الیکشن کمیشن کے طور طریقوں کے خلاف شائع ہونے والی رپورٹوں کے بعد سیاسی جماعتوں کی یوتھ ونگ، طلبہ تنظیموںاور ملک کے عام نوجوانوں میں ایک بار پھر برہمی پیدا ہوئی۔ چند ماہ پہلے اُنہیں پیپر لیک، سرکاری اسامیوں کے پُر نہ کئے جانے اور ہر شعبے میں بے روزگاری کی شکایت تھی۔
الیکشن کمیشن کے طور طریقوں کے خلاف شائع ہونے والی رپورٹوں کے بعد سیاسی جماعتوں کی یوتھ ونگ، طلبہ تنظیموںاور ملک کے عام نوجوانوں میں ایک بار پھر برہمی پیدا ہوئی۔ چند ماہ پہلے اُنہیں پیپر لیک، سرکاری اسامیوں کے پُر نہ کئے جانے اور ہر شعبے میں بے روزگاری کی شکایت تھی۔ اب اُنہیں اُس سے بڑی شکایت ہے کہ اُن کا حق رائے دہی چھینا جارہا ہے۔ اُن کی شکایت اور برہمی کے ازالے کیلئے اُنہیں اعتماد میں لینے کی کوشش ضروری تھی مگر ایسا لگتا ہے کہ جون جولائی کے جنتر منتر سے اہل اقتدار نے کوئی سبق نہیں لیا۔ جمعہ، سنیچر اور اتوار کے مظاہروں کے تئیں حکومت کا رویہ یہی سمجھاتا ہے۔ نوجوانوں کو مظاہرہ سے روکنا اور اُنہیں کھینچ کھینچ کر بسوں میں بھر کر لے جانا مسئلہ کا حل نہیں۔ اس سے اعتماد پیدا ہونے کے بجائے بے اطمینانی بلکہ برہمی بڑھے گی۔ تعجب اس بات پر ہے کہ حکومت کی جانب سے اب تک کوئی ایسا پیغام جاری نہیں ہوا ہے جس میں طلبہ اور نوجوانوں کو مخاطب کرکے اُنہیں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہو کہ حکومت اُن کے مستقبل کیلئے کون سے نئے اور ٹھوس منصوبے جاری کرنے جارہی ہے۔ ہماری رائے میں جب تک اعتماد سازی کی کوشش نہیں ہوگی، مسئلہ کا حل نہیں نکلے گا۔
یہ بھی پڑھئے:بہار میں قانون، سماج اور سیاست کا امتحان!
بات صرف سمجھانے بجھانے اور طلبہ نیز نوجوانوں میں اُمید جگانے کی نہیں ہے، بات قومی معیشت کی بھی ہے۔ سب سے زیادہ نوجوان آبادی کا ملک ہونے کا جو فائدہقومی معیشت کو ملنا چاہئے تھا وہ نہیں مل رہا ہے اور یہ بات کہتے کہتے بھی اب کئی برس بیت چکے ہیں۔ شرح نمو کے اعدادوشمار لبھاؤنے ہوں تب بھی یہی دیکھا جائے گا کہ کتنی انڈسٹریز کو فائدہ پہنچ رہا ہے، کتنی نئی انڈسٹریز کھل رہی ہیں، کتنے نئے شعبوں میں ہمارا فٹ پرنٹ بڑھ رہا ہے اور ہم عالمی مارکیٹ کیلئے کتنے زیادہ پُرکشش بن سکے ہیں۔ محض اعداد وشمار سے ہمارا بیڑا پار نہیں ہوسکتا اور ۲۰۴۷ء تک ترقی یافتہ ملک بننے کے جس خواب کا حکومت پرچار کررہی ہے وہ بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ وہ نوجوان جو آمادۂ احتجاج ہیں، اُن کی بے اطمینانی کو سمجھنا، سمجھ کر پالیسیوں میں ترمیم کرنا اور پالیسیوں کو نتیجہ خیز بنانا اس وقت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ مظاہرین کو بسوں میں بھر کر مظاہرہ گاہوں سے ہٹانے سے کام نہیں چل سکتا۔ بےروزگاری عام ہے اس لئے مظاہرہ گاہیں خاص ہیں۔ آبادی کے جس طبقے کو اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی اداروں، تجربہ گاہوں، صنعتی اکائیوں اور کام کی جگہوں پر ہونا چاہئے تھا اگر وہ مظاہرہ گاہوں میں ہیں یا مظاہرہ گاہوں سے اُٹھنے والی آوازوں کو اپنے احساسات کی ترجمانی سمجھ رہے ہیں تو یہ پالیسیوں کی ناکامی ہے۔ ۱۵؍ سے ۲۹؍ سال کی ۳۷۰؍ ملین آبادی معمولی نہیں ۔ یہ کئی ملکوں کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔ آبادی کا یہ طبقہ بہل تو سکتا ہے مگر لگاتار بہلا رہے یہ ممکن نہیں کیونکہ اس طبقے کے افراد عمر کے جس دور میں ہیں وہ اُن کا سب سے زیادہ پیداواری دور ہے۔ اتنا ہی نہیں، کل کے نوجوانوں کے مقابلے میں یہ نوجوان زیادہ تعلیم یافتہ اور باخبر ہیں۔ اُنہیں یہ بھی علم ہے کہ کیا ہونا چاہئے تھا اور کیا ہورہا ہے۔ اس لئے حکومت کو اپنا طرز عمل بدلنا ہوگا۔ نوجوانوں کو اعتماد میں لے کر ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں ورنہ نہیں۔