Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ فوجی مداخلت کیلئے بہانے تلاش کر رہا ہے: کیوبا

Updated: May 05, 2026, 12:18 PM IST | Agency | Hawana

صدر ڈیاز کینل نےالزام لگایا کہ امریکہ ’عالمی غلبہ‘ قائم کرنےکرنا چاہتا ہےاس لئے مختلف ممالک کو نشانہ بناتا ہے ۔

Cuban President Miguel Diaz-Canel.Photo:INN
کیوبا کے صدر میگوئیل ڈیاز کینل-تصویر:آئی این این
 کیوبن صدر میگوئل ڈیاز کینل نے ہوانا میں ایک بین الاقوامی یکجہتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے ملک کے خلاف فوجی مداخلت کیلئے بہانہ تلاش کر رہا ہے۔ فیڈیل کاسٹرو کے ۱۰۰؍ ویں یوم   پیدائش پر منعقدہ ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈياز کینل نے امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کیوبا کو خطرہ قرار دینے والی واشنگٹن کے پلان کو مسترد کیا۔  
انہوں نے کہا  کہ امریکہ ہمیں اپنے  لئے غیر معمولی اور غیر روایتی خطرہ قرار نہیں دیتا ،ہم پُراعتماد ہیں کہ یہ امریکی عوام کا جذبہ نہیں بلکہ ایک بہانہ ہے جسے امریکی حکومت نے ہم پر حملہ کرنے کیلئے استعمال کیا ہے ،ایک سوال اٹھتا ہے: خطرہ کیا ہے؟ اس خطرے میں کیا غیر معمولی بات ہے؟ میں یہ سوال روزانہ اپنے آپ سے پوچھتا ہوں۔ کوئی بہانہ نہیں، کوئی وجہ نہیں جو کیوبا کے خلاف فوجی حملے کو جائز ثابت کرے ۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں نسل کشی جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں، جیسے فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی، جیسے لبنان کے عوام کے خلاف نسل کشی، اسی لئے جارحیت اور جنگ کی زبان بین الاقوامی تنازعات حل کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہے ۳؍ جنوری کو وینزویلا کے خلاف ایک امریکی فوجی مداخلت کے طور پر جو انہوں نے بیان کیا، اس کا حوالہ دیتے ہوئے ڈیاز کینل نے واشنگٹن پر عالمی غلبہ کی خواہش رکھنے اور وینزویلا کے صدر نیکولس مادُورو کو نارکوریاست کے بیانیے کے ذریعے نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔  
 
 
صدر نے کہا کہ مریکہ نے بولیواری انقلاب کے جائز صدر نیکولس مادورو کو سیاسی حربوں  اور میڈیا کے ذریعے بدنام کرنے کی کوشش کی پھر اس نے وینزویلا پر بحری محاصرہ عائد کیا اور پچھلے ۲۰؍ سال میں کیریبین میں سب سے بڑی امریکی فوجی موجودگی مسلط کر دی۔ کینیل نے کہا کہ ایرانی عوام نے امریکی جارحیت کا مقابلہ کیا ہے اور زور دیا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں اور نہ ہی اس نے انہیں استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کیوبن عوام کو درپیش مشکلات کے بارے میں امریکہ کے اظہارِ خیال کو مضحکہ خیزاور بے معنی  قرار دے کر مسترد کر دیا اور کہا کہ اگر وہ واقعی اتنے فکر مند ہیں تو محاصرے کو ختم کریں۔ کیونکہ کیوبا کے عوام کے بنیادی مسائل اسی طویل المدتی محاصرے کے جاری رہنے سے جنم لیتے ہیں۔ 
 
 
امریکہ کی فوجی مداخلت کی صورت میں سنگین نتائج کی وارننگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ امریکی حکومت کے ساتھ اختلافات بات چیت کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں مگر تعاون کے ایسے شعبے تلاش کرنے کیلئے نیت اور سنجیدگی ہونی چاہئے جو مفاہمت لائیں اور ہمیں تنازع سے دور رکھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK