے۔تعطیلات کا عرصہ مختصر ضرور ہوتا ہے لیکن اس میں کی گئی تربیت کے اثرات عمر بھر کیلئے ہوتے ہیں۔ یہ والدین کیلئے ایک سنہرا موقع ہے کہ وہ اپنے بچوں کو محض ’’روبوٹ‘‘ بنانے کے بجائے ایک ’’کامل انسان‘‘ بنائیں۔