’’ایک سال سونا مت خریدیئے‘‘ کی اپیل پر کتنے لوگ رُک جائیں گے اور سونا نہیں خریدیں گے؟
نریندر مودی۔ تصویر:آئی این این
’’ایک سال سونا مت خریدیئے‘‘ کی اپیل پر کتنے لوگ رُک جائیں گے اور سونا نہیں خریدیں گے؟ جو لوگ برسوں سے بی جے پی سے وابستہ ہیں، اس کے نظریہ پر یقین رکھتے ہیں، ہر الیکشن میں اس کو ووٹ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ موجودہ دور میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ملک اور اس کے عوام کیلئے مفید ہے، وہ بھی وزیر اعظم کی اپیل پر عمل کرلیں تو ہم مان لیں گے کہ اس کا کچھ اثر ہوا۔ اسلئے کہ ہمارے ملک کے ایک طبقہ میں سونے کے بھاری بھرکم زیورات کے بغیر شادی اتنی ہی ادھوری مانی جاتی ہے جتنی جہیز اور ڈھیروں پُرتکلف لوازمات کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہے۔ بی جے پی کو جن سنگھ کے دور سے جاننے والے توثیق کرینگے کہ پارٹی نے ہمیشہ سودیشی کو موضوع بنایا مگر ہر دور میں سونا بڑی مقدار میں درآمد ہوتا رہا اور سودیشی کے پرچم برداروں کو کبھی بُرا نہیں لگا۔ اگر یہ لوگ گاندھی کے سودیشی کی روح کو سمجھتے تو ان کا سودیشی محض نعرہ نہ رہ جاتا۔ حد تو یہ ہے کہ سودیشی ہی کو نئے نئے ناموں مثلا ’’میک ان انڈیا‘‘ سے متعارف کرنے کی مہم بھی اس لئے ناکام ہوئی کہ سیاسی عزم اور سیاسی نعرہ میں فرق ہے۔ ہر سال ۷۔۸؍ سو ٹن سونا درآمد کرنے والے ملک ہندوستان کے وزیراعظم کو سونے کے خلاف بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا سودیشی کا سیاسی نعرہ سیاسی نظریہ بن گیا؟ نہیں۔ وزیراعظم نے خود کہہ دیا ہے کہ مغربی ایشیا کے حالات کی وجہ سے عالمی بحران کا سامنا ہے اس لئے وسائل کا منصفانہ استعمال ضروری ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اب بھی سودیشی کو تقویت دینا مقصد نہیں۔ مقصد وقتی ہے کہ ایران جنگ سے پیدا شدہ حالات قابو میں آنے تک (بقول وزیراعظم ایک سال) محتاط روی اور اعتدال پسندی ضروری ہے۔ معلوم ہوا کہ ۹۰؍ فیصد درآمد پر ہماری ’’نربھرتا‘‘ سے حکومت کا کچھ لینا دینا نہیں۔ اس کا لینا دینا وقتی حالات سے ہے۔
بطور اُصول، شادی بیاہ کے طور طریقے اور ترجیحات میں اصلاح ہو اور ا س کے سبب سونے کی درآمد ۲۵؍ فیصد بھی کم ہوجائے تو اس سے ملک کی معیشت کا کافی بھلا ہو۔ یہ نسخہ مستقل معاشی فائدہ کا سبب بن سکتا ہے مگر شاید ہم کچھ زیادہ توقع کررہے ہیں، ہم کو ’’وقتی معاشی اصلاح‘‘ اور ’’مستقل سماجی اصلاح‘‘ کا فرق سمجھنا چاہئے۔ وزیراعظم کی اپیل اول الذکر مقصد کے تحت ہے، اس کا آخر الذکر سے بالکل واسطہ نہیں۔ مشکل یہ ہے کہ جس معاشی نظریہ سے کئی خرابیوں کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے اس کی اہمیت کو سمجھنے کی روادار نہ تو سابقہ حکومت تھی نہ ہی موجودہ حکومت ہے۔ موجودہ حکومت اب تک یہ باور کرانے پر تلی ہوئی تھی کہ اس نے قومی معیشت میں چار چاند لگا دیئے ہیں۔ ہوسکتا ہے لگائے ہوں اور یہ ہماری نگاہ کا قصور ہو کہ ہم انہیں دیکھ نہیں پا رہے ہیں مگر جب چار چاند لگ چکے ہیں تو عوام سے کیوں کہا جا رہا ہے کہ سونا مت خریدیئے، بیرونی ملکوں کا سفر مت کیجئے وغیرہ۔ جو معیشت اعتدال میں ہوتی ہے، وہ عوام کی بے اعتدالیوں کو جھیل جاتی ہے۔ عوام کو ان کی بے اعتدالیوں کے خلاف متنبہ کرنے کا معنی یہ اعتراف کرنا ہے کہ معیشت اعتدال میں نہیں ہے۔ اس کا معنی یہ بھی ہے کہ جب یہ اعتدال کی حدوں میں واپس آجائیگی تب کسی بھی طرح کی بے اعتدالی پر حسب سابق روک ٹوک نہیں ہوگی۔ یہاں یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ بے اعتدالی سماج کے کس خاص طبقے کی عادت ہے۔ اہل اقتدار اس طبقے کے ناز اُٹھاتے ہیں۔ تو پھر اعتدال کی تلقین کس کو کی گئی اور کیوں کی گئی ہے؟