• Wed, 21 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جمہوریت کب جیتے گی؟

Updated: January 19, 2026, 2:33 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

ریزارٹ پالیٹکس نئی نہیں ہے مگر اتنی پرانی بھی نہیں کہ اس کیلئے اس دور میں جھانکا جائے جب بڑی حد تک یا کسی حد تک اصولی سیاست کار فرما تھی اور سیاستداں اخلاقیات کی پاسداری کی فکر کرتے تھے۔ ان میں اگر پاسداری کا مطلوبہ معیار نہیں تھا تب بھی وہ اس کا لبادہ اوڑھے رہتے تھے۔ اس کی سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ عوام میں اخلاقیات کی اہمیت تھی۔ اب عوام میں بھی اخلاقیات سے بیگانگی بڑھ گئی ہے جبکہ سیاستداں عوام کو کم گرداننے لگے ہیں ۔

INN
آئی این این
ریزارٹ پالیٹکس نئی نہیں  ہے مگر اتنی پرانی بھی نہیں  کہ اس کیلئے اس دور میں  جھانکا جائے جب بڑی حد تک یا کسی حد تک اصولی سیاست کار فرما تھی اور سیاستداں  اخلاقیات کی پاسداری کی فکر کرتے تھے۔ ان میں  اگر پاسداری کا مطلوبہ معیار نہیں  تھا تب بھی وہ اس کا لبادہ اوڑھے رہتے تھے۔ اس کی سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ عوام میں  اخلاقیات کی اہمیت تھی۔ اب عوام میں  بھی اخلاقیات سے بیگانگی بڑھ گئی ہے جبکہ سیاستداں  عوام کو کم گرداننے لگے ہیں ۔ الیکشن جیتنے کے حربوں  سے واقفیت جیسے جیسے بڑھ رہی ہے ویسے ویسے ان میں  عوام کی ناقدری بھی بڑھ رہی ہے۔ ایسا کیوں  نہ ہو جب عوام کے متعدد طبقات ان اسکیموں  سے خوش رہتے ہوں  جن کا اعلان الیکشن سے قبل کیا جاتا ہے۔ ان ’’فری بیز‘‘ کو وزیر اعظم نے ’’ریوڑیاں ‘‘ کہا تھا جبکہ خود ان کی پارٹی دوسروں  سے بڑھ چڑھ کر اس حربے کو آزماتی ہے۔
اگر عوام کو لبھانے والی اسکیموں  کا اعلان، جن کا فائدہ وقتی ہوتا ہے، نئے دور کی سیاست کا طرہ امتیاز ہے تو فائیو اسٹار ہوٹل کی سیاست بھی اسی دور میں  پھل پھول رہی ہے۔ جب بھی پیچیدہ حالات پیدا ہوتے ہیں  جن میں  کسی دوسری پارٹی سے خطرہ لاحق ہو کہ وہ ہمارے اراکین کو بہلا پھسلا کر یا لالچ دے کر یا ان کی باقاعدہ منہ بھرائی کے ذریعہ انہیں  اپنے پالے میں  لے سکتی ہے، تمام اراکین کو فائیو اسٹار ہوٹل میں  ’’قید‘‘ کر دیا جاتا ہے۔ چونکہ بہلائے پھسلائے جانے کیلئے فائیو اسٹار ہوٹل میں  یکجا کردینا کافی نہیں  ہوسکتا اس لئے سنا جاتا ہے کہ بعض اوقات ان کے موبائل فون بھی ’’ضبط‘‘ کرلئے جاتے ہیں ۔ عوامی نمائندوں  کی آزادی کے اس طرح سلب ہونے کو عوام کی تضحیک سمجھا جانا چاہئے مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ جب بھی ایسا ہوتا ہے عوام کی بڑی تعداد اس کو ’’انجوائے‘‘ کرتی ہے۔ جس سیاست میں  مریاداؤں  کی بات بہت ہوتی ہے اس میں  مریاداؤں  کو کس طرح داؤ پر لگایا جاتا ہے اس سے کوئی سادا لوح بھی ناواقف نہیں ۔ اس کے باوجود عوام برا نہیں  مانتے۔ انہیں  یہ احساس بھی نہیں  ہوتا کہ ان کے نمائندے جو کچھ بھی کرتے ہیں  وہ نمائندگی کے نام پر ہی کرتے ہیں ۔ اس سے منصب نمائندگی پر حرف آتا ہے مگر نہ تو نمائندگی دینے والوں  کو فکر ہوتی ہے نہ نمائندگی قبول کرنے والوں  کو۔ اسی لئے ہمارے ملک میں  منصب نمائندگی، جوابدہی سے آزاد ہوگیا ہے۔ بہت ہوا تو عوام کسی نمائندہ کو آئندہ الیکشن میں  ہرا دیتے ہیں ۔ ہرا دینا جوابدہی کا متبادل کیسے ہوسکتا ہے؟ ہرا دینے سے پانچ سال کی بے عملی کا ازالہ نہیں  ہو جاتا۔ عوام یہ کیوں  نہیں  سوچتے کہ جو نمائندہ قطعی بے عمل نکلا، اس نے عوام کو پانچ سال پیچھے کردیا؟ جواب مانگنے کا سلسلہ تبھی شروع ہو سکتا ہے جب عوام اپنے حقوق سے واقف ہوں ۔ تعلیم چونکہ اخلاقی جرات پیدا کرتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ تعلیم یافتہ ہوں ۔ جواب مانگنے کیلئے باخبری ضروری ہے اس لئے عوام کو باخبر بھی ہونا چاہئے۔ سیاست اور عوام دونوں  ایک دوسرے کو اتنا ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں  جتنا فائدہ۔ ماضی میں  فائدہ کا تناسب زیادہ تھا اب نقصان کا تناسب زیادہ ہے۔ جمہوریت میں  اقتدار عوام کا ہوتا ہے، کاغذ کی یہ تحریر تبھی عملی شکل اختیار کرسکتی ہے جب عوام باخبر ہوں ، بیدار ہوں  اور اپنی طاقت کو سمجھیں ۔ جمہوریت تبھی جیتے گی۔ جمہوریت کو سیاستدانوں  پر نہیں  چھوڑا جا سکتا۔ یہ عوام کیلئے ہے مگر ’’عوام کے ذریعہ‘‘ ہے جس کا مطلب محض ووٹ دینا نہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK