جموئی اور سمستی پور کے واقعات کو سیاسی نعروں کی نذر کرنے کے بجائے انہیں ایک انتظامی و سماجی وارننگ کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پولیس نے گرفتاری کی ہے، تحقیقات جاری ہیں، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب آئندہ ایسے واقعات کے امکانات کم ہونگے۔
EPAPER
Updated: September 28, 2026, 3:41 PM IST | Professor Mushtaq Ahmed | Mumbai
جموئی اور سمستی پور کے واقعات کو سیاسی نعروں کی نذر کرنے کے بجائے انہیں ایک انتظامی و سماجی وارننگ کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پولیس نے گرفتاری کی ہے، تحقیقات جاری ہیں، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب آئندہ ایسے واقعات کے امکانات کم ہونگے۔
بہار میں گزشتہ چند دنوں کے دوران لڑکیوں اور کم عمر طالبات کے ساتھ بدسلوکی اور چھیڑخوانی کے متعدد واقعات نے ایک بار پھر خواتین کی سلامتی اور ریاست کے نظم و نسق کو بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ جموئی کا واقعہ اس بحث کا نقطۂ آغاز بنا، لیکن اس کے فوراً بعد سمستی پور، مدھے پورہ، بانکا اور دربھنگہ سے بھی ایسا ہی معاملہ سامنے آنا تشویش میں اضافہ کرتا ہے۔ ایسے واقعات کو محض چند نوجوانوں کی شرارت یا ایک وقتی جرم کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ واقعات اس بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کیا ہماری سڑکیں، تعلیمی راستے اور عوامی مقامات لڑکیوں کیلئے واقعی محفوظ ہیں؟
یہ بھی پڑھئے:اداروں کے نقصان کی تلافی آسان نہیں ہوگی!
واضح ہو کہ ۱۹؍ ستمبر کو جموئی میں ایک کم عمر طالبہ اور اس کے ایک ہم جماعت کو کوچنگ سے واپسی کے دوران مبینہ طور پر نوجوانوں کے ایک گروہ نے روکا۔ واقعے کا ویڈیو بنایا گیا اور بعد میں سوشل میڈیا پر پھیل گیا۔ پولیس نے ویڈیو کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا، خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی اور متعدد ملزمان کو گرفتار کیا۔ بلکہ ایک ملزم کو بھاگتے ہوئے دیکھ کر پولیس نے فائرنگ کی اور اس ملزم کے پاؤں میں گولی لگی جو زیر ِ علاج ہے۔ بعد کی پولیس کارروائی میں مزید گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ اس واقعے کی سنگینی صرف اس لئے نہیں ہے کہ ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی ہوئی، بلکہ اس لئے بھی ہے کہ چند افراد نے اسے ایک طرح کے تماشے میں تبدیل کیا، ویڈیو بنایا اور اسے عام کیا۔ جموئی کے بعد سمستی پور سے سامنے آنے والے واقعے نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا۔ پولیس کے مطابق وہاں بھی ایک لڑکی کو نوجوانوں کے ایک گروہ نے مبینہ طور پر گھیر کر ہراساں کیا اور واقعے کا ویڈیو بنایا گیا۔ ۲۴؍ ستمبر کو پولیس کی جانب سے چار افراد کی گرفتاری کی اطلاع سامنے آئی۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ایک واقعے کے چند ہی دن بعد دوسرے ضلع سے تقریباً اسی نوعیت کا واقعہ سامنے آگیا؟ اس سوال کا جواب جلد بازی میں نہیں دیا جاسکتا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے سے ہونے والے واقعات اب ویڈیوز اور سوشل میڈیا کے باعث زیادہ تیزی سے سامنے آ رہے ہوں۔ اسلئے محض خبروں کی تعداد میں اضافے کو جرم کی حقیقی شرح میں اضافے کے مترادف سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ لیکن جو واقعات سامنے آئے ہیں، ان کی نوعیت اس قدر سنگین ہے کہ انتظامیہ کیلئے انہیں معمول کے جرائم کی فہرست میں رکھنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔ یہ بات بھی تسلیم کی جانی چاہئے کہ جموئی معاملے میں پولیس نے ویڈیو سامنے آنے کے بعد کارروائی کی، ایف آئی آر درج کی، ایس آئی ٹی بنائی اور گرفتاریاں کیں۔ قومی کمیشن برائے خواتین نے بھی معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کی اور متاثرہ خاندان کی سلامتی و قانونی مدد پر زور دیا۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ واقعہ ہونے سے پہلے پولیس اور انتظامیہ نے کیا کیا؟ قانون کی حکمرانی کا اصل امتحان اسی مقام پر ہوتا ہے۔ جرم ہو جانے کے بعد گرفتاری ضروری ہے، مگر ایک ایسا ماحول پیدا کرنا جہاں مجرم کو یقین ہو کہ وہ بچ نہیں سکتا، اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
جموئی کے واقعے کے بعد سیاسی بیان بازی بھی تیز ہوئی ہے۔ اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے حکومت کو قانون و نظم کے مسئلے پر گھیرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ حکومتی حلقوں نے کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے سخت قدم اٹھانے کی بات کہی ہے۔ یہ جمہوریت میں فطری عمل ہے۔ اپوزیشن کا کام حکومت سے سوال پوچھنا ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سوالات کا جواب انتظامی کارکردگی سے دے۔ لیکن خواتین کے خلاف جرائم کو صرف سیاسی ہتھیار بنا دینا بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ یہاں سیاست سے زیادہ پالیسی اور انتظامیہ کی ضرورت ہے۔ اگر اپوزیشن یہ سوال اٹھاتی ہے کہ ریاست میں خواتین محفوظ ہیں یا نہیں، تو حکومت کو اعداد و شمار، پولیس کی موجودگی، تفتیش کی رفتار، مقدمات کی پیش رفت اور سزا کی شرح کے ساتھ جواب دینا چاہئے۔ اسی طرح حکومت اگر کہتی ہے کہ اس نے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے تو اسے یہ بھی بتانا چاہئے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے طویل مدتی منصوبہ کیا ہے۔ صرف یہ کہنا کہ ’’ملزمان کو بخشا نہیں جائیگا‘‘ کافی نہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’ایک سونی ناؤ ‘‘ کیسے اور کہاں مل گئی
جموئی کے واقعے کا ایک انتہائی اہم پہلو ویڈیو کا وائرل ہونا ہے۔ پولیس نے ویڈیو کی گردش روکنے اور اسے ہٹانے کیلئے بھی کارروائی کی ہے۔ یہ ایک نہایت ضروری قدم ہے۔ کسی متاثرہ کم عمر لڑکی کی ویڈیو کو بار بار شیئر کرنا، خواہ مقصد ’انصاف کیلئے آواز اٹھانا‘ ہی کیوں نہ ہو، اس کی تکلیف میں اضافہ کرسکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں ہر شہری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی جرم کا ویڈیو اور متاثرہ شخص کی شناخت کو عام کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کو جرم کی اطلاع دینے اور متاثرہ شخص کی عزت محفوظ رکھنے کے درمیان فرق سمجھنا ہوگا۔ سمراٹ چودھری کی قیادت والی بہار حکومت کے سامنے اس وقت اصل چیلنج سیاسی دفاع نہیں بلکہ انتظامی اعتماد بحال کرنا ہے۔ ایک واقعے کے بعد گرفتاری حکومت کی فوری ذمہ داری ہے، متعدد علاقوں میں خواتین کے تحفظ کے بارے میں اعتماد پیدا کرنا اس کی بڑی ذمہ داری ہے۔ اس کیلئے چند اقدامات پر سنجیدگی سے غور کیا جاسکتا ہے۔ اسکول اور کوچنگ جانے والی طالبات کے راستوں پر مؤثر گشت، حساس مقامات کی نشاندہی، شام کے اوقات میں پولیس پٹرولنگ، خواتین سے متعلق شکایات کیلئے فوری رسپانس نظام، تعلیمی اداروں میں صنفی حساسیت کی تربیت، اور ایسے مقدمات کی تیز رفتار تفتیش و قانونی پیروی۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پولیس صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہے۔
بہار نے تعلیم، روزگار اور ترقی کے میدان میں آگے بڑھنے کے بہت سے خواب دیکھے ہیں۔ لیکن ترقی کی حقیقی پیمائش صرف سڑک، پل، عمارت یا صنعتی منصوبے سے نہیں ہوتی۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ایک طالبہ شام کو کوچنگ سے گھر واپس آتے ہوئے خود کو کتنا محفوظ محسوس کرتی ہے۔ جموئی اور سمستی پور کے واقعات کو سیاسی نعروں کی نذر کرنے کے بجائے انہیں ایک انتظامی و سماجی وارننگ کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پولیس نے گرفتاری کی ہے، تحقیقات جاری ہیں، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب آئندہ ایسے واقعات کے امکانات کم ہوں گے۔ حکومت کیلئے یہ وقت دفاعی بیان دینے سے زیادہ اعتماد پیدا کرنے کا ہے، اپوزیشن کیلئے محض الزام لگانے سے زیادہ قابلِ عمل تجاویز پیش کرنے کا، اور سماج کیلئے تماشائی بننے کے بجائے ذمہ دار شہری بننے کا۔ آخرکار کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہاں طاقتور کتنا محفوظ ہے، اس سے نہیں، بلکہ اس بات سے کہ وہاں کمزور، خاص طور پر ایک طالبہ، کتنی بے خوف ہو کر سڑک پر چل سکتی ہے۔